مبینہ جعلی پولیس مقابلہ،دو انسپکٹر چار روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

مبینہ جعلی پولیس مقابلہ،دو انسپکٹر چار روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

قصور(بیورورپورٹ)سول جج شاہد قیوم نے مبینہ پولیس مقابلہ میں بے گناہ نوجوان کو ہلاک کرنے والے دو پولیس انسپکٹروں کو چار روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالہ کر دیا۔تفصیلات کے مطابق کچھ عرصہ قبل معصوم ایمان فاطمہ کو بداخلاقی کانشانہ بنا کر قتل کردیا گیا تھا۔ جس کے الزام میں مدثر کو پولیس نے حراست میں لے کر مبینہ پولیس مقابلہ میں پار کر دیا تھا ۔بے گناہ مارے جانے والے مدثر کے اہلخانہ نے انصاف کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکٹھایا جن کو انصاف کی فراہمی کے لیے جے آئی ٹی بنا دی گئی ۔جے آئی ٹی نے دیگر پولیس افسران سمیت پولیس انسپکٹر محمدیونس ڈوگر، پولیس انسپکٹر ریاض عباس کو حراست میں لیا لیا گیا تھا گذشتہ روز جے آئی ٹی نے دونوں پولیس انسپکٹروں کو عدالت میں پیش کیا۔ تفتیشی افسر نے مزید تفتیش کرنے کے لیے عدالت سے چار روزہ ریمانڈ کی استدعا کی تھی جسے عدالت نے منظورکرتے ہوئے پولیس انسپکٹر محمدیونس ڈوگر ،پولیس انسپکٹر ریاض عباس کا چار روزہ ریمانڈ دے کر انہیں پولیس کے حوالے کر دیا۔دریں اثناوزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم پر کمسن لڑکے سے کام کروانے والے بھٹہ مالک کے خلاف اسسٹنٹ کمشنر کی مدعیت میں تھانہ مصطفی آبادنے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب ،قصور میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں سی ٹی سکین مشین کے افتتاح اور معصوم بچیوں کے لواحقین سے ملاقات کے بعد واپسی پر بھلو کے قریب کمسن لڑکے کو بھٹہ پر کام کرتے دیکھ کر اپنا ہیلی کاپٹر اتار لیا۔ بچے کے ہاتھوں میں کتاب کی بجائے گندگی دیکھ کر ضلعی انتظامیہ پر برہم ہوئے اور بھٹہ مالک محمداشرف بھٹی کو گرفتار کروادیا ۔ اسسٹنٹ کمشنر امتیازاحمدکھچی کی مدعیت میں تھانہ مصطفی آباد میں کمسن بچے ساحل مسیح سے بھٹہ پر کام کروانے کے جرم میں بھٹہ مالک محمداشرف بھٹی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

مزید : صفحہ آخر