وکلاء سے ذاتی اختلاف نہیں، بار اور بنچ کو پیشہ ورانہ رویہ اپنانا ہو گا: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

وکلاء سے ذاتی اختلاف نہیں، بار اور بنچ کو پیشہ ورانہ رویہ اپنانا ہو گا: چیف ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )سپریم کورٹ میں بطور جج نامزد ہونے والے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ وکلا ء سے کوئی ذاتی اختلاف نہیں بار اور بنچ کو پیشہ وارانہ رویوں کو اپنانا ہو گا۔اپنے اعزاز میں ہونے والے فل کورٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ انہوں نے بطور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ حلف لینے کے بعد تین چیزوں کو اہمیت دی جن میں ادارے کی ترقی و اصلاحات، ادارے کی آزاد ی اور خودمختاری و وقار کو برقرار رکھنا شامل ہے۔ پنجاب حکومت کے ادارے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن کے دور میں لاہور ہائی کورٹ کو ایک انٹرپرائز آئی ٹی سسٹم کی فراہمی کی پیش کش کر رکھی تھی ، ہم نے اس پیش کش کو قبول کیااور اس کام کا آغازہوا، انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں انٹرپرائز سسٹم کی انسٹالیشن کیلئے پنجاب حکومت نے 38کروڑ روپے کا کنٹریکٹ ٹیک لاجکس نامی کمپنی سے کیا اور کچھ عناصر کی جانب سے افواہیں پھیلائی گئیں کہ مذکورہ پراجیکٹ کا ٹھیکہ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کے خاندان کے کسی فرد کو ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انٹرپرائز آئی ٹی سسٹم کی انسٹالیشن میں لاہورہائی کورٹ کا کوئی کردار نہیں رہا، کنسلٹنسی سے لیکر انسٹالیشن تک کے تمام مراحل پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی جانب سے مکمل کئے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی عدلیہ میں انٹرپرائز سسٹم کی فراہمی کیلئے تقریباََ تین ارب روپے کا پراجیکٹ بھی منظوری کے مراحل میں ہے۔ فاضل چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جب بھی کسی ادارے میں تبدیلی میں آتی ہے تو وہاں موجود مافیا کیلئے اسکو برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے اور وہ اس تبدیلی کے خلافمزاحمت کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی ٹی سسٹم کے نفاذ میں ورلڈ بنک کا کسی بھی قسم کا کوئی کردار نہیں ہے۔ ورلڈ بنک کے تعاون سے لاہور میں پہلا اے ڈی آر سنٹر قائم کیا جارہا ہے، مذکورہ اے ڈی آر سنٹر144 ملین روپے سے شروع کیا جاچکا ہے جو جلد مکمل ہو جائے گا۔نامزد چیف جسٹس محمد یاور علی نے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کے اعزاز میں ریفرینس پڑھتے ہوئے کہا کہ جسٹس سید منصورعلی شاہ کے ساتھ تعلق زمانہ طالبعلمی سے ہے، ہم دونوں کے والد بہترین دوست تھے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں سید منصور علی شاہ کا جونیئر ہونا کسی اعزاز سے کم نہیں رہا۔بطور جج جسٹس منصور علی شاہ نے بہت جاندار فیصلے کئے جو سالہاسال یاد رکھے جائیں گے۔بعد ازاں نامزد چیف جسٹس محمد یاور علی نے دیگر فاضل جج کے ہمراہ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کو گلدستہ پیش کر کے رخصت کیا۔

مزید : صفحہ آخر