چیف جسٹس کی حکام کو انسانی سمگلنگ کا معاملہ مل بیٹھ کر حل کرنے کی ہدایت

چیف جسٹس کی حکام کو انسانی سمگلنگ کا معاملہ مل بیٹھ کر حل کرنے کی ہدایت

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے انسانی اسمگلنگ کا معاملہ حکام کو مل بیٹھ کر حل کرنے کی ہدایت کی ہے۔انسانی اسمگلنگ سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران عدالت کے طلب کیے جانے پر سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور سیکرٹری داخلہ بھی پیش ہوئے۔ عدالت نے وقت نکال کر آنے پر تہمینہ جنجوعہ کا شکریہ ادا کیا جب کہ اس موقع پرانہوں نے عدالت کو بتایا کہ انسانی اسمگلنگ میں مافیاز کا ہاتھ ہے، منڈی بہاؤالدین، کھاریاں، گجرات، سیالکوٹ، جہلم متاثرہ علاقے ہیں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہا جاتا ہے ازخود نوٹس ہمارا اچھا اقدام نہیں، انسانی اسمگلنگ کے معاملے پر حکام کو خود کام کرنا چاہیے تھا ہم نے نوٹس لے کر غلطی کی ہے اور میں ویسے ہی آپ سے یہ بات شیئر کر رہا ہوں۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ کہا جاتا ہے کہ حکومتی معاملات میں مداخلت ہوتی ہے جب کہ ہم نے ازخود نوٹس کے اختیار میں یہ کیس لگایا ہے۔چیف جسٹس نے بلوچستان سے انسانی اسمگلنگ اور لیبیا میں کشتی ڈوبنے پر بھی سوال اٹھائے۔سپریم کورٹ نے سماعت 12 فروری تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔وقفے سے قبل چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ گجرات، لالہ موسیٰ، سرائے عالمگیر اور منڈی بہاؤالدین میں انسانی اسمگلنگ کا کام ہوتا ہے، لوگ کہاں کہاں سے پیسہ لے کر بچوں کو بیرون ملک بھیجتے ہیں لیکن اب انسانی اسمگلنگ کا ناسور ختم کرنا ہے۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کو حکم دیں گے کہ ایف آئی اے کو گجرانوالہ اور گجرات آفس میں سہولیات دیں۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...