کرپشن کے میگا سکینڈلز نیب اور اینٹی کرپشن آمنے سامنے، سرد جنگ میں شدت آگئی

کرپشن کے میگا سکینڈلز نیب اور اینٹی کرپشن آمنے سامنے، سرد جنگ میں شدت آگئی

ملتان( نمائندہ خصوصی ) پنجاب میں کرپشن کے میگا سکینڈلز سامنے آنے کے بعد نیب پاکستان اور انٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ پنجاب میں شروع ہونیوالی سرد جنگ نے عروج پکڑنا شروع کردیا‘ سب سے پہلے انٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ پنجاب نے پنجاب (بقیہ نمبر31صفحہ12پر )

کمپنیز سکینڈل میں چیئرمین نیب کے کو ٹف ٹائم دیا ‘ اب ڈی جی نیب پنجاب کانسٹیبلری ملتان بٹالین تھری کے مقدمہ میں خم ٹھونک کر میدان میں آگئے ‘ ڈی جی نیب نے سپیشل جج انٹی کرپشن کورٹ ملتان کے احکامات کو عدالت عالیہ میں چیلنج کرنے کیلئے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سے مشاورت مکمل کرلی ‘ دو احتسابی اداروں میں ذاتی انا کی تسکین کیلئے جاری جنگ میں جہاں پنجاب کانسٹیبلری ملتان بٹالین تھری سکینڈل کے ملزمان نے سکھ کی سانس لی ہے وہیں 23 کروڑ روپے سے زائد خورد برد کی گئی سرکاری رقم کی ریکوری التواء کا شکار ہوگئی ۔ معلوم ہوا ہے سپیشل جج انٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ ملتان نے نیب آرڈیننس 1999 کی شق 16A کے تحت پنجاب کانسٹیبلری ملتان بٹالین تھری میں 23 کروڑ روسے سے زائد مالیت کے سکینڈل کا ضمنی چالان احتساب عدالت ملتان کو منتقل کردیا ہے ۔ انٹی کرپشن کورٹ کے فیصلہ کے بعد پنجاب کانسٹیبلری ملتان سکینڈل کے مقدمہ کی نوعیت تبدیل ہوکر رو گئی ‘ نیب ملتان کی ٹیم نے عدالت سے ریکارڈ تو حاصل کر لیا لیکن انٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ ملتان کی تفتیشی ٹیم سے ریکارڈ حاصل نہ کر سکی ۔ معلوم ہوا ہے سپیشل جج انٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ کے احکامات کے بارے میں ریجنل ڈائریکٹوریٹ کو 2 دن بعد اطلاع ملی ‘ دریں اثناء سپیشل جج انٹی کرپشن کورٹ کے فیصلہ کے بعد عدالت عالیہ ملتان بنچ نے مدثر دریشک اور طاہر بخاری کو اپنی عبوری ضمانت کی درخواستیں واپس لینے کا کہا اور نیب کو ایک ہفتہ تک دونوں ملزمان کی گرفتاری سے روک دیا اور ملزمان کو عبوری ضمانت کیلئے نئی درخواستیں دائر کرنے کے احکامات جاری کیے ۔ جب اس صورتحال کا ڈی جی انٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ پنجاب بریگیڈئر ’ر‘ مظفر علی رانجھا کو علم ہوا تو انہوں نے تفتیشی ٹیم کو جھاڑ پلا دی اور انسداد رشوت ستانی کی خصوصی عدالت کے فیصلہ کا ریکارڈ طلب کیا۔ بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتہ کے دوران انٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ پنجاب کے صوبائی ہیڈ کوارٹر کی لیگل اور پراسیکیوٹر ٹیم نیب آرڈیننس کی شق 16A پر مشاورت کرتے رہے ۔ 2 روز مشاورت کے بعد ڈی جی انٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ پنجاب کو سپیشل جج انٹی کرپشن کورٹ ملتان کے احکامات عدالت عالیہ میں چیلنج کرنے کی تجویز دی اس تجویز کی روشنی میں پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سے بھی مشاورت کی گئی ‘ جنہوں نے سپیشل جج انٹی کرپشن کے احکامات کو چیلنج کرنے کا مشورہ دیا ۔ بتایا گیا ہے انٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ پنجاب کی جانب سے رواں ہفتہ کے دوران ملتان بنچ میں اپیل دائر کردی جائیگی ۔ اس ساری صورتحال کا فائدہ صرف اورصرف ملزمان کو ہورہا ہے ‘ جبکہ 23 کروڑ روپے کی خورد برد کی سرکاری رقم کی برآمدگی پر بھی سوالات کھڑے ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

مزید : ملتان صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...