ایبٹ آباد میں واپڈا ایکسین قتل کیس میں صوبائی حکومت سے جواب طلب

ایبٹ آباد میں واپڈا ایکسین قتل کیس میں صوبائی حکومت سے جواب طلب

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس چیف جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس قلندرعلی خان پرمشتمل بنچ نے ایبٹ آباد میں واپڈاکے ایکسئین قتل کیس ملٹری کورٹ بھجوانے کے خلاف دائررٹ پرصوبائی حکومت کوجواب داخل کرنے کے احکامات جاری کردئیے ہیں جبکہ وفاق نے عدالت میں جواب داخل کردیاہے فاضل بنچ نے مسما ۃ نسیم اختر اورفریدون کی جانب سے دائررٹ کی سماعت شروع کی تو اس موقع پر عدالت کوبتایاگیاکہ 10دسمبر2016ء کو پولیس سٹیشن سی ٹی ڈی ایبٹ آباد کی حدود میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے کوہاٹ میں تعینات ایکسئین واپڈایوسف حسین کوقتل کردیاتھااورموقع سے فرارہوگئے تھے جس پرمقتول کی اہلیہ زہرہ بی بی کی مدعیت میں مقدمہ درج کیاگیاانہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس حوالے سے کیس وہاں کی انسداددہشت گردی کی عدالت میں چل رہاتھاکیونکہ جے آئی ٹی کو بتایاگیاتھاکہ اس کیس میں چارملزم نامزدتھے جن میں مصطفے اورتیموروغیرہ شامل تھے تاہم جائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے 24ٗ ا پریل2017ء کو مذکورہ کیس میں بعض اہم حقائق آنے پرمقدمے کوملٹری کورٹ بھجوانے کی سفارش کی جس کی روشنی میں ہوم ڈیپارٹمنٹ نے مذکورہ کیس کو ملٹری کورٹ بھجوادیاعدالت کو بتایاگیاکہ یہ ایک عام نوعیت کامقدمہ تھاجسے لسانیت کارنگ دے کرملٹری کورٹ بھجوایاگیادونوں ملزم ایف آئی آرمیں نامزد ہی نہ تھے لہذایہ اقدام غیرقانونی ہے اورکیس کو انسداددہشت گردی کی عدالت ہی میں چلایاجائے کیونکہ اس مقدمے کاتعلق ریاست مخالف سرگرمیوں سے نہیں ہے اس موقع پر ڈپٹی ٹارنی جنرل اصغرکنڈی نے عدالت کو بتایاکہ مقدمے کو ملٹری کورٹ بھجوانے یاواپس کرنے کااختیارصوبائی حکومت کاہے کیونکہ محکمہ داخلہ مقدمات ملٹری کورٹ بھجواتی ہے جس کے لئے اعلی سطحی کمیٹی قائم ہے جس پرعدالت نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل قیصرعلی شاہ کو 14فروری سے قبل جواب داخل کرنے کے احکامات جاری کردئیے ۔

Ba

مزید : پشاورصفحہ آخر