صوبہ بھر میں ورکنگ فوکس گرائمر سکولز کا تعلیمی معیار قابل افسوس ہے ،محمد اقبال

صوبہ بھر میں ورکنگ فوکس گرائمر سکولز کا تعلیمی معیار قابل افسوس ہے ،محمد ...

نوشہرہ(بیورورپورٹ) خیبرپختونخوا کی محنت کش تنظیموں نے ورکرز ویلفیئر بورڈ کے زیراہتمام چلنے والے ورکنگ فوکس گرائمر سکولز کی تعلیمی معیار کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ورکنگ فوکس گرائمر سکولز کا صوبہ بھر میں تعلیمی معیار قابل افسوس اور باعث شرم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر ایک ماہ کے اندر سکولوں کی حالت زار بہتر نہ بنایا گیا تو صوبہ بھر کے مزدور اپنے بچوں کو اسی سکولوں سے نکال کر دوسرے سکولوں میں داخل کرانے پر مجبور ہوجائیں گے جس طلباء وطالبات کا تعلیمی سال ضائع ہونے کا اندیشہ ہے سالانہ 2 ارب پچاس کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ کرنے کے باوجود مزدوروں کے بچوں کا تعلیمی مستقبل تباہی کے دہانے پر لا کھڑا ہوگیا مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں ورکر ویلفیئر بورڈ اور صوبہ بھر میں ورکنگ فوکس گرائمر سکولز کو تالے لگا کر مزدور خیبرپختونخوا اور اسلام آباد میں دھرنا دینے پر مجبور ہوجائیں گے ان خیالات کااظہار متحدہ لیبر فیڈریشن کے صوبائی صدر محمداقبال، محنت کش لیبر فیڈریشن کے صوبائی صدر شیرزادہ خان، پاکستان ورکرز فیڈریشن کے صوبائی صدر راظیم خان نے نوشہرہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر دیگر مزدور رہنما لیاقت باچا، فقیر حسین لالا، امداد حسین پراچہ، سرتاج خان، اجملی خان، صاحبزادہ نصیر خان بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ ورکزر ویلفیئر بورڈ کے زیر سایہ چلنے والے ورکنگ فوکس گرامر سکولز میں مزدوروں کے ہزاروں پڑھنے والے بچوں کا تعلیمی حال اور مستقبل تباہی سے دوچار ہے۔ عرصہ تین سالوں میں ان اداروں سے پڑھائی نہ ہونے کے باعث مزدوروں کو اپنے بچے ورکنگ فوکس سکولز سے نکالنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ عرصہ تین سالوں سے 22 ہزار بچوں سے تعداد کم ہو کر 14 ہزار رہ گئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ سکولوں میں پڑھائی نہ ہونا ہے۔ ورکنگ فوکس گرامر سکولز میں بیسیوں خودساختہ یونینز ہیں اور ان خودساختہ غیرقانونی یونینز میں سینکڑوں ملازمین اپنے آپ کو عہدیدار ظاہر کرتے ہیں جو ڈیوٹی بالکل نہیں کرتے۔ سال بھر کنٹریکٹ میں توسیع اور تنخواہوں کے لیے دھرنوں اور ہڑتالوں پر رہتے ہیں۔ حالانکہ ان کو معلوم ہے کہ تنخواہیں ریلیز کرنا وفاقی حکومت کا کام ہے۔ کیونکہ یہ ادارے وفاق کے زیر انتظام چل رہے ہیں۔ اور ان کو فنڈز بھی وفاق ہی جاری کرتا ہے۔ مگر اس کے باوجود یہ خودساختہ یونینز والے اپنی سیاسی دکانداری کو چمکانے کی خاطر خیبرپختونخوا میں اپنی غیرقانونی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جس کی وجہ سے مزدوروں کے بچوں کی تعلیم شدید متاثر ہو رہی ہے۔ اور ان سکولوں سے مزدور اپنے بچوں کو نکالنے پر مجبور ہیں۔ ورکرز ویلفیئر بورڈ خیبرپختونخوا کی تباہ حالی کو بہتر کرنے اور ان غیرقانونی سرگرمیوں پر قابو پانے میں ورکرز ویلفیئر بورڈ کی نااہل انتظامیہ بالکل ناکام نظر آرہی ہے۔ حالانکہ ان سکولوں پر سالانہ 2 ارب 50 کروڑ روپے کی خطیر رقم کا خرچہ آرہا ہے۔ اور ایک بچے کے اوپر ماہانہ تقریباً ۔/17،000 روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ مگر اس کے باوجود مزدوروں کے بچوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے، وہ قابلِ افسوس اور باعث شرم ہے۔ ان سکولوں میں اب اساتذہ ڈیوٹی دینے میں شرم محسوس کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ اساتذہ تو کیا کلاس فور ملازمین بھی اپنے بچوں کو ان سکولوں میں داخل کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ کیونکہ اْن کو معلوم ہے کہ ان میں پڑھائی سرے سے ہو ہی نہیں رہی بورڈ انتظامیہ یہاں تک نااہل اور مفلوج ہے کہ مزدوروں کے نمائندہ وفد کے ساتھ ملاقات میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ورکنگ فوکس گرامر سکولز سسٹم کو بہتر کرنے کی غرض سے مانیٹرنگ گورنمنٹ خیبرپختونخوا ایجوکیشن کو سپرد کرنے اور سکولوں میں حاضری کو یقینی بنانے کیلئے عرصہ چار ماہ قبل بائیومیٹرک سسٹم متعارف کرانے کی ہدایت دی تھی مگر بورڈ انتظامیہ اور ورکنگ فوکس گرامر سکولز کی ڈائریکٹوریٹ نے تاحال یہ اقدامات نہیں اٹھائے اور نہ ہی بہتری کے ان اقدامات میں ان کو کوئی دلچسپی ہے ایسے میں صوبہ بھر کے مزدوروں اور مزدور تنظیموں متحدہ لیبر فیڈریشن، محنت کش لیبر فیڈریشن، پاکستان ورکرز فیڈریشن نے فیصلہ کیا ہے کہ متعلقہ اداروں کو درجہ ذیل مطالبات پیش کیے جائیں۔ دیگر صورت صوبہ بھر کے مزدور سراپا احتجاج ہونے پر مجبور ہونگے۔ متعلقہ حکام سے اْمید کی جاتی ہے کہ اس سنگین صورت حال کا فوری نوٹس لے کر درجہ ذیل سفارشات کو فوری اور حتمی شکل دینے میں معاونت فرمائینگے۔ جو مزدوروں اور مزدوروں کے بچوں پر ایک بڑا احسان ہوگایہ کہ، یا تو ورکرز ویلفیئر بورڈ کے زیرسایہ چلنے والے ورکنگ فوکس گرامر سکولز میں خودساختہ اور غیرقانونی تمام یونینز اور اْن کی غیرقانونی سرگرمیوں، دھرنوں اور ہڑتالوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ ان اساتذہ کو ڈیوٹی کا پابند بنایا جائے۔ حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک سسٹم جو کہ پہلے سے موجود ہے، نصب کیا جائے۔ ان اساتذہ کے کنٹریکٹ میں توسیع اور ترقیاں school۔wise اچھی کارکردگی سے منسلک کیا جائے۔ ان سکولز میں مانیٹرنگ اور کارکردگی کو بہتر کرنے کیلئے، مانیٹرنگ کا کام وزیر اعلیٰ کی ہدایت کے مطابق صوبائی ایجوکیشن محکمہ کی مانیٹرنگ ٹیم کے سپرد کیا جائے۔ اور تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیںیا۔۔۔ اگر مذکورہ بالا تجویز پر فوری عمل درآمد نہیں کرایا جاتا تو صوبہ بھر کے مزدوروں کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ورکنگ فوکس گرامرسکولوں سے رواں تعلیمی سال سے اٹھا لینگے اور آئندہ کوئی ایڈمیشن ورکنگ فوکس گرامر سکول میں نہیں کرائیں گے۔ سکول اور کالج لیول پر مزدوروں کا یہ مطالبہ ہے کہ جو اس وقت فی طالب علم ماہانہ17ہزار روپے سے زیادہ کا خرچہ ملازمین کی تنخواہوں و دیگر سہولیات کی مد میں آرہا ہے، اس میں سے 10ہزار روپے فی طالب علم ماہانہ مزدوروں کو دیا جائے۔ اس سے ایک طرف تو وہ اپنے بچوں کو اس رقم میں معیاری تعلیم دلوانے کے قابل ہوجائیں گے۔ اور دوسری طرف ورکرز ویلفیئر فنڈ کو ایک ارب 22 کروڑ روپے سے زیادہ کی بچت بھی ہوجائیگی غور طلب بات یہ ہے کہ دو ارب 50 کروڑ روپے میں، ایک ارب 92 کروڑ روپے تنخواہوں کی مد میں جاتے ہیں۔ جبکہ میڈیکل سہولیات اور بِلاسود قرضہ جات ان کے علاوہ ہیں۔ بچوں کی کتابوں، یونیفارم، ٹرانسپورٹ پر 50 کروڑ روپے سالانہ خرچ ہو رہے ہیں۔ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ 14 ہزار سے بھی کم بچوں کے لیے دو ہزار سے زائد اساتذہ اور 16 سو سے زیادہ دیگر سٹاف رکھا گیا ہے۔جو ظلم کی انتہا ہے مگر اس کے باوجود یہ ادارے اور بچوں کی تعلیم تباہ و برباد ہے۔ یہ ظلم مزید برداشت سے باہر ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر