سینیٹ انتخابات:ایم کیو ایم رہنمادست وگریباں

سینیٹ انتخابات:ایم کیو ایم رہنمادست وگریباں

تجزیہ:کامران چوہان

22اگست کے بعد شروع ہونے والا ایم کیو ایم کے زوال کا سفر کا بتدریج اپنے منطقی کی جانب بڑھ رہا ہے ۔ایم کیو ایم (لندن)،متحدہپاکستان اور پی ایس پی میں تقسیم ہونے کے بعد اب بات ’’پی آئی بی‘‘ اور’’ بہادرآباد‘‘ تک جا پہنچی ہے ۔روٹھنے اور منانے کا عمل ایم کیو ایم کی سیاسی روایت رہی ہے ۔بانی ہوں یا نئے سربراہ فاروق ستار یہ ایم کیو ایم کے لیے نئی بات نہیں ہے ۔سینیٹ کے انتخابات کے لیے کامران ٹیسوری کو ٹکٹ دینے کا معاملہ اتنا طول پکڑ گیا کہ بات تلخ کلامی سے ہاتھا پائی تک جاپہنچی ۔ایم کیو ایم جس کو کبھی ڈسپلن کے حوالے سے جانا جاتا تھا اب تتر بتر نظر�آتی ہے ۔فاروق ستار کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ معاملہ صرف سینیٹ کے ٹکٹ کا نہیں ہے ۔پارٹی اختلافات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ پارٹی کے کچھ رہنما فاروق ستار کی قیادت کوبھی تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ منحرف ہونے والے رہنماؤں کو کاؤنٹرکرنے کیلئے فاروق ستار نے ’’آفاق بھائی‘‘ کو آواز دے کر ’’ترپ‘‘ کا پتہ پھینک دیا ہے ۔فاروق ستار ’’قوم‘‘ کو بچانے کے لیے صرف آفا ق احمد ہی نہیں بلکہ پی ایس پی سے بھی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں ۔دوسری جانب بہادرآباد گروپ کو ’’سینئرز کی پارٹی‘‘ کہا جاسکتا ہے ۔خالد مقبول صدیقی ہوں یا نسرین جلیل ،کنور نوید جمیل یا امین الحق یہ سب تین دہائیوں سے پارٹی سے جڑے ہوئے ہیں اس لئے فاروق ستار کے لئے ’’بھائی ‘‘جیسا قائد بننامشکل امر ہے ۔اپنے بانی سے منحرف ہونے بعد سیاسی منظرنامے پرابھرنے والی جماعت متحدہ پاکستان اوائل میں ہی اختلافات کاشکار ہوگئی تھی۔پارٹی میں گروپس کی بازگشت تھی مگرگروپنگ کی بات صرف افواہوں تک ہی محدود تھی ۔اب صورتحال یکسرمختلف ہے۔متحدہ پاکستان میں بظاہر پی آئی بی اور بہادرآباد گروپ آمنے سامنے ہیں مگریہ صرف دو گروپ نہیں بلکہ کئی رہنماپی ایس پی اور پیپلزپارٹی سے رابطوں میں ہے ۔’’گرداب‘‘ میں پھنسی متحدہ شایدپھرسے سمٹ جائے مگرایک اور مشکل مرحلہ ابھی سرَکرناباقی ہے۔گروپس کی بازگشت پھرسے ہوگی کیونکہ یہ سارا کھیل سینٹ کی نشستوں پر ووٹ کے حصول کے حوالے سے جاری ہے۔عین ممکن ہے کہ متحدہ کے اراکین اسمبلی اپناووٹ کسی اور کو دے دیں ۔بہرحال یہ ساری صورتحال کچھ دنوں میں مکمل طورپر واضح ہوجائے گی۔واقفان حال کا کہنا ہے کہ پی ایس پی سینیٹ کی ایک نشست پر کامیابی کے لیے پر امید ہے ۔8ارکان کے ساتھ ایک سیٹ پر کامیابی ناممکن ہے ۔ان کا اعتماد بتاتا ہے کہ متحدہ کے کچھ ارکان اسمبلی انکے ساتھ رابطے میں ہیں جو سینیٹ انتخابات کے موقع پراپنی پارٹی کو سرپرائز دے سکتے ہیں ۔ ادھر پیپلزپارٹی نے سندھ سے سینیٹ کی12کیلئے 7امیدواروں کوفائنل کرلیا۔اس حوالے سے سابق صدر آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپر،پیپلزپارٹی سندھ کے صدرنثار احمدکھوڑواوروزیراعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ نے 7امیدواروں میں پارٹی ٹکٹ تقسیم کردیئے جنرل نشستوں کیلئے رضاربانی،مولا بخش چانڈیو ،بیرسٹر مرتضی وہاب،محمد علی شاہ جاموٹ ، مصطفی نواز کھوکھر،امام الدین شوقین،ایاز مہرٹیکنوکریٹس کیلئے ڈاکٹر سکندر میندھرو،رخسانہ زبیری،خواتین کی مخصوص نشستوں کیلئے کرشنا کولہی،قر العین عینی مری جبکہ مینارٹی کی نشست کیلئے انورلال ڈین کو نامزدکیا گیا۔

Back t

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر