3 سالہ اسماءکا کیس جنسی تشدد کا تھا،زیادتی نہیں ہوئی، آئی جی خیبرپختونخوا

3 سالہ اسماءکا کیس جنسی تشدد کا تھا،زیادتی نہیں ہوئی، آئی جی خیبرپختونخوا
3 سالہ اسماءکا کیس جنسی تشدد کا تھا،زیادتی نہیں ہوئی، آئی جی خیبرپختونخوا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)آئی جی خیبرپختونخوا پولیس صلاح الدین محسودنے کہا ہے کہ 3 سالہ اسماءکا کیس جنسی تشدد کاتھا ، زیادتی نہیں ہوئی،ملزم نے بچی سے زیادتی کی کوشش کی ،چیخنے پر گلہ دباکر ہلاک کردیا۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخوانے کہا کہ مردان کی اسما کا کیس بالکل بلائنڈ تھا،اس میں نہ توکوئی سی سی ٹی وی فوٹیج تھیں نہ کوئی گواہ، خیبرپختونخواپولیس نے اسما قتل کیس 25 روزمیں حل کرلیا،آئی جی صلاح الدین محسود کا کہناتھاکہ ایک خون کے قطرے سے کیس ٹریس ہوا،ایک ڈی این اے میچ ہوگیاہے،جس پر پولیس نے ملزم کو حراست میں لے لیا ہے،ان کا کہناتھا کہ ماضی میں عام طور پراس قسم کے کیسزمیں ہمارا رزلٹ گھنٹوں کے قریب میں نکلتا ہے،ہری پورمیں واقعہ ہوااس کارزلٹ 3روزبعد نکلاتھا،انہوں نے کہا کہ حساس کیسز میں کے پی کے پولیس تیز کام کرنے کی کوشش کرتی ہے،تمام کیسزکا نتیجہ مقدمے کی نوعیت کے مطابق نکلتا ہے ترقی یافتہ ممالک میں ایسے بہت سے کیسز ہوتے ہیں جن میں تاخیر ہو جاتی ہے ۔

آئی جی خیبرپختونخوا پولیس نے کہا کہ خیبرپختونخواپولیس نہ صرف صوبے بلکہ پاکستان کی بھی ہے اوردہشتگردی کیخلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہے، انہوں نے کہا کہ پچھلے 3 سالوں میں دہشتگردی سمیت مختلف جرائم میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

مزید : قومی /علاقائی /خیبرپختون خواہ /پشاور