کپڑوں سے بے نیاز سڑکوں پر گھومنے والے پاگل کو جب ایک مجذوب نے نارمل انسان بنادیا

کپڑوں سے بے نیاز سڑکوں پر گھومنے والے پاگل کو جب ایک مجذوب نے نارمل انسان ...
کپڑوں سے بے نیاز سڑکوں پر گھومنے والے پاگل کو جب ایک مجذوب نے نارمل انسان بنادیا

  

تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

اہلِ نظر اور روحانی سالکین مجذوب کے مقام سے بہت اچھی طرح واقف ہیں۔ ویسے تو صوفی، فقیر، درویش، قلندر تمام کے تمام اپنی اپنی شان میں بہت بلند مقام رکھتے ہیں لیکن ’’مجذوب‘‘ سب سے الگ اور نرالی شان اور مقام کے مالک ہوتے ہیں۔ جب کسی روحانی سالک پر تجلی وارد ہوتی ہے تو نور اور کرنٹ سے سالک اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے یا توجہ اور کرنٹ کی زیادتی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ سالک سے برداشت نہیں ہوتی یا ایسا روحانی سالک جو اس دنیا اورا س دنیا کے درمیان ہوتا ہے یا قطرہ جب سمندر کا حصہ بنتا ہے تو اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے۔ کیونکہ مجذوب فل آف کرنٹ ہوتا ہے۔ اس لئے ننگی تلوار کی مانند ہوتا ہے جو منہ سے نکل گیا وہ پورا ہو گیا۔ کرنٹ کی زیادتی کی وجہ سے یہ لوگ اکثر شدید اضطراب میں ہوتے ہیں اور اس جنونی اور اضطراری حالت میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پھرتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ موسموں کے اثرات سے بھی آزاد ہوتے ہیں۔ اہل نظر بزرگوں کے بقول ان سے پنگا لینے والی حماقت تو کبھی بھی نہیں کرنی چاہئے کیونکہ ان کی بددعا سے آپ کی آنے والی کئی نسلیں برباد ہو سکتی ہیں اور ان کی دعا سے کئی آنیوالی نسلوں کے بھاگ جاگ جاتے ہیں۔

ان کی طاقت کا اندازہ ایک چھوٹے سے واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ مجھے اپنی زندگی میں کئی بار بابا یوسف کی خدمت کرنے اور صحبت میں بیٹھنے کا اعزاز حاصل ہے وہ بھی اکثر جذب کے عالم میں ہوتے تھے۔

ایک دن میں ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور ان کے پاؤں بہت احترام، شوق اور محبت سے دبا رہا تھا اور ان کو انگور بھی کھلا رہا تھا کیونکہ وہ انگور اور گلاب جامن شوق سے کھاتے تھے کہ چند لوگ ایک نوجوان کو پکڑ کر لائے، انہوں نے اس نوجوان کے بازو باندھے ہوئے تھے۔ ان کے بقول یہ پاگل مجذوب تھا اور بغیر کپڑوں کے ننگا پھرتا رہتا تھا۔ جب بابا یوسف کو یہ بات بتائی تو آپ مسکرائے۔ آپ سرکار لیٹے ہوئے تھے۔ یہ سن کر اٹھ کر بیٹھ گئے اور آنیوالوں سے کہا کہ اس کے بازو کھول دو، انہوں نے ایسا ہی کیا تو بابا یوسف اٹھ کر اس کے پاس گئے تو وہ نوجوان بے چین ہو کر بھاگنے لگا لیکن پتہ نہیں بابا یوسف کی نظر میں کیا تاثر تھی۔۔ بابا جی بولے نہیں ’’پتر آرام سے بیٹھو‘‘ وہ نوجوان پہلے تو حیران ہو کر بابا جی کو دیکھتا رہا پھر آہستہ آہستہ نارمل ہوتا گیا تو بابا جی نے اس کو کپڑے بھی پہنائے اور کہا ’’اب تم بڑے ہو گئے ہو لہٰذا اب کپڑے نہیں اتارنا‘‘

اس نوجوان کا جنون اور پاگل پن ختم ہو چکا تھا۔ لہٰذا اس کے گھر والے اس کو لے کر چلے گئے۔ بعد میں بھی یہی پتہ چلا کہ اس دن کے بعد اس نے کپڑے نہیں اتارے۔ اب وہ نارمل انسانوں کی طرح زندگی گزار رہا ہے ۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : مافوق الفطرت