ن لیگ کے رکن بلوچستان اسمبلی اظہار کھوسہ مبینہ کرپشن پر گرفتار

ن لیگ کے رکن بلوچستان اسمبلی اظہار کھوسہ مبینہ کرپشن پر گرفتار
ن لیگ کے رکن بلوچستان اسمبلی اظہار کھوسہ مبینہ کرپشن پر گرفتار

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کوئٹہ (ویب ڈیسک) نیب بلوچستان نے محکمہ خوراک میں28 کروڑ روپے کی مبینہ کرپشن پر (ن) لیگ کے رکن بلوچستان اسمبلی میر اظہار حسین کھوسہ کو گرفتار کر لیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق سابق وزیر خوراک میر اظہار حسین کھوسہ نے محکمہ خوراک میں گریڈ6کے منظور نظر ملازم عنایت کو پی آر سی سینٹر سریاب کا انچارج تعینات کیا ، جس نے وزیر خوراک کی آشیر باد سے 65ہزار گندم کی بوریاں غائب کر دیں، جس سے قومی خزانے کو 28کروڑروپے کا نقصان پہنچا، ملزم کو نیب جیل منتقل کر دیا گیا۔ آج احتساب عدالت میں پیش کر کے جسمانی ریمانڈ کی استدعاکی جائے گی۔ مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔

نیب بلوچستان نے عوام کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے مختلف ادوار میں گندم کی بوریوں میں اربوں روپے کی کرپشن میں سابق وزیر خوراک اسفندیار کاکڑ، سابق سیکریٹری خوراک سمیت کئی اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف تین ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کر رکھے ہیں، جب کہ محکمہ خوراک میں مبینہ کرپشن کے متعدد کیسوں کی تحقیقات بھی مختلف مراحل میں ہے۔ نیب راولپنڈی نے مضاربہ اسکینڈل کے اشتہاری ملزم محمد عزیر شاہ کو بھی گرفتار کر لیا۔ ملزم نے لوگوں سے دھوکا دہی کے ذریعے 26کروڑ سے زائد کی رقم ہتھیا رکھی ہے۔ملزم کو احتساب عدالت میں پیش کرکے 9 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا گیا، نیب راولپنڈی کے اعلامیہ کے مطابق ملزم عزیر شاہ کے خلاف 113 افراد نے رقم وصول کرنے کیلئے نیب کو درخواستیں دیں۔

ملزم نے 25 فروری 2015ءکو لوگوں سے لوٹی گئی رقم کو رضاکارانہ طور پر واپس کرنے کیلئے نیب میں درخواست دی اور اٹک میں اپنی تین جائیدادوں کے اصل کاغذات درخواست کے ساتھ لگائے اور کہا یہ جائیداد فروخت کرکے لوگوں کو ان کی رقوم واپس کرنا چاہتا ہوں۔ بعدازاں ملزم غائب ہوگیا اور تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے سے انکار کردیا۔ علاوہ ازیں نیب خیبرپختونخوا نے سیف اللہ برادران سمیت خاندان کے 7 افراد کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا۔

سابق وفاقی وزرا سلیم سیف اللہ اور انور سیف اللہ نیب کی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے۔ نیب ٹیم نے آف شور کمپنیوں کے بارے میں پوچھ گچھ کی اور سوالنامہ حوالے کیا۔ نیب سلیم سیف اللہ، انور سیف اللہ، سینیٹر عثمان سیف اللہ، ہمایوں سیف اللہ، اقبال سیف اللہ، جاوید سیف اللہ اور جہانگیر سیف اللہ کے خلاف 24 آف شور کمپنیوں کے بارے میں تحقیقات کررہا ہے۔

مزید : علاقائی /بلوچستان /کوئٹہ