’’جہاں مسلمان دیکھو اسے قتل کردو‘‘چنگیزخان کے پوتے نے مسلمان علماء کی کون سی بات سننے کے بعد یہ حکم دیااور پھر یہ حکم اس نے واپس کیسے لیا،یہ جان کر آپ کو علمائے سو اور علمائے حق میں فرق معلوم ہوجائے گا

’’جہاں مسلمان دیکھو اسے قتل کردو‘‘چنگیزخان کے پوتے نے مسلمان علماء کی کون ...
’’جہاں مسلمان دیکھو اسے قتل کردو‘‘چنگیزخان کے پوتے نے مسلمان علماء کی کون سی بات سننے کے بعد یہ حکم دیااور پھر یہ حکم اس نے واپس کیسے لیا،یہ جان کر آپ کو علمائے سو اور علمائے حق میں فرق معلوم ہوجائے گا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

چنگیز خان کا پوتا قبلائی خان خدائے واحد پر یقین رکھتا تھا،بعد میں اسکی نسل نے اسلام قبول بھی کیا ۔ اس نے چین میں اپنی حکومت قائم کی اور آج بھی منگولیا سے چین تک اسکو احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ہلاکو خان اسی کا بھائی تھا جس نے مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا ۔ایک بار اسکے بھتیجے اور ہلاکو خان کے بیٹے اباقا نے اس کی طرف پیغام بھجوایاکہ اسے یہودیوں اور مجوسیوں نے بتایاہے کہ مسلمانوں کی کتاب میں لکھا ہے کہ مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کر دو۔ آپ کا اس بارے کیا حکم ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہئے ۔کیونکہ اس حکم کی روشنی میں مسلمانوں کی قوم کا دنیا میں باقی رہنا اندیشے سے خالی نہیں ہے۔

قبلائی خان نے اپنے بھتیجے کی عرضداشت کو پڑھا تو بڑا فکر مند ہوا ۔اس نے مسلمان علماء کو اپنے پاس بلایا اور پوچھا’’کیا قرآن مقدس میں ایسا کوئی حکم موجود ہے۔۔۔؟‘‘

یہ عام درجہ کے علماء تھے اور قرآن لے لفظی ترجمہ تک انکا علم محدود تھا ،انہوں نے جواب دیا۔’’ہاں یہ حکم موجود ہے‘‘

یہ سن کر قبلائی خان بے حد برہم ہوا ’’اگر تمہارے قرآن مقدس میں یہ حکم ہے تو پھر تم اس حکم کی تعمیل کیوں نہیں کرتے پھر تم ہم کو قتل کیوں نہیں کرتے‘‘

اسسوال پر مسلمان علماء نے جواب دیتے ہو ئے کہا’’ہم قوت نہیں رکھتے جب قوت اور قدرت پائیں گے تو تم کو قتل کریں گے۔‘‘

مسلمان علماء کا یہ جواب سن کر بڑا برہم ہوا پھر انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگا۔’’اگر یہ بات ہے تو پھر سنو کیونکہ ہم قدرت رکھتے ہیں لہذا ہم کو چاہئے کہ تمہیں قتل کریں ‘‘یہ کہہ کر اس نے ان مسلمان علماء کو قتل کر دیا اور حکم جاری کیا کہ’’ مسلمانوں کو جہاں پاؤ قتل کردو‘‘

قبلائی خان کا یہ پیغام لشکر چنگیز نے سنا اور قتل عام کا سلسلہ شروع کردیا۔مسلمان بڑے فکر مند ، حیران اور پریشان ہوئے یہاں تک کہ مسلمانوں کے دو عالم اس کی خدمت میں حاضر ھوئے۔ ان میں ایک مولانا بدرالدین تھے اور دوسرے مولانا حمید الدین سمرقندی تھے ۔اس شہنشاہ کی خدمت میں حاضر ھو کر ان دونوں عالموں نے پوچھا۔’’آپ نے مسلمانوں کے قتل عام کا حکم کیوں جاری کیا۔۔۔..؟‘‘

قبلائی خان نے ’’تمہاری مقدس کتاب میں لکھا ہے کہ جہاں مشرکوں کو پاؤ انہیں قتل کرو اس بنا پر میں نے مسلمانوں کے قتل کا حکم دیا ہے۔‘‘

دونوں عالموں نے اسے مخاطب کرکے کہا۔’’میں وضاحت کردوں کہ اس آیت کا مطلب وہ نہیں جو مقتول علما نے بیان کیا ۔اصل بات یہ ہے کہ عرب کے بت پرست جو مسلمانوں کے قتل پر ہمہ وقت آمادہ رہتے تھے ان کی نسبت اللہ تعالٰی نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور انکے صحابہ اکرامؓ کو حکم دیا تھا کہ اپنی حفاظت کیلئے ان کو قتل کرو لیکن یہ حکم قبلائی خان کے لئے تو نہیں ہے کیونکہ تم خدا تعالٰی کی وحدانیت کے قائل ہو اور اپنے فرمامین کی پیشانی پر خدا کا نام ہمیشہ لکھتے ہو۔‘‘

یہ سنتے ہی قبلائی خان کے رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔ وہ چونکا ۔بڑا خوش بھی ہوا اور اسی وقت حکم جاری کردیا کہ میرا پہلا حکم جو مسلمانوں کے قتل کی نسبت جاری ہوا تھا اسے فی الفور منسوخ سمجھا جائے۔

مزید : روشن کرنیں