فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر353

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر353
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر353

حسین ڈی سلوا کی فلم ’’انتخاب‘‘ میں نیّرسلطانہ نے پہلی مرتبہ اداکاری کی تھی۔ اس فلم میں تو وہ معاون اداکارہ تھیں۔ جمیلہ رزّاق اس کی ہیروئن تھیں۔

منوّر چاچا کے اسٹوڈیو کا نام فیڈرل اسٹوڈیو رکھا گیا تھا۔ بہ بغیر چھت کا اسٹوڈیو تھا۔ اسٹوڈیو بنانے کا قصّہ بھی دلچسپ ہے۔ ہوا یہ کہ ان ہی دنوں کراچی میں ایک انٹرنیشنل صنعتی نمائش لگی تھی۔ جس میں بعض اداروں نے پختہ اور نیم پختہ عمارتیں بھی تعمیر کی تھیں۔ نمائش ختم ہو گئی تو چاچا منوّر نے بھاگ دوڑ کر کے یوگوسلاویہ کا پویلین حاصل کر لیا۔ اس پویلین کی دیوار اکھاڑ کر انہوں نے اپنے فلم اسٹوڈیو کی چار دیواری بنا لی۔ چھت ڈالنے کی توفیق نہ تھی۔ اس لئے یہ اسٹوڈیو چھت کے بغیر ہی کام چلاتا رہا۔ اسی قسم کا اسٹوڈیو لاہور میں بھی پہلی مرتبہ 1928ء میں اے آر کاردار صاحب نے اداکار ایم اسماعیل اور اپنے چند دوستوں کی مدد سے راوی کے کنارے بنایا تھا۔ اس کی بھی چھت نہ تھی اور ٹین کی چادروں کی مدد سے چار دیواری بنائی گئی تھی۔ یہاں بھی صرف دن کے وقت ہی آؤٹ ڈور شوٹنگ کی جاتی تھی مگر فرق صرف یہ ہے کہ اے آر کاردار نے یہ اسٹوڈیو 30ء کی دہائی میں قیام پاکستان سے کئی سال قبل تعمیر کیا تھا اور چاچا منوّر نے یہی تجربہ قیام پاکستان کے بعد کراچی میں دہرایا تھا۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر352 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

چاچا منوّر کے فیڈرل اسٹوڈیو میں سب سے پہلے جس فلم کی شوٹنگ کا آغاز کیا گیا اس کا نام ’’بے کس‘‘ تھا۔ کراچی میں آلات اور سازوسامان نہیں تھا اس لئے لاہور کے ایک قدیم پنچولی اسٹوڈیو سے کیمرہ اور ریکارڈنگ کے لئے ساؤنڈ ٹریک حاصل کیا گیا تھا۔ اس اسٹوڈیو کا نام قیام پاکستان کے بعد ملکہ اسٹوڈیو رکھ دیا گیا تھا کیونکہ یہ مغنیّہ ملکہ پکھراج کے شوہر سیّد شبیر شاہ کے نام الاٹ کیا گیا تھا۔ فیڈرل اسٹوڈیو کیلئے ہُنرمند بھی لاہور ہی سے بلائے گئے تھے۔ ریاض احمد اس کے کیمرہ مین تھے۔ یہ وہی ریاض احمد تھے جنہوں نے بعد میں ’’باغی‘‘ جیسی فلم بنائی ۔ہدایت کاری کے لئے شکور قادری کی خدمات حاصل کی گئیں۔ اے زیڈ بیگ نے اس کی صدابندی کی تھی اور اے کے جان اس کے فلم ساز تھے۔ اس فلم سے تعلق رکھنے والے سبھی ہُنرمند اب اس دنیا میں موجود نہیں ہیں۔ فلم ساز کے بارے میں مجھے کچھ علم نہیں ہے۔

فلم ’’ بے کس‘‘ کی شوٹنگ کا سلسلہ تین چار مہینے تک جاری رہا۔ اس کے اداکاروں میں کچھ تو لاہور کے اداکار شامل تھے اور کچھ کراچی ہی سے اکٹّھے کر لئے گئے تھے۔ اس کی فلم بندی بھی بے کسی اور بے سروسامانی کے عالم میں کی جا رہی تھی۔ بہت کفایت شعاری برتی گئی مگر پھر بھی فلم ساز کا سرمایہ ختم ہو گیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ عملے کی تنخواہوں کیلئے بھی رقم نہ تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کراچی میں شروع ہونے والی یہ پہلی فلم نامکمل ہی رہی۔ ہُنرمند اور سازوسامان واپس لاہور بھیج دیا گیا۔ جسے تھوڑی بہت رقم مل گئی اس نے بھاگتے چور کی لنگوٹی سمجھ کر قبول کر لی اور آئندہ کیلئے صبر کر لیا۔

جس اسٹوڈیو کا آغاز بلکہ بسم اللہ اس قدر بے کسی کے عالم میں ہوئی تھی۔ وہ زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکا اور ختم ہو گیا بلکہ قصّہ پارینہ بن گیا۔ آج خود فلم والے بھی اس اسٹوڈیو کے نام سے ناواقف ہیں مگر یہ کریڈٹ چاچا منوّر اور ان کے ساتھیوں کو جاتا ہے کہ انہوں نے کراچی میں فلم صنعت قائم کرنے کے سلسلے میں پہلی بنیاد رکھی تھی۔

کراچی کا دوسرا اسٹوڈیو باری پور میں قائم کیا گیا تھا جس کا نام قیصر اسٹوڈیو تھا۔ قیصر اسٹوڈیو میں بھی ضروری سازوسامان کا مسئلہ درپیش رہا جس کی وجہ سے یہ فلم اسٹوڈیو بھی پنپ نہ سکا۔

شہر میں پہلا باقاعدہ فلم اسٹوڈیو ایسٹرن فلم اسٹوڈیو تھا۔ یہ اسٹوڈیو ہارون فیملی نے قائم کیا تھا جو کراچی کا مشہور سیاسی اور صنعت کار خاندان تھا۔ انہوں نے کولمبو پلان کے تعاون سے اسے منگھو پیر روڈ پر تعمیر کیا تھا۔ یہ سات ایکڑ اراضی پر پھیلا ہوا تھا۔ غور کیا جائے تو یہی کراچی کا پہلا معقول اسٹوڈیو تھا جس میں تمام ضروری آلات موجود تھے۔ ریکارڈنگ ہال مختصر لیکن بہت خوب صورت تھا۔ اسٹوڈیو میں ایک لیبارٹری بھی تھی جس کے انچارج ایم اے شیرازی مقرر کئے گئے تھے۔

شیرازی صاحب بمبئی کے ایک ممتاز ہُنرمند تھے۔ انہوں نے کمال امروہوی کی مشہور فلم ’’محل‘‘ کے پرنٹ بھی تیار کئے تھے۔ وہ بمبئی ٹاکیز سے وابستہ رہے تھے جو کہ برّصغیر کا ایک نمایاں اور قابل ذکر فلم ساز ادارہ تھا۔ اس اسٹوڈیو میں اسماعیل گیلانی کو عکاسی کے شعبے کا انچارج مقرر کیا گیا تھا۔ ساؤنڈ ریکارڈسٹ کے طور پر اقبال شہزاد اس اسٹوڈیو سے وابستہ رہے۔ اقبال شہزاد ایک ذہین‘ خوبرو اور اعلیٰ تعلیم یافتہ آدمی تھے جو انگلستان سے تربیت حاصل کر کے آئے تھے۔

ایسٹرن اسٹوڈیو میں دو کشادہ شوٹنگ فلور بھی تعمیر کئے گئے تھے جن کی گنجائش بعد میں بڑھا دی گئی تھی۔ ہارون فیملی نے ایک اچھّا کام یہ کیا کہ چاچا منوّر کو ایسٹرن اسٹوڈیو کا منیجر مقرر کیا گیا۔ یہ اسٹوڈیو اے جی مرزاکی نگرانی میں کام کرتا تھا جو ایک بہت اچھّے منتظم تھے۔ ان کے زمانے میں ایسٹرن اسٹوڈیو نے بہت ترقی کی تھی۔ یہاں تک کہ ایک زمانہ ایسا بھی آیا جب یہ نگار خانہ ہمہ وقت گہما گہمی اور مصروفیت کی آماج گاہ بن گیا بلکہ لاہور کے فلم ساز اور ہدایت کار بھی یہاں فلم بندی کرتے رہے۔ اس اسٹوڈیو میں شوٹنگ کے سلسلے میں وہ تمام جدید سہولتیں موجود تھیں جن سے اس زمانے میں لاہور کے بڑے اسٹوڈیوز بھی محروم تھے۔ مثال کے طور پر ڈولی کرین سب سے پہلی بار اسی سٹوڈیو میں استعمال کی گئی تھی۔ کیمروں اور لائٹس کے علاوہ دوسرے آلات بھی جدید او رعمدہ تھے۔

ایسٹرن فلم اسٹوڈیو میں سب سے پہلے جس فلم کی شوٹنگ کا آغاز کیا گیا وہ ’’ہماری زبان‘‘ تھی۔ اس کے فلم ساز اے آر خان تھے۔ اے آر خان بھارت کے ممتاز ترین فلم ساز و ہدایت کار محبوب خان کے بھائی تھے۔ اس فلم کی ہدایت کاری کے فرائض شیخ حسن نے سرانجام دیے تھے۔

لاہور سے پنچولی پکچرز اور اسٹوڈیوز کے منیجر دیوان سرداری لال بھی کراچی پہنچ گئے تھے اور انہوں نے چاچا منوّر کے طریقے پر عمل کرتے ہوئے صنعتی نمائش کا ایک پویلین حاصل کرکے جیل روڈ پر ایک فلم اسٹوڈیو کی بنیاد رکھ دی تھی جس کا نام کراچی اسٹوڈیوز تھا۔ لاہور کے ایک کرسچین فلم ساز رابرٹ ملک نے اس اسٹوڈیوز میں ’’فن کار‘‘ کے نام سے ایک فلم کا آغاز کر دیا۔ کراچی فلم اسٹوڈیوز درحقیقت ایسٹرن اسٹوڈیوز سے پہلے قائم کیا گیا تھا۔ جب ایسٹرن فلم اسٹوڈیو میں بہترین ساز و سامان اور اعلیٰ تربیت یافتہ ہُنرمندوں کے ساتھ فلم بندی کا آغاز کیا گیا تو کراچی اسٹوڈیوز اور قیصر اسٹوڈیوز کے فلم سازوں نے بھی اپنا بوریا بستر سنبھال کر ایسٹرن اسٹوڈیوز میں جا کر ڈیرے ڈال دیے۔ کراچی اسٹوڈیوز کو فلم ساز‘ عکاس اور ہدایت کار جعفر شاہ بخاری نے سنبھالا دینے کی کوشش کی مگر وہ اس مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس کے کچھ عرصے بعد خود جعفر شاہ بخاری نے بھی ایسٹرن اسٹوڈیو کا رُخ کرلیا اور وہاں فلم بندی شروع کر دی۔

جس طرح بڑی مچھلی چھوٹی مچھلیوں کو کھا جاتی ہے اسی طرح ایسٹرن فلم سٹوڈیوز کے وجود میں آنے کے بعد دوسرے فلم سٹوڈیوز کا خاتمہ ہوگیا اور سبھی فلمی سرگرمیاں ایسٹرن فلم سٹوڈیو میں منتقل ہوگئیں۔ (جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر354 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...