حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ..۔ آٹھویں قسط

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ..۔ آٹھویں قسط
حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ..۔ آٹھویں قسط

  

رات بھر میں غلام خانے کے فرش پر کسمپرسی کے عالم میں پڑا کراہتا رہا۔ رسیوں سے جکڑا ہوا۔ رسیاں میرے زخموں میں دھنسی جاتی تھیں اور میری ذہنی کیفیت ایسی تھی جیسے اندر ہتھوڑے چل رہے ہوں۔ تھوڑا سا خیال یہ بھی آتا تھا کہ اگر صبح میں اُن کی خوشامد کروں، واسطے دوں، منت سماجت کروں، اُن کے قدموں پر سر رکھ دوں تو شاید مجھے زندگی اور موت کے درمیان ایک حدِّفاصلِ میسر آ جائے۔ کوئی امید تو ہو گی جو میں زندہ تھا۔

صبح ہو رہی تھی۔ میں نے گہرے گہرے سانس لے کر نئے دن کی تازہ ہوا کو اپنے اندر جذب کیا مگر اب میرا ذہن پھر اُس ایک اللہ کے تصور کی طرف چل پڑا۔ اُن دنوں میں بالکل ان پڑھ تھا۔ میری سوچ میں کوئی ابجد شامل نہیں تھی۔ میں چل تو پڑا ایک انجانی، ان دیکھی راہ پر لیکن محض ایک خانہ بدوش کی حیثیت سے، جسے پیاس تو ضرور لگتی ہے مگر راستے کے کنویں اُس کے اپنے نہیں ہوتے۔ مجھے بھی پیاس تھی، شدید پیاس۔ کنویں میرے نہیں تھے لیکن میں پیاسا تھا اور یہ پیاس مجھے کھینچے لئے جا رہی تھی۔ نامانوس راہوں پر، نہ جانے کس منزل کی طرف!

موؤن رسولﷺ کی ایمان افروز داستان حیات ..۔ ساتویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اُس دن اللہ تعالیٰ کی توفیق سے میں نے اپنے آپ کو اُس کے حوالے کر دیا۔ یہی میرا اسلام تھا۔ میرے اندر مٹھاس کی ایک لہر دوڑ گئی، ایسی کہ مجھے اپنے بندھنوں میں بھی چین ملنے لگا۔ مجھے یقین ہو گیا کہ میری عافیت صرف اور صرف اُس ایک اللہ کے قرب میں ہے ۔ میں نے عبادت شروع کی تو میرا باطن نور نور ہو گیا۔ میں نے ربِ جلیل کی حمد و ثنا کی تو میرے اندر انجانی قوتوں کے سوتے اُبل پڑے۔ میں نے اللہ کی رحمتوں کی تلاش کی تو خوف میرے اندر سے نکل گیا۔

اور پھر اللہ کی قدرت سے سورج طلوع ہوا۔

جب وہ مجھے لینے کے لئے آئے تو میں سراپا تشکر تھا۔ ان بدنصیبوں کو کیا خبر تھی کہ یہاں کیا ہو چکا ہے۔ انہیں شاید توقع تھی بلکہ مناسب بھی یہی تھا کہ میں ان کے سامنے گڑگڑاتا، ان کے پاؤں پکڑتا، زمین پر ماتھا رگڑتا، ان سے رحم کی بھیک مانگتا لیکن جب ایسا نہ ہوا تو وہ سمجھے میں پاگل ہو گیا ہوں۔ خوف سے میرا دماغ ماؤف ہو گیا ہے۔ انہیں کیا پتہ تھا کہ میں اپنے خالقِ حقیقی کے حصارِ عاطفت میں ہوں اور اب وہ جو کچھ بھی کریں گے، یا نہیں کریں گے، وہ سب میرے رب ہی کی رضا سے ہو گا۔ انہوں نے مجھے میری جائے عقوبت پر لے جانے کے لئے زمین سے اٹھایا مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ میرا اللہ مجھے پہلے ہی اُن کے ہاتھوں کی پہنچ سے کہیں زیادہ بلندی پر لے جا چکا ہے۔

اجرِ عظیم

انہوں نے مجھے اٹھایا اور بڑی تیزی سے باہر لے گئے۔ ہمیں دیکھ کر گلیوں میں کچھ کھڑکیاں بند ہوئیں۔ لوگ عام طور پر ظالم نہیں ہوتے، بہت کم ہوتے ہیں جو دوسروں پر تشدد ہوتا دیکھ سکتے ہیں۔ ویسے بات سب کی سمجھ میں آ گئی تھی۔ سارا مکہ جانتا تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔ غلاموں کو راہِ رست پر لانے کے معاملے میں اہلِ مکہ کا آپس میں مکمل اتفاق تھا۔ میں نے بغاوت کی تھی، حکم عدولی کی تھی، اپنے آقا کو اُس کے احباب کے سامنے رسوا کیا تھا، اُس کے مذہبی عقائد سے ٹکر لی تھی، اور ایسی بے راہ روی برداشت نہیں کی جا سکتی تھی۔

جہاں تک اُمیہ کا تعلق تھا، اس کے لئے بات بالکل واضح تھی۔ وہ مجھے مجرم سمجھتا تھا۔ خطاکار، قصور وار۔ میں اپنی حرکتوں کی وجہ سے بحیثیت غلام اپنی قیمت گنوا بیٹھا تھا۔ اس لئے وہ مجھے اُس رقم کا دین دار سمجھتا تھا جو اُس نے مجھ پر خرچ کی تھی۔ اب صرف میری کھال اُس کے کام کی تھی۔ وہ اسے کھنچوا سکتا تھا، کتوں کے آگے پھنکوا سکتا تھا، دوسرے غلاموں کی عبرت کے لئے اُس کی نمائش لگوا سکتا تھا۔ آج میں یہ سب باتیں سوچتا ہوں تو مجھے اُمیہ پر ترس آتا ہے کیونکہ جو دوسروں سے ناانصافی کرتا ہے، وہ درحقیقت اپنے ساتھ ناانصافی کرتا ہے۔

وہ مجھے ایک میدان میں لے گئے جس کے بیچوں بیچ ایک لکڑی کا کھمبا گڑا ہوا تھا۔ اس کھمبے سے انہوں نے مجھے مضبوطی سے جکڑ دیا۔ اُمیہ نے کوڑا سنبھال لیا۔ میں اس تشدد کی روداد بیان نہیں کروں گا۔ درد کی یاد نہیں ہوتی۔ درد جب ہوتا ہے تب ہوتا ہے، اُس کے بعد نہیں، صرف اتنا کہوں گا کہ اللہ سورج سے زیادہ طاقت ور ہے اور کوڑے انسان کی روح کو نہیں چھو سکتے۔

مجھے یاد ہے کہ اُس وقت میں زور زور سے اللہ کو پکار رہا تھا۔ ایک ہی طریقے سے جو مجھے آتا تھا اور ایک ہی نام سے جو میں جانتا تھا ’احدٌ، احدٌ ‘۔ میں بلال جس نے اب تک ہزاروں لاکھوں لوگوں کو نماز کے لئے پکارا ہے، اُس وقت عبادت کے طریقوں سے واقف نہیں تھا لیکن جب میں نے اُس کا نام پکارا تو میرے دل نے گواہی دی کہ اُس نے سن لیا۔ کوڑے پڑتے تھے تو میں چیختا نہیں تھا۔ میں نے اپنی زندگی کی باقی ماندہ سانسیں اللہ کے لئے وقف کر دی تھیں۔ ہر کوڑے پر میری آواز مدھم ہوتی جا رہی تھی مگر میں اُسی کا نام لیتا رہا۔ میں نے اُن سے رحم کی التجا نہیں کی۔ صرف اپنے اللہ سے رحم مانگا۔

اگر میں دوچار کوڑوں ہی میں دم دے دیتا، جو عین ممکن تھا تو اُمیہ یقیناً یہ سمجھتا کہ اس کے ساتھ بہت بڑا دھوکا ہو گیا ہے اور اُس کے ذوقِ ایذار سانی کی تسکین نہ ہوتی اور وہ شاید مجھے دوہرا مجرم سمجھنے لگتا۔ ایک تو اُس کی رقم ڈوبی، دوسرے غلام مناسب سزا کے بغیر ہی فراغت حاصل کر گیا۔

کوڑوں کا ایک دور ختم ہوتا تو وقفہ ہوتا اور پھر دوسرا دور شروع ہو جاتا۔ ایسے ہی ایک مختصر وقفے میں ابوسفیان کی بیوی ہند چھاتا لئے ہوئے، خوشبوؤں میں بسی میرے پاس آئی اور کان لگا کر میری نحیف آواز سننے کی کوشش کی۔ ’احدٌ، احدٌ‘۔ یہ سن کر مڑی اور ہنستی ہوئی واپس چلی گئی۔ ہند کی ہنسی بڑی مترنم تھی۔

’’یہ بدنصیب تو وعظ کر رہا ہے۔‘‘

اور پھر مجھ پر کوڑے برسنے لگے۔ ایک۔ دو۔ تین۔ نہ ختم ہونے والا سلسلہ۔

میں نے اکثر سوچا ہے کہ شاید اُس دن میں درخت پر پڑے کسی جھولے پر جھولتا ہوا موت کے دامن میں پہنچ گیا لیکن ایسا نہیں تھا۔ موت کیا ہوتی ہے یہ صرف وہی جانتے ہیں جو واقعی مر جاتے ہیں، البتہ اتنا ضرور کہوں گا کہ میں ہر درد سے آزاد ہو چکا تھا۔ مجھے کسی تکلیف کا احساس نہیں رہا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ اپنی دانست میں مجھ پر ظلم کرنے والے میری دنیا سے بہت دور کہیں اپنے ظلم میں مصروف ہیں، یہاں تک کہ جب انہوں نے مجھ پر تپتی ہوئی چٹانیں رکھیں، جن کے بوجھ تلے میری موت یقینی تھی، تو مجھے صرف اتنا محسوس ہوا کہ انہوں نے ایک کھیل ختم کر کے دوسرا شروع کر دیا ہے۔ میں اُن کی پہنچ سے بار جا چکا تھا۔ اُن کی حرکتیں مجھے احمقانہ لگ رہی تھیں باکل بچگانہ۔ مجھے وہ ایسے لگ رہے تھے جیسے عکاظ کے میلے پر ناچنے والی بھیڑیں۔

پھر میں نے آنکھیں بند کر لیں اور چہرہ آسمان کی طرف اٹھا دیا۔ مجھے اپنے سامنے سرسبز و شاداب کھیت نظر آنے لگے۔ چاروں طرف پھلوں سے لدے ہوئے درخت تھے۔ میں نے بہتے جھرنوں کی گنگناہٹ سنی۔ مجھے اپنے اوپر ایک روح پرور سائے کا احساس ہونے لگا۔ پھر میں ایک نہایت خوبصورت باغ میں داخل ہو گیا جہاں ہر رنگ، ہر نسل کے نوجوان مرد عورتیں سیر و تفریح میں مشغول تھے۔ اُن کے چہروں پر وقار تھا اور اُن کے پور پور سے خوشیاں پھوٹ رہی تھیں۔ انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور ایک فوارے کے پاس لے گئے جہاں میں نے پانی پیا۔ اتنا کہ میری روح کی پیاس بجھ گئی۔ مجھے ایسے لگا جیسے میں ذاتِ باری تعالیٰ کے قرب میں ہوں۔

میں نہیں جانتا یہ کیا تھا۔ واہمہ تھا، خواب تھا، کوئی وجدانی کیفیت تھی، کوئی مافوق الفطرت کرشمہ تھا، کوڑوں سے میرا دماغ معطل ہو گیا تھا یا محض میری افتادِ طبع تھی یا پھر اس کیفیت میں یہ سارے ہی عناصر شامل تھے۔ بہرکیف جو کچھ بھی تھا جلد ہی ختم ہو گیا لیکن میں آج بھی اپنے آپ سے پوچھتا ہوں کہ بلال کیا واقعی تونے جیتے جی جنت بریں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا!(جاری ہے )

موذن رسولﷺ کی ایمان افروز داستان حیات ..۔ نویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /حضرت بلال