سیاست کی بھیگی بلیاں

سیاست کی بھیگی بلیاں

عدالت کے کٹہرے اور عوامی پنڈال میں ہمارے سیاستدانوں کا رویہ اور چہرہ یکسر مخلتف ہوتا ہے،باہر شیر اور اندر بھیگی بلی بن جاتے ہیں یہ لوگ۔حالانکہ اب سب ان کے اصلی چہرے پہچان چکے ہیں۔

پاکستان کے سابقہ وزیر اعظم کی نا اہلی اتفاقیہ نہیں ہے بلکہ سپریم کورٹ کے حُکم کے مطابق قایم کی گئی جے آئی ٹی کی تحقیقات کی روشنی میں سابقہ وزیر اعظم کو نا اہل قرار دیا گیا تھا۔ لیکن اب بھی مُسلم لیگ ن کی وفاق میں حکومت ہے۔ پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم جناب شاہد خاقان عباسی حکومت کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب بھی مُلک کے سابقہ وزیر

ا عظم نواز شریف کے احکامات مانے جاتے ہیں۔ اُن کی بنائی ہوئی پالیسوں پر عمل دارآمد ہو رہا ہے۔ تبدیلی محض چہروں کی ہے۔ عملی طور پر پالیسیوں میں کوئی فرق نہیں آیا۔ حالانکہ شاہد خاقان عباسی صاحب نے کئی مرتبہ کھُل کر یہ باور کروانے کی کوشش کی ہے کہ وُہ مُلک کے با اختیار وزیر اعظم ہیں اور اُنکے احکامات کو ہی حکومت میں مانا جاتا ہے۔ لیکن عام تاثر یہ ہے ہے کہ نواز شریف کی ہدایات کے مُطابق حکومت چل رہی ہے۔نئے وزیر اعظم کی آمد سے مُلک کی پلایوں پر کوئی خاطر خواہ اثر نہیں پڑا۔

سیاست سے دلچسپی رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے اسحاق ڈار سے تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے۔ اُن کی یہ خواہش رہی ہے کہ اسحق ڈار کو وزارتِ خزانہ کے منصب سے فارغ کر دیا جائے۔ نیب میں اُن کے خلاف مقدمات کے با عث اور بین الااقوامی مالیاتی اداروں کے اعتراض کے با وجود بھی اسحق ڈار کا کابینہ میں ٹکے رہنا اِس حقیقت کا غماز ہے کہ موجودہ وزیرِ اعظم اپنے اختیارات کو ا ستعمال کرنے میں ہرگز فری نہیں۔نواز شریف مُسلم لیگ ن کا صدر ہونے کی وجہ سے اختیار رکھتے ہیں کہ وُہ کبھی بھی مُتبادل وزیر اعظم چُن سکتے ہیں۔ اِس اختیار نے شاہد خاقان عباسی کو اطاعت کرنے پر مجبور کر رکھا ہے۔ جس کی وجہ سے وُہ سابقہ وزیر اعظم کی پالیسیوں اور ڈکٹیشن کو قبول کرنے پر مجبور۔ وُہ جانتے ہیں کہ نواز شریف کو کرپشن میں ملوث ہونے کے باعث نکالا گیا ہے۔ وُہ اُنکے نکالنے جانے سے مُستفید بھی ہوئے ہیں ۔ لیکن وُہ وزیر اعظم کے حق میں یہی بیان د یتے ہیں کہ عوا می عدا لت نے عدالتِ عالیہ کے فیصلے کو مستر د کر دیا ہے۔ با الفاظِ دیگر، نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ یہ تا ثر قایم کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ عدالتِ عالیہ نے فیصلہ نواز شریف کے خلاف فیصلہ دیکر ذاتی دُشمنی نکالی ہے۔

با شعور اور پڑھے لکھے لوگ اِس حقیقت سے واقف ہیں کہ نواز شریف کے پاس عدالتی فیصلے کو چیلنج کرنیکا مو قعہ موجودتھا اور اُس سے استفادہ کرتے ہوئے نواز شریف کی جانب سے کیس کے خلاف اپیل دائر کی گئی۔ اپیل سُننے کے لئے بنچ تشکیل کیا گیا۔ لیکن بد قسمتی سے نواز شریف اپنی بے گُناہی میں کوئی ٹھوس ثبوت نہ پیش کر سکے۔ لہذا سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کو بحال رکھا۔ نواز شریف اور اُن کے منظور نظر وزراء آج تک عدالتِ عالیہ کے فیصلوں پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔ اُنکا بُنیادی طور پر کام یہ یہی ہے کہ وُہ فوج اور سپریم کورٹ پر مسلسل تنقید کرتے رہیں۔ عدالتی عالیہ نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نواز شریف اور اُنکے رفقاء کی تنقید کو در خورِ اعتنا نہیں سمجھا تھا لیکن آخر کار چیف جسٹس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیاہے۔ اُنہوں نے ذاتی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے چوہدری طلال اور دانیال عزیز کو عدالت عالیہ میں طلب کر لیا ہے تاکہ وُہ اپنے بیانات کی و ضاحت پیش کریں جو انہوں نے جڑانوالہ میں منعقدہ جلسے میں د ئیے تھے۔ بصورتِ دیگر اُن کو توہینِ عدالت کے ارتکاب میں سزا ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ حالیہ ایام میں سینیٹر نہال کے ساتھ ہوا ہے۔ اُن کو ایک ماہ کی قید اور پچاس ہزار روپے جُرامانہ کی سزا دی گئی ہے اور اُسکے ساتھ ہی اُن کو پانچ سال کے لئے سینٹ کی رُکنیت سے نا اہل قرار دے دیا گیا ہے۔ جو کہ افسوسناک ہے۔ لیکن عدالت عالیہ کے وقار کو بچانے کے لئے ایسے اقدامات کی بھی سخت ضرورت ہے۔ کیونکہ عوام میں تاثر عام ہو چلا تھا کہ شاید عدالت عالیہ کے ججز پر حکومت کے احکام کا دباؤ ہے۔ اِس وجہ سے وُہ اپنے اُوپر لگے ہوئے الزامات کا جواب نہیں دے رہے۔ مُسلم لیگ ن کے سیاسی لیڈر ٹی وی پروگراموں میں عدالت عالیہ کے فیصلوں کے خلاف بیانات داغنے میں یدِ طو لیٰ رکھتے ہیں لیکن جب انھیں عد التوں میں بُلا کر وضاحت طلب کی جاتی ہے توہ وُہ جج صاحبان کے سامنے بھیگی بلی بنے کھڑے رہتے ہیں۔ کُچھ ہفتے پہلے وزیر ریلوے جو اپنے دبنگ بیانات دینے کی وجہ سے کا فی مشہور ہیں وُہ اپنے خلاف دائر کردہ کیس کے سلسلے میں عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے حُکم دیا کہ وزیر موصوف اپنے وکیل کی بجائے خُود اپنی صفائی پیش کریں۔ کیونکہ وُہ اپنی تقرریوں میں کافی بیباک لہجہ اختیار کرتے ہیں۔ اِس لئے عدالت اُن کی زُبانی اُنکی وضاحت سننا پسند کرے گی۔ لیکن وزیر مُوصوف اپنی وضاحت خود پیش کرنے سے کترانے لگے۔جلسوں میں یا ٹی وی پروگراموں میں یہ لوگ شیر بہارد ہوتے ہیں۔ لیکن عدالتوں کے طلب کرنے پر انکے پاس کہنے کہ کوئی ٹھوس بات نہیں ہوتی۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ مُلک میں اب بھی ناخواندگی کی شرح بہت بلندہے۔ عوام اَن پڑھ ہونے کی وجہ سے سیاستدانوں کی سیاسی چالوں کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں۔ سیاستدان ابہام پیدا کرکے اپنا اُلو سید ھا کرنا جانتے ہیں۔ وُہ عوام کو دھوکے سے گمراہ کرکے اپنے آپ کو بے گُنا پیش کرنے کا جتن کرتے ہیں۔جبکہ عوام قانون سے عدم واقفیت کی وجہ سے اُن سے ہمدردی جتاتی ہے۔ عوام کی اکژیت اُن کو مُنتخب ضرور کرتی ہے لیکن مُلک کا آئین سب اداروں کے لئے واجبِ احترام ہے۔ آئین ہی تمام اداروں کو نہ صرف جنم دیتا ہے بلکہ اُنکو اختیارات بھی عطا کرتا ہے۔ یہی آئین عدالت عالیہ کو حق دیتا ہے کہ وہ عوام کے مُنتخب نمائندوں کا احتساب کریں۔ آئین کی شقوں کی تشریح آ ئین کی روح کے مُطابق کریں۔ یہ آئین عوام کو وو ٹوں سے اپنے نمایندے چُننے کا حق دیتا ہے اور محکمہ عدل قایم کرنے کی سفارش کرتا ہے جو آئین اور قانون کی روشنی میں عد التوں کو قایم کرتی ہے تاکہ وُہ عوام الناس کے حقوق کی دیکھ بھال کر سکیں۔ ٹیکس گزاروں کے پیسے کا احتساب کر سکیں۔ کرپش میں ملوث سرکاری اور نیم سرکاری افسروں کو سزا دے سکیں۔

عدالتیں جمہوری نظام حکومت میں کلیدی کردار ادا کر تی ہیں۔ ووٹ کا حق بلا شبہ عوام کو حاصل ہے لیکن انسانی حقوق اور حکومتی فیصلوں کو عوام کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا ۔ کیونکہ عوام مُلک کے قانون سے واقف نہیں ہوتے ۔ اِس لئے دانشمند رہنماؤں نے عدالتیں قایم کی ہیں جو آئین اور قانوں کی روشنی میں مقدمات میں ملوث فریقین کے دلائل سُن کر اپنا غیر جانبدارانہ فیصلہ صادر فرماتی ہیں۔ جو قانون کے مُطابق کیس میں ملوث تمام فریقوں پر لاگو ہوتا ہے۔ لیکن نواز شریف نے عدالتوں کو اپنے مْقصد کے لئے مُتنازعہ بنانے کی کوشش کی ہے تاکہ وُہ لو گوں کا دھیان کرپش کے کیسز سے ہٹا سکیں۔ لیکن وُہ اپنی پا لیسی میں کامیاب ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ اُن کا الزام ہے کہ فوج نے عدالتوں کو اُنکے خلاف فیصلہ دینے پر مجبور کیا ہے۔لیکن یہ اُنکا وہم ہے۔عدالتیں اپنے فیصلوں میں کسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لاتیں۔ عوام کو عدالتوں کے خلاف بھڑکانا بھی ایک سنگین جُرم ہے۔ نواز شریف اور اُنکی صاحبزادی کو اپنے باغیانہ رویے پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ وُہ اپنے مُفاد کے لئے مُلک میں غلط قسم کی روایات کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ جس کو مُلک کے لئے صحتمندانہ پالیسی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...