انسان کی کہانی

انسان کی کہانی

انسان کی کہانی بہت طویل ہے مگر اسے چند جملوں میں باآسانی بیان کیا جا سکتا ہے ۔ کائنات 13.7 ارب سال قبل وجود میں آئی۔ نظامِ شمسی ساڑ ھے چار ارب سال پہلے بنا۔ زمین پر زندگی ساڑ ھے تین ارب سال پہلے وجود میں آئی۔ پھر نباتات اور حیوانات کی کھربوں اقسام وجود میں آتی رہیں ۔ ہر نوع میں کھرب ہا کھرب وجود پیدا ہوکر مرتے رہے ۔ آخر میں انسان وجود میں آیا۔ یہ سائنس کے علم کا کمال ہے کہ آج ہم انسان کی یہ کہانی جانتے ہیں ۔

یہ انسان صفحۂ کائنات کا سب سے غیر معمولی نقش ہے ۔ اس کی صلاحیت یہ ہے کہ یہ حقیر سا وجود کھربوں انواع کے بعد وجود میں آیا لیکن پھر بھی زمین کا حکمران بن گیا۔ مگر انسان کا المیہ یہ ہے کہ زندگی سے کہیں بڑ ھ کر فکر و تخیل، علم و شعور، ذوق و احساس، ذائقہ و لذت اور حیاتِ ابدی کا شعور رکھنے والا یہ انسان صرف ساٹھ ستر سال کی زندگی گزار کر مرجاتا ہے ۔ خوش قسمتی سے دنیا میں قرآن نام کی ایک کتاب موجود ہے ۔ جو یہ بتاتی ہے کہ زمین کا یہ حکمران فانی نہیں بلکہ ابدی زندگی کے لیے پیدا کیا گیا ہے ۔ یہ زندگی عنقریب شروع ہو گی۔ اس ابدی زندگی میں کامیاب وہ ہو گا جو اپنے رب کی بندگی اور اس کی مرضی پوری کرنے کو اپنی زندگی کا مقصد بنالے گا۔

13.7 ارب سال پر پھیلی اس داستان کا پہلا حصہ ختم ہونے کو ہے ۔ بہت جلد دوسرا حصہ شروع ہونے کو ہے جب اس عالم کی جگہ نئے زمین و آسمان وجود میں آجائیں گے ۔ ہم سب کے پاس بس ایک اور صرف یہی ایک موقع ہے ۔ اس موقع سے فائدہ اُٹھا کر اگر ہم نے کامیابی حاصل کر لی تو ہم ختم نہ ہونے والی دنیا میں کائنات کے بادشاہ بنادئیے جائیں گے ۔ وگرنہ جہنم کا قید خانہ ہمارا ابدی انجام ہو گا۔ ہمارے پاس ایک ہی موقع ہے ۔ یہ موقع نہ پہلے کبھی ملا ہے نہ آئندہ کبھی ملے گا۔ اسے استعمال کر لیجیے ۔ قبل اس کے کہ یہ موقع ہمیشہ کے لیے چھن جائے ۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...