چیف جسٹس آف پاکستان نے میڈیاورکرزکوتنخواہوں کی عدم ادائیگی کانوٹس لے لیا

چیف جسٹس آف پاکستان نے میڈیاورکرزکوتنخواہوں کی عدم ادائیگی کانوٹس لے لیا
چیف جسٹس آف پاکستان نے میڈیاورکرزکوتنخواہوں کی عدم ادائیگی کانوٹس لے لیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب  نثار نے میڈیا ورکرز کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا نوٹس لے لیا،عدالت نے تمام الیکٹرانک، میڈیاچینلزسے10دنوں میں آج تک کی تنخواہوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں اور 10روزکے ا ندرتنخواہوں کی ادائیگی کا حکم دیتے ہوئے تنخواہوں میں تاخیرکی وجوہات بھی طلب کرلیں۔

سپریم کورٹ میں میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ہم مشہوری کے لئے کام نہیں کرتے ،جج مشہوری کے لئے کام کرے تو عدلیہ کو تباہ کر دیتا ہے،کھانے پینے کی چیزوں پر بھی ایکشن لیتے تھے توپنجاب حکومت اشتہار دیتی تھی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں شہرت نہیں چاہیے اشتہارات کے بغیربھی کام  چل سکتا ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ

اشتہارات جاری کرنے کا طریقہ کا ر کیا ہے ؟اشتہارات پر صوبائی محکمہ اطلاعات کو بھی سنیں گے اطلاعات تک رسائی بنیادی حق ہے،فارن فنڈنگ ثابت ہوئی تو لائسنس کینسل کر دیں گے سرکاری اشتہارات کو ریگولیٹ کرنا ہوگا،میڈیا مالکان ورکرز کے کفیل بنیں مالک نہ بنیں۔

سماعت کے دوران نمائندہ پی ایف یو جے  کا کہنا تھا کہ الیکٹرانک میڈیا کے لئے کوئی قانون نہیں ہے۔طیب بلوچ کا کہنا تھا کہ  صحافیوں کو طبی سہولیات نہیں ملتی اور نوکریوں سے فوری نکال دیا جاتا ہے،کیمروں کی انشورنس ہوتی ہے مگر صحافیوں کی نہیں ہوتی،اینکرز بڑی تنخواہیں لیتے ہیں لیکن رپورٹرزکو باقاعدہ تنخواہیں نہیں ملتی۔

سپریم کورٹ میں میڈیا کمیشن رپورٹ   کی سماعت بیس فروری تک ملتوی کر دی گئی۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد