حسین حقانی نے میمو گیٹ سیکنڈل کی پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا

حسین حقانی نے میمو گیٹ سیکنڈل کی پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا
حسین حقانی نے میمو گیٹ سیکنڈل کی پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا

واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکہ میں تعینات سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی نے اپنے وکیل کو سپریم کورٹ میں میموگیٹ سیکنڈل کی مزید پیروی سے روک دیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عدلیہ سیاسی ہوگئی ہے اورایسی صورت حال میں میمو گیٹ سکینڈل کی دنیا کی نظروں میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔

اپنے تازہ بیان میں حسین حقانی کا کہنا تھا کہ انہیں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے جس کا عدلیہ ایک لازمی حصہ ہے ، کسی بھی قسم کے انصاف اور غیر جانبدار کردار کی توقع نہیں ہے ۔میری آنے والی کتاب ”ریممبرنگ پاکستان “ کی وجہ سے میرے خلاف ایک پروپیگنڈے کیا جا رہا ہے اور میمو گیٹ سکینڈل کو دوبارہ کھولا جار ہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے کوئی جرم نہیں کیا ، اسی لئے 6سالوں سے میرے خلاف کیس چلایا گیا اور نہ ہی مجھ پر فرد جرم عائد کی گئی۔ اب اگر سپریم کورٹ کہتی ہے کہ میں نے کوئی جرم کیا تو وہ میرے خلاف اپیل کاکیس چلانے کی بجائے ابتدائی کیس کیوں چلا رہی ہے۔

حسین حقانی کے مطابق سپریم کورٹ نے اپنی پہلی سماعتوں کو کی خلاف ورزی کی ہے کیوں کہ ان میں سماعتوں میں بہت زیادہ جھول تھا، سپریم کورٹ نے 1956ءکے ایکٹ کے تحت میرے خلاف ایک انکوائری کمیشن بنایا حالانکہ عدلیہ کو ایسا کمیشن بنانے کا اختیار نہیں ہے، انہوں نے ہائی کورٹ ججز کو اس کمیشن میں نامزد کیا جبکہ قانون کے تحت ہائی کورٹ کے ججز کسی بھی ایسے کمیشن کا حصہ نہیں بن سکتے۔ عدالت عظمیٰ نے ہائی کورٹ کے ججز کو ہدایات دیں ، حالانکہ قانون کے تحت سپریم کورٹ ہائی کورٹ کو ہدایات نہیں دے سکتی۔ سپریم کورٹ نے آرڈر XXXVIکے تحت کمیشن قائم کیا جبکہ یہی آرڈ 2003ءمیں منسوخ کردیا گیا تھا۔

حسین حقانی کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ کیس پاکستانی میڈیا کی ہیڈلائنز بنا مگر اصل کیس اس شور شرابے میںدب کر رہ گیا، اس کیس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں کیوں کہ عالمی عدالت انصا ف اور دیگر اداروں نے اس کیس کی خامیوں کی نشاندہی کی تھی ۔ میرے خلاف سیاسی بنیادوں پر کیس چلا کر مجھے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر لکھنے اور بولنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم اور ساری دنیا جانتی ہے کہ میں نے ہمیشہ دنیا کی چھٹی بڑی ایٹمی طاقت پاکستان میں جہالت اور سکول میں نہ جانے والے بچوں کے حوالے سے بات کی ۔

سابق سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کا نظام عدل اپنی ساکھ کھو چکا ہے کیوں کہ دنیا بھر کے افراد پاکستان عدلیہ کو کم درجے پر رکھتے ہیں۔تاہم عدلیہ کے ان اقدامات سے اس پروپیگنڈے پر کوئی فرق نہیں پڑتا جو  عدلیہ کے خلاف پاکستان کے اندر یا باہر کیا جا رہا ہے۔ عدلیہ کو میمو گیٹ سیکنڈل کی پیروی کرنے کی بجائے ان سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں موجود مقدماتکو سنتے ہوئے ان کا فیصلہ کرناچاہیے جو  کئی سالوں سے تاخیر کا شکار ہیں ،عدلیہ کو بے یار ومددگار پاکستانیوں کی قانون کے تحت مدد کرنی چاہیے۔

مزید : قومی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...