حصول انصاف کیلئے اب سڑکوں پر آئے تو پھر قاتلوں کا حشر دنیا دیکھے گی،قانون شکن اشرافیہ خود کو قانون سے بالاتراور معتبر سمجھتی ہے :ڈاکٹر طاہرالقادری

حصول انصاف کیلئے اب سڑکوں پر آئے تو پھر قاتلوں کا حشر دنیا دیکھے گی،قانون شکن ...
حصول انصاف کیلئے اب سڑکوں پر آئے تو پھر قاتلوں کا حشر دنیا دیکھے گی،قانون شکن اشرافیہ خود کو قانون سے بالاتراور معتبر سمجھتی ہے :ڈاکٹر طاہرالقادری

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا ہے کہحصول انصاف کیلئے اب سڑکوں پر آئے تو پھر قاتلوں کا حشر دنیا دیکھے گی، ن لیگ کے نااہل صدر نے عدالتی فیصلوں کا مذاق اڑانے، عدلیہ کے خلاف عوام کو مشتعل کرنے، ججز کی تضحیک اور قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف بدزبانی کی جو مہم شروع کررکھی ہے اسے مزید نظر انداز کیا گیا تو اس لاقانونیت کے بھیانک نتائج برآمد ہونگے، قانون شکن اشرافیہ خود کو قانون سے بالاتراور معتبر سمجھتی ہے ،کیا جھوٹا اور نااہل شخص پارلیمنٹرینز اور عوامی نمائندوں کی قیادت اور کیا کوئی قانون آئین کی شق کو غیر موثر کر سکتا ہے؟۔

تفصیلات کے مطابق وہ عوامی تحریک کے وکلاء سے ٹیلیفون پر گفتگو کررہے تھے، اس موقع پر سینئر قانون دان نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے کیسز کے حوالے سے سربراہ عوامی تحریک کو بریف کرتے ہوئے بتایا کہ جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ سے لف دستاویزات اور پنجاب حکومت کی قائم کردہ جے آئی ٹیز کی مصدقہ نقول کے حصول کیلئے فل بنچ تشکیل پا گیا ہے تاہم ابھی تاریخ نہیں ملی، یہ بنچ جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں قائم ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں اے ٹی سی کے فیصلے کے خلاف نواز شریف اور شہباز شریف و دیگر بیوروکریٹس اور ملوث وزراء کی طلبی کیلئے فل بنچ جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں قائم ہو چکا ہے جو 14 فروری کو سماعت کرے گا، سابق آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا نے بھی طلبی کے خلاف رٹ پٹیشن دائر کررکھی ہے جس کی سماعت بھی 14 فروری کو جسٹس عبدالسمیع کی عدالت میں زیر سماعت آئے گی۔ انہوں نے بتایا کہ انسداد دہشتگردی کی عدالت میں استغاثہ کیس کی سماعت 16 فروری کو ہو گی۔ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے وکلاء ٹیم کو ہدایت کی کہ وہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے کیس کو پوری توجہ اور تمام تر توانائی کے ساتھ لڑا جائے، یہ مظلوموں کو انصاف دلوانے کا کیس ہے اور یہ ایک انسانی ایمانی فریضہ بھی ہے۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن قاتل اشرافیہ کا پیچھا نہیں چھوڑے گا، یہ بے گناہوں کا خون ہے اس کا انصاف ہو کر رہے گااور قاتل اپنے انجام سے ضرور دو چار ہونگے ۔انہوں نے کہا کہ جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ پبلک ہونے کے بعد اس امر میں رتی برابر بھی شائبہ نہیں رہا کہ اس کے پیچھے شریف برادران اور ان کے حواری ہیں اور یہ ریاستی دہشتگردی کایک بدترین سانحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری افرادی قوت اور کارکنوں کے جذبہ سے دوست اور دشمن سبھی واقف ہیں، ہماری جدوجہد شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء کو آئین اور قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے انصاف دلوانا ہے اور میری دعا ہے کہ یہ انصاف قانون کے دائرے میں ہو۔ انہوں نے کہا کہ حصول انصاف کیلئے اب سڑکوں پر آئے تو پھر قاتلوں کا حشر دنیا دیکھے گی، ماڈل ٹاؤن کا انصاف ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے مزید کہا کہ اس وقت انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 ء کا ایک اہم ترین کیس زیر سماعت ہے،نواز شریف اہلیت کے اس کیس میں جو نااہلی کی مدت کے تعین کے حوالے سے زیر سماعت ہے میں پیش نہیں ہوئے چونکہ وہ جانتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے ججز کے سامنے آنکھیں اٹھا کر کھڑے نہیں ہو سکتے، نواز شریف توہین عدالت و قانون کے ساتھ ساتھ توہین انسانیت کے بھی ملزم ہیں۔

مزید : قومی