بڑھتے قرضہ ملکی معیشت کیلئے نقصان دہ ہیں،اعظم چوہدری

بڑھتے قرضہ ملکی معیشت کیلئے نقصان دہ ہیں،اعظم چوہدری

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(پ ر) چیئرمین ٹاؤن شپ انڈسٹریز ایسوسی ایشن لاہور اعظم چوہدری نے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تکینکی مذاکرات میں آئی ایم ایف کی طرف سے 31مارچ تک3520ار ب وصولی اور آئندہ دو ماہ میں ایک ہزار 110ارب روپے ریونیو اکٹھا کرنے کے ہدف پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قرضوں کے عوض آئی ایم ایف کی ایما پر ہدف پورا کرنے کیلئے عوام پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کے ساتھ منی بجٹ لایا جائے گا انہوں نے کہا کہ حکومتی بڑھتے ہوئے قرضے ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ہیں اور قرض دینے والے اداروں کی شرائط پر عوام پر بجلی،گیس،پٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کے ساتھ ساتھ عوام پر کھربوں روپے کے ٹیکسزعائد کیے جارہے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینئر وائس چیئرمین وسیم چاولہ، وائس چیئرمین انجینئر خرم کے ساتھ ٹاؤن شپ انڈسٹریز کے صنعتکاروں کے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
اعظم چوہدری نے کہا کہ بھاری قرضوں کے عوض آئی ایم ایف معاہدے کے تحت روپے کی قدر میں کمی سے، ڈالر کی قیمت میں اضافہ، بجلی، گیس کی قیمتوں میں اضافہ سے صنعتی ترقی متاثر ہورہی ہے اور ملک میں ہوشربا مہنگائی جنم لے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی سے درآمدی اشیاء پر اثر پڑا، افراط زر بڑھ رہا ہے ملکی معاشی شرح نمو 9سال کی کم ترین سطح پر ہے انہوں نے کہاکہ حکومت ملک میں ہوشربا مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کرے اور صنعتی شعبہ کیلئے بجلی گیس کی قیمتوں میں کمی کرے تاکہ بڑھتی ہوئی ہوشربا مہنگائی کو کنٹرول کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مزید قرض لینے سے اجتناب برتے،حکومت مزید قرضوں کی بجائے وزیروں،مشیروں کی فوج کم کرکے اخراجات میں کمی کرے۔

مزید :

کامرس -