جسٹس گلزار احمد کی سیکیورٹی کا خط وائرل کرنے کیخلاف درخواست پرسماعت

جسٹس گلزار احمد کی سیکیورٹی کا خط وائرل کرنے کیخلاف درخواست پرسماعت

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے چیف جسٹس پاکستان مسٹرجسٹس گلزار احمد کی سیکیورٹی کا خط سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے خلاف دائر درخواست پر خط لیک کرنے کے معاملے کی مکمل انکوائری کر کے 2 روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے خط کو لیک کرنے کے ذمہ داروں کاتعین کرنے کا بھی حکم د یاہے،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مامون رشید شیخ نے چیمبر میں جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی درخواست پر سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ غلط خط لیک ہونے سے عدلیہ کی تضحیک ہوئی، درخواست گزار نے درخواست میں وفاقی و صوبائی سیکرٹری داخلہ، گورنر پنجاب، وزیراعلی پنجاب، آئی جی پنجاب، پی ٹی اے اور پیمرا کو فریق بنایا گیا ہے درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیاکہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سکیورٹی کے معاملے پر خط کو مخصوص مقاصد کیلئے لیک کیا گیا،بدنیتی کی بنیاد پر لیک کئے گئے خط پر چیف جسٹس پاکستان کے نوٹس لینے پر آئی جی پنجاب نے خط واپس لیا، آئین پاکستان، اعلی عدلیہ کے فیصلوں اور اقوام متحدہ کے کنونشن تحت کسی شخص کو ججز کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں ہے،آئین کے تحت قانون نافذ کرنیوالے ججوں کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے پابند ہیں، چیف جسٹس پاکستان کی سکیورٹی کے معاملے پر خط لیک کرنیوالوں کا سراغ لگانے کا حکم دیا جائے، ڈی آئی جی لیگل جواد ڈوگر نے عدالت کو بتایاکہ پنجاب پولیس سے چیف جسٹس کی سکیورٹی کے خط کو لیک کرنے کی غلطی ہوئی، اندرونی معاملہ تھا،چیف جسٹس پاکستان کی سکیورٹی کا خط لیک نہیں ہونا چاہیے تھا،سپریم کورٹ کی تردید کے بعد دوسرا ترمیمی لیٹر جاری کر دیا تھا، اس کیس کی مزید سماعت 13 فروری کوہوگی۔
سیکیورٹی خط وائرل

مزید :

صفحہ آخر -