کے پی کے کی بھاری کابینہ، سپیشل سیکرٹری کی تخلیق پر سپریم کورٹ کا از خود نوٹس

کے پی کے کی بھاری کابینہ، سپیشل سیکرٹری کی تخلیق پر سپریم کورٹ کا از خود نوٹس

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ نے کے پی کے میں سپیشل سیکرٹری کا عہدہ تخلیق کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری، صوبائی سیکرٹری قانون اور ایڈووکیٹ جنرل سے جواب طلب کرلیا جبکہ عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ بتایا جائے کتنے محکموں میں سپیشل سیکرٹری کا عہدہ قائم کیا گیا ہے، سپیشل سیکرٹری کا عہدہ قائم کرنے کی سمری بھی پیش کی جائے۔ جمعرات کو عدالت نے نوٹس فوجداری مقدمہ میں درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران لیا۔ سپریم کورٹ نے کہاکہ پشاور ہائی کورٹ ضمانت کے ہر کیس میں ٹرائل کورٹ سے ریکارڈ کیوں مانگتی ہے؟ کیس ریکارڈ ہائی کورٹ میں ہونے سے ٹرائل رک جاتا ہے۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ ریکارڈ منگوانے کے معاملے کا جائزہ لیں، توقع ہے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ ججز کو مناسب ہدایات جاری کرینگے۔ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ  نے کہاکہ کیا رولز آف بزنس میں سپیشل سیکرٹری کا عہدہ ہے؟۔ ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے نے کہا کہ رولز میں سپیشل سیکرٹری کا کوئی عہدہ نہیں۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے کہاکہ من پسند افسروں کو نوازنے کیلئے سپیشل سیکرٹری کا عہدہ تخلیق کیا گیا، کیا کے پی کے کو قانون کے بجائے اپنی مرضی پر چلایا جا رہا ہے؟۔جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہاکہ گولڈن، پلاٹینم اور سلور سیکرٹریز کے عہدے بھی بنا لیں، صوبائی حکومت کے پاس سپیشل سیکرٹری کا عہدہ قائم کرنے کا اختیار نہیں۔کے پی کے حکومت اپنے ہی قوانین کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے کے پی کے کی بھاری بھرکم کابینہ پر بھی سوال اٹھا دئیے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ کیا آپکو معلوم ہے پاکستان کی پہلی کابینہ میں کتنے وزراء تھے؟۔ ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے نے کہاکہ پہلی کابینہ چار سے پانچ وزراء پر مشتمل تھی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ آج کی کابینہ میں وزراء کی تعداد دیکھ لیں کتنی ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ ریکارڈ صرف اس وقت منگوایا جاتا ہے جب کسی دستاویز کی تصدیق کرنی ہو۔ وکیل نے کہاکہ ملزم خالد زمان پر قتل کے کیس میں اسلحہ فراہم کرنے کا الزام تھا۔ عدالت نے درخواست ضمانت واپس لینے پر خارج کر دی۔
ازخود نوٹس 

مزید :

صفحہ آخر -