قومی اسمبلی اپوزیشن کا مہنگائی اور آٹا بحران کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ 

  قومی اسمبلی اپوزیشن کا مہنگائی اور آٹا بحران کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد (آئی این پی)قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے ملک میں مہنگائی اور گندم و آٹا بحران کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے ''مافیا '' کی عدم گرفتاری پر اپوزیشن کی کمیٹی تشکیل دینے اور7دن میں ذمہ داروں کے تعین کی پیشکش کر دی۔اپوزیشن رہنما ؤں خواجہ محمد آصف اور راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ حکومت اگر مافیا کو گرفتار نہیں کر سکتی تو اپوزیشن کی کمیٹی بنادے،ہم7 دن میں انہیں (بقیہ نمبر16صفحہ12پر)

گھسیٹے ہوئے آپ کے سامنے لائیں گے، پابندی کے باوجود ملک سے آٹا اور گندم افغانستان برآمد کی جارہی ہے،حکومت بتائے کہ مہنگائی اور چینی پر کون پیسہ کما رہا ہے؟ حکومت کی چھتری کے نیچے لوگ اربوں روپے بنا رہے ہیں،وزیر اعظم لوگوں کو چور چور کہتے ہیں مگر اپنی بغل میں چور لے کر بیٹھے ہیں، بجلی اور گیس کی قیمتیں کئی کئی گنا بڑھائی گئیں مگرگردشی قرضہ کم ہو نے کی بجائے بڑھ گیا،پیرا شوٹر جن کی جیبوں میں شوگر اور آٹا ملیں ہیں ان کو عوام کی کوئی پرواہ نہیں، حکومت جس شعبے میں چاہے اس ایوان میں بحث کروا لے تاکہ عوام کو سچ پتا چلے۔وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ اپوزیشن جس معاملے پر چاہے ہم بحث کیلئے تیار ہیں۔سپیکراسد قیصرنے کہا کہ سوموار کو اس معاملے پر بحث کرلیتے ہیں۔وقفہ سوالات کے دوران وزیر مواصلات مراد سعید، پارلیمانی سیکرٹری خزانہ زین قریشی، پارلیمانی سیکرٹری تجارت عالیہ حمزہ ملک و دیگر نے جوابات دیتے ہوئے قو می اسمبلی کو آ گاہ کیا گیا ہے کہ حکومت کوئی منی بجٹ نہیں لا رہی ہے، چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی بیماری سے صحت یاب ہونے کے بعد دوبارہ اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے، اس وقت ایک لاکھ5ہزار سے زائد ٹیکس نادہندگان کے ذمے 396ارب 468کروڑ روپے سے زائد کی رقم واجب الادہ ہیں،جنوری تا جولائی 2020کے دوران مالی خسارے کے ضمن میں حکومت 1.9ٹریلین روپے قرض لینے کا ارادہ رکھتی ہے،حکومت اپنی مدت کے دوران 12261ارب روپے ملکی قرضہ جبکہ 28.2ارب ڈالر بیرونی قرضہ واپس کرنے کا ارادہ رکھتی ہے،ایران اور پاکستان کے مابین تجارت میں انڈرانوائسنگ بہت زیادہ ہے، اب ایران پر امریکی پابندیوں کے بعد ان کے ساتھ بارٹر سسٹم پر تجارت ہو گی، ہندوستان کے ساتھ تجارت بند ہونے سے پاکستان کے کاشتکاروں کو فائدہ ہورہا ہے، جی ایس پی پلس سے پاکستان کو تجارت بڑھانے میں بہت فائدہ ہوا ہے، یورپی یونین نے بھی پاکستان سے جی ایس پی پلس کی حیثیت واپس لینے کا کوئی عندیہ نہیں دیا ہے، پاکستان کی ٹیکسٹائل اور سپورٹس کی برآمدات میں بہت اضافہ ہوا ہے،برآمدات بڑھانے میں وقت لگے گا،وزیراعظم ہاؤس میں گاڑیوں کی نیلامی سے 217ملین روپے کی رقم وصول ہوئی، سکھر، ملتان موٹروے سیکشن میں دیگر سہولیات فروری کے آخر تک فراہم کر دیں گے۔اپوزیشن کے پاکستان ادارہ برائے پارلیمانی خدمات (ترمیمی بل)2019 اورقومی کمیشن برائے مقام خواتین ترمیمی بل2019 متفقہ طور پر منظور کر لئے گئے جبکہ کالے جادو اور قبر سے خواتین کی لاشیں نکال کر ان کی بے حرمتی جیسے سنگین جرائم کی روک تھام سمیت دیگربل پیش کر دئیے گئے جبکہ پی ٹی آئی رکن نفیسہ خٹک کامدرسوں، ہاسٹلز،یتیم خانوں اورمشنریزمیں بچوں کیساتھ بداخلاقی کی روک تھام سے متعلق بل حکومت کی مخالفت کی وجہ سے مسترد کر دیا گیا۔
قومی اسمبلی