مودی کا جنون اور ہماری ذمہ داری

مودی کا جنون اور ہماری ذمہ داری

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


قوم نے ایک بار پھر کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کر کے پوری دُنیا کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ کشمیر سے ہماری محبت اور رشتہ کبھی کمزور نہیں ہو سکا، اور نہ ہی ہم کشمیری بہن بھائیوں کو ابتلا کے اس مرحلے میں تنہا چھوڑیں گے، کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے جس طرح سیاسی و عسکری قیادت نے یک زبان ہو کر موقف اپنایا ہے اس سے دُنیا کو یہ بات سمجھ لینا چاہئے کہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان میں کسی بھی سطح پر اختلاف نہیں۔ آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ دُنیا مودی کا نظریہ سمجھ رہی ہے، چونکہ مغرب کے اپنے مفادات ہیں اس لیے انہیں بار بار کشمیر کے حوالے سے بتانا پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کشمیر کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی تین بار گفتگو کی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے سنگین غلطی کی ہے اور ان کا یہ ایمان ہے کہ کشمیر اب آزاد ہو گا۔وزیراعظم نے کہا کہ مودی کا یہ کہنا کہ وہ پاکستان کو گیارہ روز میں فتح کر لیں گے،کسی نارمل شخص کا بیان نہیں ہو سکتا۔ کشمیر کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے وہی جذبات ہیں جو ایک عام پاکستانی اپنے دِل میں رکھتا ہے۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر کا بازار گرم کر رکھا ہے۔گزشتہ روز بھی ظالم بھارتی فوج کے ہاتھوں تین کشمیری نوجوان شہید ہوئے،اب تک ہزاروں نوجوان گھروں سے لاپتہ ہیں اور مختلف ٹارچر سیلوں میں اذیتیں برداشت کر رہے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کچھ بھی کر رہے ہیں وہ خطے کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ ایک طرف وہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت جو آئین میں اسے حاصل تھی، ختم کر کے ریاست پر قابض ہو چکے ہیں۔ دوسری طرف وہ اور ان کے آرمی چیف بار بار جنگ کی دھمکیاں دے کر حالات خراب کر رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی یہ بات درست ہے کہ مودی ایک نارمل آدمی ہونے کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔گزشتہ روز انہوں نے لکھنؤ میں اسلحہ کی نمائش کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پانچ سال میں 800ارب کا جنگی سامان برآمد کرے گا۔ حیرت ہے کہ ایک ایسا ملک جہاں کروڑوں افراد فٹ پاتھوں پر سوتے ہیں، کروڑوں افراد کو ٹوائلٹ کی سہولت میسر نہیں، پینے کا صاف پانی میسر نہیں، خوراک اور صحت کے مواقع کا تو ذکر کرنا ہی بے سود ہے۔ اسلحہ سازی کے رجحان سے دراصل نریندر مودی کے جنگی جنون کا اندازہ ہوتا ہے یہ اسلحہ فروخت کر کے پوری دُنیا کے پُرامن ماحول کو ایک جنگی جنون میں تبدیل کرنا چاہتا ہے،جو ایک فاشٹ سوچ اور چانکیہ نظریات کا ترجمان ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عالمی برادری بالخصوص اور مسلم قیادت بالعموم کشمیر کے مسئلے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے اور کشمیریوں کی نسل کشی پر دانستہ چُپ ہے، لیکن دُنیا بھر کی خاموشی اور بھارت کا ظلم و ستم بھی کشمیریوں سے آزادی کی خواہش چھین سکا نہ ان کی جدوجہد کو دبا سکا، کشمیری شہیدوں نے اپنے خون سے آزادی کی جو شمع روشن کی ہے اسے بجھانا اب ممکن نہیں،ہم وزیراعظم عمران خان اور حکمران جماعت سے یہ توقع ضرور رکھتے ہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ اپنی اولین ترجیح رکھیں گے اور کشمیر کے حوالے سے پوری دُنیا میں خارجی محاذ پر رابطے اور ڈائیلاگ میں مزید تیزی لائیں گے، اسی طرح نریندر مودی اور ان کے آرمی چیف کی جانب سے جنگ کی دھمکیوں کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ ہمیں کسی بھی قسم کے حالات کے لئے تیار رہنے کی ضرورت ہے،کیونکہ نریندر مودی اپنی دیوانگی کے سبب کسی وقت بھی کوئی ایسی حرکت کر سکتا ہے،جس سے خطے کا امن داؤ پر لگ جائے، ہمیں اپنی فوج پر مکمل اعتماد ہے تاہم آنے والے خطرات کی پیش بندی کرنے میں کوئی حرج نہیں،بھارت اس سے قبل بھی اپنے جنون کا مظاہرہ کر چکا ہے،جس کا ہماری پاک فوج نے بروقت، بھرپور اور موثر جواب دیا۔ہمارا یقین ہے کہ ہماری سیاسی و عسکری قیادت آنے والے خطرات اور چیلنجوں سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور اس خطہ پاک کی جانب اُٹھنے والے ہر ہاتھ کو روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ گو مغرب کے بھارت سے اقتصادی،معاشی مفادات وابستہ ہیں۔ایک چڑیا کے زخمی ہونے پر شور مچانے والا مغربی میڈیا مقبوضہ کشمیر میں خون کی ہولی اور نسل کشی پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔یہ حکومت ِ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے حوالے سے مغرب کو مسلسل آگاہ کرتی رہے۔ ایسا بھی نہیں کہ یہ کاوشیں رائیگاں جائیں گی۔ عالمی برادری ایک دن ضرور اس بات کا ادراک کرے گی کہ آزادی کا مفہوم سری نگر میں بھی وہی ہے، جو واشنگٹن، لندن، پیرس یا ماسکو میں ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -