آلودہ پانی، لاہور شہر میں بھی!

آلودہ پانی، لاہور شہر میں بھی!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ہمارے سٹاف رپورٹر کے مطابق دو کروڑ کی آبادی کے شہر لاہور کے60فیصد باسی پینے کے پانی کی قلت کا شکارہیں یا آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں،جس کی وجہ پانی اور سیوریج کی لائنوں کا ایک دوسرے میں مل جانا ہے، واسا حکام اب تک اس پر قابو نہیں پا سکے،خبر کے مطابق صارفین کو نچلی منزل پر بھی پانی نہیں ملتا، جبکہ تجزیہ سے معلوم ہوا ہے کہ بعض علاقوں کے پانی میں فضلے کی آمیزش پائی جاتی ہے اور اس میں سے بُو آتی ہے۔یوں یہ پانی نہانے کے بھی قابل نہیں،واسا حکام اس سے انکار کرتے ہیں،لیکن شہریوں کا کہنا ہے کہ یہاں تو جن علاقوں میں ٹیوب ویلوں پر فلٹر پلانٹ لگائے گئے، وہ بھی خراب ہو چکے کہ ان کی تنصیب سے اب تک فلٹر ہی تبدیل نہیں کئے گئے۔ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہونے کے حوالے سے بہت سے مسائل میں اُلجھا ہوا ہے اور ماحولیاتی آلودگی کے ساتھ صاف پانی مہیا نہ ہونا بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے کہ آلودہ پانی مختلف امراض کا باعث بنتا ہے۔اس سلسلے میں حکومت اور انتظامیہ بڑے بڑے دعوے ضرور کرتی ہیں، لیکن اس کا سد ِباب نہیں کیا جاتا اور فنڈز کی کمی کا رونا رویا جاتا ہے۔پنجاب کے گورنر چودھری محمد سرور خود ایک این جی او کے ذریعے شفاف پانی کی مہم چلائے ہوئے ہیں،لیکن یہ بھی محدود ہے وہ بعض دیہات میں فلٹریشن کا نظام مہیا کر چکے تاہم یہ ضروریات سے بہت کم ہے اور اب تو ان کی ناک کے نیچے لاہور ہی میں 60فیصد قلت اور خرابی کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔گورنر چودھری محمد سرور اور وزیراعلیٰ پنجاب کو اس طرف خصوصی توجہ دینا ہو گی کہ یہ انسانی صحت کا معاملہ ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -