خیبر پختونخوا پولیس اسلحہ سکینڈل کیس کی سماعت 12 فروری تک ملتوی

خیبر پختونخوا پولیس اسلحہ سکینڈل کیس کی سماعت 12 فروری تک ملتوی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 
پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورکی احتساب عدالت کے جج کے رخصت پرہونے کے باعث خیبرپختونخواپولیس کے اسلحہ سکینڈل سے متعلق ریفرنس کی سماعت12فروری تک ملتوی کردی گئی جمعرات کے روز پشاورکی احتساب عدالت نے سابق آئی جی پی خیبرپختونخواملک نویدسمیت اعلی پولیس افسروں اوردیگرنامزدملزموں کے خلاف ریفرنس کی سماعت کرناتھی تاہم فاضل جج کے رخصت پرہونے کی بناء پرریفرنس کی سماعت نہ ہوسکی اورسماعت12فروری تک ملتوی کردی گئی واضح رہے کہ نیب خیبرپختونخوا نے سال 2008-2010 میں پشاور پولیس کے لئے جانیوالے اسلحے میں خرد برد پر ریفرنس دائر کیا ہے نیب کے ریفرنس میں 2.03 بلین کی مبینہ خرد برد پر سابق آئی جی پی سمیت اعلی دس پولیس افسران و بیورو کریٹ کونامزد کیاگیاہے سال2008-2010 میں صوبائی حکومت نے صوبے میں امن وامان کی صورت حال کے پیش نذر سات ارب روپے مالیت کااسلحہ بلٹ پروف جیکٹس اوردیگراشیاء و آلات کی خریداری کیلئے مختص کئے تھے سال 2013 میں شروع ہونیوالے اس کیس میں کنٹریکٹر عابد مجید نے 102 ملین روپے رضاکارانہ طور پر نیب کے حوالے کئے اوروعدہ معاف گواہ بن گئے تھے اس کیس میں حیدر ہوتی کے بھائی غزن ہوتی، جواد، رضا علی، ایف سی کمانڈنٹ عبدالمجید مروت بھی شامل ہیں دیگر ملزمان میں سابق ایڈیشنل ڈی آئی جی عبدالطیف گنڈا پور،ڈی آئی جی ساجد علی خان،ڈی آئی جی آئی بی سلیمان بھی ملزمان میں شامل ہیں اسی طرح سابق اے آئی جی اسٹبلشمنٹ کاشف عالم اور پولیس آفسر صادق کمال بھی نیب ریفرنس میں ملزمان نامزد ہیں یہ تمام افراد پروکیورمنٹ کمیٹی کے ممبران تھے جن پرسب سٹینڈر ڈ بلٹ پرو ف اسلحہ و دیگر سامان خریدنے کاالزام عائد کیاگیاہے