احساس پر وگرام

احساس پر وگرام

  

دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں جہاں آبادی کا تمام حصہ خوشحال ہو۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی غریب، بے روزگار اوربے سہا را افراد کسی نہ کسی تناسب میں ضرور موجود ہوتے ہیں۔ امریکہ کی مثال ہی لے لیجئے، وہاں پر بھی بے روزگار غریب اور بے سہارا افراد کی کفالت کے پیش نظر حکومت امریکہ عوام دوست پروگراموں کا اجراء کرتی ہے۔ جہا ں تک پاکستان کا تعلق ہے،یہاں پر آبادی کا بڑا حصہ خط غربت کے نیچے رہتا ہے اور بے روز گاری، مہنگائی کا جن بوتل سے ایسے باہر آیا ہے کہ قابو میں آنے کا نام نہیں لے رہا۔ صحت و تعلیم کے شعبے میں بھی حالات بہتر نہیں۔ ان تمام مسائل کے پس منظر کو زیر بحث لانا اس وقت مقصود نہیں، ان حالات سے دو چار افراد کی زند گی مشکل ہو چکی ہے اور حکومت کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ مشکل کے دنوں میں ان افراد کو کسی طرح سے بھی ریلیف فراہم کرے۔

موجودہ حکومت نے اس سلسلے میں ”احساس“ پر وگرام کا آغاز کیا ہے۔ یہ منصوبہ کسی خاص صوبے کے لیے نہیں، بلکہ پورے ملک کے لیے ہے جس کی ذمہ داری وفاقی کابینہ کے 34وزراء کے ذمے ہے۔ اس منصوبے کے تحت مزدور، خواتین، بے روز گار افراد اور بے سہارا افراد کو فوکس کیا گیا ہے۔ ایسے افراد جو معاشی دھارے میں نہیں ہیں، انہیں معاشی دھارے میں شامل کرنے کے لیے احساس پرو گرام کا اجر اء کیا گیاہے۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں مزدور ہیں جو موجودہ لیبر قوانین کے تحت نہیں آتے اور ان میں گھر یلو ملازمین اور دیہاتی خواتین بھی شامل ہیں۔ایسے افراد کے لیے حکومت نے 500 ڈیجیٹل سنٹر کھو لنے کا فیصلہ کیا ہے جن کے ذریعے غریب افراد کو سر کاری اثاثہ جات تک رسائی دی جائے گی اور سنٹرز کے ذریعے ملک بھر میں معاشی خواندگی میں اضافہ کیا جائے گا۔ پاکستان میں تقریباً79 فیصد آبادی کو معاشی خد مات تک رسائی حاصل نہیں۔ یہ محر ومی ان کی غر بت کے چنگل سے نکلنے کی صلاحیت پر اثرانداز ہوتی ہے۔ ڈیجیٹل نظام کے نفاذ سے پسے ہوئے اور پسماندہ طبقات کی مالیاتی اداروں اور منڈیوں تک رسائی ممکن ہو سکے گی۔ اسی طرح غیر رسمی شعبوں سے وابستہ مزدور پنشن بھی حاصل کر سکیں گے۔اس ڈیجیٹل نظام سے حکومت کم سے کم تنخواہ اور سماجی تحفظ کو غیر رسمی شعبے سے جڑے مزدوروں تک پھیلانے کے قابل بھی ہو جائے گی۔مزدور اور گھر یلو ورکر ز کو فوائد پہلے سے بہتر انداز میں پہنچانے میں بھی خاصی مدد ملے گی۔ احساس کفالت پروگرام سے لاکھوں افراد ہنر کی تعلیم سے مستفید ہوں گے۔

اس پروگرام کی بنیاد اُن لوگوں کے لیے رکھی گئی ہے، جن کے پاس نو کریاں نہیں ہیں،جبکہ پروگرام شروع کرنے کا بنیادی مقصد عام آدمی کا معیار زند گی بہتر بنانا ہے۔احساس پر وگرام کے تحت مالی سال 2019ء کے دوران مالیاتی ادارے ادائیگی کا نیا ”بی وی ایس“ نظام بھی تشکیل دیں گے اور اس ماڈل کے تحت برانچ لیس بچت بینکنگ اکاؤنٹس کھولے جائیں گے۔یہ پروگرام ان افراد کے لیے شروع کیا گیا ہے جو بے روز گار ہیں، انہیں بلا سود قرضے فراہم کئے جائیں گے، جبکہ کم آمد نی والوں کو معاشی ترقی کا حصہ بنایا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے غریب اور مزدور کے لئے بجٹ دوگنا کرنے کا بھی اعلان کیا جس سے بہت سے لوگوں کی زند گی میں چھوٹے قرضوں سے انقلاب آجائے گا۔ غربت کے خاتمے کے پر وگرام میں این جی اوز کو بھی شامل کیا جائے گا۔ ایسے پرو گراموں کے عام آدمی کی زندگی پر مثبت اثرات نظر آئیں گے۔ عوام کی ترقی و فلاح کے لیے 3 ارب روپے کے بلا سود قرضے دئیے جائیں گے۔چند روز قبل ”غربت مٹاؤ“ پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ غربت کے خاتمے کے پر وگرام میں 80 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے اور ایک نئی وزارت بھی قائم کی گئی ہے جو اس پروگرام کے لئے ملک بھر میں کام کرے گی۔

آئندہ دو ہفتوں بعد ”احساس پروگرام“ کا اگلا مرحلہ آئے گا، جس میں غریب لوگوں کو گائیں اور بھینسیں دی جائیں گی،غریب لوگوں کے بچوں کو وظائف دئیے جائیں گے۔کفالت پروگرام جو احساس پروگرام کا حصہ ہے، اس پرو گرام کے تحت مستفید ہونے والی خواتین کا بینکوں میں بچت اکاؤنٹ ہو گا۔ ہر خاتون کو سما رٹ فون ملے گا،اس پر وگرام کے تحت یوٹیلٹی سٹوروں او ر سکولوں کی فیسوں کی مدد میں رعایت ہو گی۔ کفالت پروگرام سے 7 لاکھ گھرانے مستفید ہوں گے اور دس لاکھ خواتین کو پاکستان پوسٹ کے ذریعے کارڈ کا اجر اء شروع کیا جائے گا۔یہ پروگرام 42.65 ارب روپے کا ہے جس سے آئند ہ چار سال میں ایک کروڑ 61 لاکھ افراد استفادہ کریں گے۔ احساس پروگرام کے ذریعے کم آمد نی کے حامل افراد کو معاشی ترقی کے دھار ے میں شامل کرنے کے لیے آئندہ چار برسوں میں 3 ارب روپے سے زائد قرضے دئیے جائیں گے۔اس پروگرام کے تحت آئندہ 4 سال کے لیے ہر ماہ 80 ہزار افراد کو بلاسود قرضے فراہم کئے جائیں گے اور لاکھوں افراد ہنر کی تعلیم سے مستفید ہوں گے۔ یہ پرو گرام ابتدا میں ایک سو اضلاع میں شروع کیا جائے گا، جہاں ایک کروڑ افراد اس سے مستفید ہوں گے، جن میں 50 فیصد خواتین شامل ہیں۔ موبائل فون کے ذریعے چھوٹے قرضوں کی ادائیگیاں ممکن بنائی جائیں گی، تاکہ وقت کی بچت ہواور عوام کے مسائل جلد حل ہو سکیں۔احساس پروگرام کی بنیاد غریبوں کے لیے احساس پر ہے اور اُمید کی جاتی ہے کہ حکومت اس امر کو یقینی بنائے گی تاکہ حق دار تک اس کا حق پہنچے۔

مزید :

رائے -کالم -