آرمی حوالدار کے کروڑوں کے اثاثوں پر سوال

آرمی حوالدار کے کروڑوں کے اثاثوں پر سوال
آرمی حوالدار کے کروڑوں کے اثاثوں پر سوال

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


”لیکن بشیر اتنے زیادہ، یعنی چار کروڑ کے اثاثہ جات اگر ایک ریٹائرڈ حوالدار کے پاس ہوں تو اس کو ایف آئی اے یا دیگر ریاستی ادارے کسی وقت بھی پکڑ کر دھنائی کر سکتے ہیں کہ اتنے اثاثے تمہارے پاس کہاں سے آئے؟ کیا کسی سرکاری ادارے نے آپ کو کبھی پکڑا نہیں“……بینک آف خیبر کے شریعہ بورڈ میں کم و بیش دس سال تک خدمات کی انجام دہی کے لئے بینک والے ہر سہہ ماہی میں ایک اجلاس منعقد کرتے ہیں۔ بینک کا ایک ہی ڈرائیور ہمیں گھر یا دفتر سے اٹھاتا اور پشاور یا اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس کے لئے لے جاتا۔ مَیں لگ بھگ تین سال سیالکوٹ کی ایک یونیورسٹی میں بھی رہا۔ایسے میں پشاور یا اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس کے لئے بشیر صاحب کو سیالکوٹ آ کر مجھے اٹھانا پڑتا تھا۔ اب تین چار گھنٹے کا سفر ہو تو مسلسل خاموشی اکتاہٹ میں بدل جاتی ہے، پھر اگر عرصہئ شناسائی برسوں پر پھیل جائے تو سواری اور پابہ رکاب مسافر ایک دوسرے کی ذاتی زندگی میں بھی ہلکی پھلکی تجاوزات کو غیرمناسب نہیں سمجھتے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ میرے اور بشیر ڈرائیور کے مابین ہو گیا۔ بشیر صاحب پاکستان آرمی سے حوالدار کے طور پر ریٹائر ہوئے تو عمر کچھ زیادہ نہیں تھی۔ حوالدار کی مقررہ مدت ملازمت 18سال ہوتی ہے۔

اس طرح فراغت کے وقت آدمی کی عمر چالیس بیالیس سال ہوتی ہے۔ بشیر صاحب ریٹائر ہوئے تو انہوں نے کام اور کاروبار کرنے میں ذرا دیر نہیں کی۔ پنشن اور دیگر بقایاجات کی مدد سے بینک سے قرض لیا اور اسی بینک کو اپنی خدمات بشکل رینٹ اے کار دینا شروع کر دیں۔ محنت اور اخلاص کے آمیزے سے تھوڑے ہی عرصے میں بینک کا قرض کم ہوتا گیا اور ان کی جمع پونجی میں اضافہ ہو تا گیا۔ جلد ہی انہوں نے دوسری گاڑی کے لئے وسائل فراہم کر کے نئے قرض کی درخواست دے دی۔ اس کے بعد چل سو چل…… 2017ء میں ہماری مذکورہ بالا گفتگو کے وقت آنجناب کے پاس بیس ٹیوٹا کرولا گاڑیاں تھیں، جن کی ان دنوں میں مجموعی مالیت چار کروڑ روپے تھی۔ اب دیکھنے والے نہ تو محنت کش کے شب و روز دیکھتے ہیں اور نہ ان کے سامنے اس کا اخلاص اور پتہ ماری ہوتی ہے۔ وہ تو بس ہمارے شام کے وقت ٹی وی پر دانشوروں کی طرح سوالی بن کر سوال در سوال اٹھاتے ہیں۔ ”سوال تو یہ ہے کہ ایک معمولی حوالدار کے پاس صرف دس سال میں یہ چار کروڑ کی بیس چمچماتی گاڑیاں کیسے اور کہاں سے آ گئیں“؟…… یہ سوال جب حالت طفولیت سے نکل کر بالغ ہوا تو معلوم نہیں کتنے ذہنوں اور کتنی زبانوں کے دوش پر سفر کرتا کرتا ایک دن ایف آئی اے کے دفتر جا نکلا، بس پھر کیا تھا،ایک دن بعد نماز مغرب ایک بند گاڑی بشیر صاحب کے گھر کے آگے آ کھڑی ہوئی۔ چند جوانوں نے بشیر کو گاڑی میں ڈالا اور تھوڑی ہی دیر بعدبشیر ”سوال تو یہ ہے“ کا سامنا کر رہا تھا۔


”تھوڑی ہی دیر بعد میں مجرم بنا ان کے کٹہرے میں کھڑا تھا،جونہی مَیں جواب دینے کی کوشش کرتا تو ٹوک دیا جاتا اور پھر وہی ”سوال تو یہ ہے“ کا کوڑا تازیانے کی شکل میں میرے پندار پر برس رہا ہوتا“۔ تنگ آ کر مَیں نے نہایت نرمی سے کہا، حضور! میرے پاس کسی سوال کاجواب نہیں ہے۔ ہر سوال کا جواب میری بیس گاڑیوں کی بیس فائلوں میں موجود ہے،اگر یہی سوال کسی طور طریقے پرآپ مجھے اٹھانے سے قبل کرتے تو آپ کو اتنی تکلیف نہ اٹھانا پڑتی۔ آپ چند بندوق برداروں کے ساتھ مجھے میرے گھر لے چلیں اور اپنی نگرانی میں وہاں سے فائلیں اٹھائیں۔جواب فائلیں دیں گی“۔بشیر نے کچھ توقف کیا، میرے تاثرات کا جائزہ لیا، میری مستفسرانہ نظروں کے جواب میں اس نے سلسلہ کلام وہیں سے شروع کیا۔ اس نے ایف آئی اے کے اس نیک نام افسر کا نام لیا،جو آج کل ایک بڑے عہدے پر ہیں۔ اس افسر کے دِل میں بشیر کی بات اُتر گئی۔ بشیر کے گھر ایک بار پھر چھاپا پڑا،فائلیں اٹھائیں گئیں، چادر میں بندھی فائلیں کھول کر بشیر نے ایک ایک گاڑی کا ایک ایک کاغذ حکام کے سامنے رکھا۔

بیس کی بیس گاڑیوں کی فائلیں بشیر کی محنت، اخلاص اور حصول رزق حلال کی گواہی دے رہی تھیں“۔پروفیسر صاحب! اس کے بعد ٹیکس کا سوال اُٹھا،اس کی گواہی بھی فائلیں دے رہی تھیں۔ آدھی رات کے لگ بھگ ثابت ہوا کہ بشیر بے گناہ مجرم ہے۔ جانتے ہیں پروفیسر صاحب پھر کیا ہوا“؟ مَیں اس کا کیا جواب دیتا، خاموش رہا۔بشیر صاحب خود ہی بولے: ”جناب پھر یہ ہوا کہ ایس ایس پی صاحب نے تمام تفتیش ختم کر کے اپنی پشت کرسی کی پشت کے ساتھ لگا کر چند لمحے خاموشی اختیار کی۔ کمرے میں سناٹا چھا گیا۔ ایس ایس پی صاحب نے اپنی تمام ٹیم کو متوجہ کر کے پاٹ دار آواز میں یوں مخاطب کیا: ”سنو بھئی! میرے سمیت ہم سب کو شرم آنا چاہئے۔ دیکھو! ایک معمولی حوالدار نے اپنی چند لاکھ معمولی پنشن کو اپنی محنت اور لگن کے آمیزے سے چار کروڑ روپوں میں بدل دیا او ر ایک ہم نوکر پیشہ لوگ ہیں کہ زندگی بھر کبھی ادھر ”جھک“ مارتے ہیں اور کبھی کسی دوسرے کا منہ دیکھتے ہیں۔ بشیر! مَیں آپ کی محنت کو سلام کرتا ہوں“۔ بشیر صاحب سے مزید کچھ پوچھنا ہو تو بینک آف خیبر کے زونل آفس اسلام آباد سے ان کا پتا لے کر پوچھا جا سکتا ہے۔


”ہاں تو شہزاد صاحب یہ بتائیے کہ ایک صاحب اگر ایک بحری جہاز خرید کر دو تین ہفتوں کے اندر اسے ڈیڑھ کروڑ روپے منافع پر بیچ دیں تو آپ کے خیال میں ان کی سرمایہ کاری کتنی کچھ رہی ہو گی“؟اب مَیں نوکر پیشہ پروفیسر، برادر مکرم ڈاکٹر محمد میاں صدیقی کو اس کا کیا جواب دیتا۔ ہماری یہ گفتگو نوے کی دہائی کی ہے،جب ڈیڑھ کروڑ آج کے لگ بھگ پانچ ارب روپے کے مساوی تھا۔ ”توجہ کیجئے شہزاد صاحب مَیں بتاتا ہوں، اس سارے کام پر ان کے صرف ایک سو پچاس روپے خرچ ہوئے“۔ میری آنکھوں میں بے یقینی اور تشکیک کے لہراتے سائے دیکھ کر بولے: ”شہزاد صاحب کاروبار کی دُنیا کو نوکر پیشہ شخص پوری زندگی سمجھ ہی نہیں سکتا، جس کی زندگی سالانہ انکریمنٹ اور چند الاؤنسوں کے کھونٹے کے ساتھ بندھی ہوتی ہے۔

میرے یہ عزیز کراچی میں مارکیٹ منڈی کے آدمی تھے۔ انہوں نے اشتہار دیکھا کہ ایک بحری جہاز اپنی طبعی عمر پوری کر کے اسکریپ ہونے جا رہا ہے اور برائے فروخت ہے۔انہوں نے کمپنی کے صدر دفتر واقع ہانگ کانگ کو ایک فیکس کی اور اپنی نہایت پُرکشش بولی دے دی۔ دوسری فیکس انہوں نے گڈانی میں اسکریپ کرنے والی کمپنی کے صدر دفتر واقع کراچی میں کی کہ فوری ادائیگی کی جائے تو چھ کروڑ کا جہاز مَیں آپ کو پانچ کروڑ میں دیتا ہوں، اگر نہیں تو بھی ٹھیک، مَیں پانچ کروڑ ہی میں جہاز دیتا ہوں، بشرطیکہ آپ مجھے تین کروڑ ابھی اسی وقت دے دیں۔تھوڑی ہی دیر میں کمپنی کا مثبت جواب مع ادائیگی کے آ گیا۔ تیسری فیکس انہوں نے ہانگ کانگ اداءٰیگی کے ساتھ کی اور تقاضا کیا کہ جہاز کا لنگر اٹھا کر اسے سنگاپور سے گڈانی روانہ کر دیا جائے۔ شہزاد صاحب! یہ سارا کام کاروباری نام اور ساکھ (Goodwill) پر ہوا۔ جس پر مبلغ ڈیڑھ سو روپے صرف تین فیکس پر خرچ ہوئے اور موصوف نے تین ہفتوں کے اندر نوے کی دہائی کا ڈیڑھ کروڑ کما لیا“۔


مَیں آئے دن عدالتی کارروائی کی اخباری رپورٹوں میں پڑھتا ہوں کہ معزز جج صاحب نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ”سوال تو یہ ہے کہ کون سا کاروبار ہے،جس میں ملزم نے چند سال میں کروڑوں کما لئے“۔ تو مجھے ڈاکٹر صدیقی کا تبصرہ یاد آتا ہے کہ سرکاری ملازم کاروبار کو سمجھ ہی نہیں سکتا۔آپ دن رات ٹی وی چینلوں اور دیگر ذرائع ابلاغ پر کاروباری افراد اور سیاست دانوں کی کردار کشی سنتے پڑھتے ہیں، جن کا ہدف یہی دو طبقے ہیں:”کاروباری افراد اور سیاست دان؟ ”سوال تو یہ ہے کہ“ٹیکس چوری اور حرام ذرائع سے مال کمانا جرم عظیم ہے۔ تمام مرتکبین کو قانون کے آہنی شکنجے میں کسنا ضروری ہوتا ہے، لیکن یہ کیا کہ بشیر ڈرائیور کو پہلے گھر سے اٹھا کر محلے بھر میں تماشا بنایا جائے اور تفتیش بعد میں ہو۔ عدالتی منصف اور ٹی وی دانشو ر ”سوال یہ ہے کہ……“ کہہ کر اول تو بے چارے ”ملزم“کی آئندہ تین پشتوں کو ماحول میں مجرم بنا دیں اور جب فیصلہ اس سوال کی روح کے منافی آئے تو عامۃ الناس عدالتی فیصلے پر سوال اٹھانا شروع کر دیں۔اپنے طور پر مَیں نے کافی غور و خوض کے بعد بالآخر اس کا ایک دانشورانہ جواب تلاش کر ہی لیا کہ صاحب اس کی قصور وار پارلیمنٹ ہے،جو قانون ازالہ حیثیت عرفی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کرتی۔

کیا وجہ ہے کہ اس طرح کی بدزبانی اور کسی کی کردار کشی کر کے مغربی ممالک میں کوئی شخض بچ ہی نہیں سکتا۔ قانونی نظام اس پر یا تو بھاری تاوان عائد کرتا ہے یا اسے اسی اسلوب میں معافی مانگنا پڑتی ہے، چنانچہ میرے خیال میں پارلیمنٹ کو اپنی ذمہ د اری ادا کرنا چاہئے۔ میرے یہ افکار عالیہ سن کر استاد محترم بیرسٹر فرخ کریم قریشی نے مجھے خشمگیں نظروں سے گھورا: ”او پگلے! اس طرح کی ”علم ناک“ باتیں کرنے سے قبل متعلقہ افراد سے پوچھ لیا کرو۔ جاؤ اپنے ہی فلاں ساتھی اور قانون کے سابق مدارالمہام سے پتا کر لو۔ ابھی پچھلے ہی ہفتے کسی فلاں قانون کے منظور نہ ہونے کی وجہ بتا رہا تھا۔ ایک اس فلاں قانون کا کیا ذکر اذکار؟ ارے وہ کہہ رہا تھا، کابینہ سے منظوری کے بعد ہر بل کا ڈرافٹ جب تک فلاں جگہ سے منظور نہ ہو جائے،اسے اسمبلی سینٹ میں ٹیبل کیا ہی نہیں جا سکتا؟چلو جاؤ!“ مَیں انہیں کوئی کمزور سا جواب دینے لگا تو اچانک ایک تائیدی نکتہ ذہن میں آ گیا۔ قارئین کرام! ہم سب کو یاد رکھنا چاہئے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی آخری دِنوں میں ایک پریس کانفرنس ان کے اپنے، یعنی سرکاری ٹی وی، جی ہاں سرکاری ٹی وی نے بھی روک دی تھی۔ کچھ پتا نہیں کیوں، لیکن ہم سب کو یاد رکھنا چاہئے:


جدا جب تک تیری زلفوں سے پیچ و خم نہیں ہوں گے
ستم دنیا میں بڑھتے ہی رہیں گے، کم نہیں ہوں گے

مزید :

رائے -کالم -