چیف جسٹس کا الہ دین پارک سے متصل عمارت گرانے کا حکم

چیف جسٹس کا الہ دین پارک سے متصل عمارت گرانے کا حکم

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کراچی (اسٹاف رپورٹر)چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کراچی میں الہ دین پارک سے متصل راشد منہاس روڈ پر زیر تعمیر بلڈنگ پر حکم امتناع کی درخواست مستردکرتے ہوئے عمارت گرانے کا حکم دے دیا۔جمعرات کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے مختلف کیسز کی سماعت کی۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس زمین کا مالک کون ہے؟ جس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ یہ زمین حسین ناصر لوتھا کے نام ہے، چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ یہ بتائیں، ایک غیر ملکی کو زمین کس قانون کے تحت دی گئی؟۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ یہ زمین بورڈ آف ریونیو کی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ یہ زمین کس محکمے کی ہے یہ بعد کی بات ہے، آپ نے کس طرح زمین الاٹ کی وہ طریقہ کار غلط تھا، کیا کسی اور ملک میں آپ کو اس طرح زمین مل سکتی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ سرکاری زمین کو لیز کرنے کا طریقہ کار ہوتا ہے، 2ایکڑ زمین دینے کا تمام عمل غیر قانونی ہے۔اس موقع پر عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ یہ زمین 2010 میں ہارٹی کلچر کے لئے دی گئی تھی،اور آپکے پاس کوئی ثبوت نہیں کہ زمین آپ کو دی گئی ہے۔اس موقع پر عدالت نے الہ دین پارک سے متصل اراضی کی منتقلی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی لیز بھی منسوخ کردی۔

مزید :

صفحہ اول -