ممبئی میں آن لائن ٹیکسی ڈرائیور نے اپنی سواری کو سیدھا تھانے پہنچا دیا، مگر کیوں؟ وجہ بھی سامنے آ گئی

ممبئی میں آن لائن ٹیکسی ڈرائیور نے اپنی سواری کو سیدھا تھانے پہنچا دیا، مگر ...
ممبئی میں آن لائن ٹیکسی ڈرائیور نے اپنی سواری کو سیدھا تھانے پہنچا دیا، مگر کیوں؟ وجہ بھی سامنے آ گئی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ممبئی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں گزشتہ روز ایک ٹیکسی ڈرائیور نے اپنی سوار کو پولیس کے ہاتھوں گرفتار کروانے کی کوشش کر ڈالی جس کی وجہ ایسی تھی کہ سن کر کوئی ہوش مند یقین ہی نہ کرے۔ این ڈی ٹی وی کے مطابق اس مسافر کا نام ’بپا دتیہ سرکار‘ ہے جو شاعر بھی ہے۔ اس گزشتہ شب ساڑھے 10بجے کے قریب ممبئی کے علاقے جوہو سے ’اوبر‘ ٹیکسی پکڑی۔ ٹیکسی میں سوار ہونے کے بعد اس نے اپنے جے پور میں موجود ایک دوست کو کال کی اور دونوں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور متنازعہ شہریتی ترمیمی بل پر ہونے والے مظاہروں پر گفتگو کرنے لگے۔
بپا دتیہ سرکار نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ ”مجھے اوبر میں بیٹھے کال کرتے 20منٹ گزرے کہ ایک جگہ ڈرائیور نے کار روک دی اور کہا کہ اسے اے ٹی ایم سے پیسے نکالنے ہیں۔ میں نے اسے اجازت دے دی۔ وہ دو منٹ بعد واپس آیا اور اس کے ساتھ دو پولیس آفیسر تھے۔ آتے ہی اس نے پولیس والوں سے کہا کہ ’یہ کمیونسٹ ہے، اسے گرفتار کر لو۔‘ اس نے پولیس والوں سے کہا کہ میں گاڑی میں بیٹھ کر ملک کو جلانے کی باتیں کر رہا تھا۔ پولیس والے مجھے تھانے لے گئے اور تفتیش شروع کر دی۔ ڈرائیور نے مجھے پولیس والوں کے سامنے دھمکی دی کہ ’شکر کرو میں تمہیں پولیس والوں کے پاس لایا ہوں، کہیں اور (شاید انتہاءپسند ہندوﺅں کے پاس ) نہیں لے کر گیا ورنہ تمہارا جو حشر ہوتا وہ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔‘ اس کی اس دھمکی پر پولیس والے خاموش رہے اور اسے کچھ نہیں کہا۔ رات ایک بجے کے آس پاس ایس گوہل نامی ایک فعالیت پسند آیا اور مجھے پولیس سے چھڑوا کر لے گیا۔ بھارت میں آج حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ ہم فون پر ملکی صورتحال پر بھی بات نہیں کر سکتے۔ پولیس بھی الٹا ایسے انتہاءپسندوں کی حمایت کرتی ہے اور ان کی کھلے عام دھمکیوں کو بھی درگزر کیا جاتا ہے۔“