چپاتی میں چھپے خط کے ذریعے محبوبہ مفتی کا اپنی بیٹی التجا مفتی سے رابطہ، اس میں کیا لکھا تھا؟ کہانی سوشل میڈیا پر وائرل

چپاتی میں چھپے خط کے ذریعے محبوبہ مفتی کا اپنی بیٹی التجا مفتی سے رابطہ، اس ...
چپاتی میں چھپے خط کے ذریعے محبوبہ مفتی کا اپنی بیٹی التجا مفتی سے رابطہ، اس میں کیا لکھا تھا؟ کہانی سوشل میڈیا پر وائرل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

سری نگر(مانیٹرنگ ڈیسک) مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کو دیگر کشمیری رہنماﺅں سمیت قید ہوئے کئی ماہ گزر چکے ہیں۔ جب انہیں گرفتار کیا گیا تو انہوں نے چپاتیوں میں خط چھپا کر بھیجے اور اپنی بیٹی التجا اقبال سے رابطہ کیا۔ این ڈی ٹی وی کے مطابق گزشتہ روز محبوبہ مفتی کی صاحبزادی التجا اقبال نے محبوبہ مفتی کے ٹوئٹر اکاﺅنٹ سے’جسے ان کی گرفتاری کے بعد سے وہی چلا رہی ہیں‘ پر ایک طویل خط پوسٹ کیا جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی گزشتہ 6ماہ کی صورتحال بیان کی گئی تھی۔ التجا نے بتایاکہ انہوں نے یہ خط ایک چپاتی میں چھپا کر اپنی والدہ کو بھیجا۔ انہوں نے بتایا کہ والدہ کی گرفتاری کے بعد ابتدائی دن میں نے شدید ڈپریشن میں گزارے۔ ہمارا کوئی رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا۔ پھر ایک روز ٹفن باکس میں میری والدہ نے ایک خط چھپا کر بھیجا۔“
التجا نے بتایا کہ ”اس خط میں میری والدہ نے لکھا کہ وہ چاہتے کہ میں سوشل میڈیا کے ذریعے کمیونی کیشن نہ کروں، اور اگر کوئی دوسرا شخص میرا سوشل میڈیا چلائے گا تو وہ اس پر جعل سازی کا مقدمہ درج کروا دیں گے۔“ اس مختصر خط کے آخر میں محبوبہ مفتی نے اپنی بیٹی کے لیے محبت کا اظہار کیا اور لکھا کہ وہ انہیں بہت یاد کرتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ مقبوضہ جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کیے جانے کے بعد سے قید ہیں اور گزشتہ روز ان پر پبلک سیفٹی ایکٹ بھی لاگو کر دیا گیا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت کشمیری رہنماﺅں کو عدالت میں پیش کیے بغیر 3ماہ تک نظربند رکھا جا سکتا ہے اور ان کی نظربندی میں متعدد بار توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
التجا اقبال مزید بتاتی ہیں کہ جب ٹفن باکس میں مجھے میری والدہ کا خط ملا تو مجھے میری دادی نے اس خط کا جواب دینے کا حوصلہ دیا اور طریقہ بھی بتایا۔ میری دادی نے مجھے بتایا کہ میں جوابی خط کو ایک چپاتی کے درمیان رکھ کر اسے بیلن سے بیل دوں اور پکا کر دیگر چپاتیوں کے درمیان رکھ کر بھیج دوں۔ میں نے ایسا ہی کیااور اس کے بعد کئی بار اس طریقے سے میں نے اپنی والدہ سے رابطہ کیا۔ اس وقت میری والدہ کو چشمشاہی گیسٹ ہاﺅس میں رکھا گیا تھا لیکن دسمبر میں سری نگر کے ایم اے روڈ پر واقع ایک سرکاری بنگلے میں منتقل کر دیا گیا۔