”میں نے ڈرون سے ایک بچے کی جان لی اور اسے مرتے دیکھا لیکن میرے سپروائزر کا دعویٰ ہے کہ یہ ۔۔۔“ امریکی ایئرفورس کے اہلکار کے انکشاف نے نیا تنازعہ کھڑا کر دیا

”میں نے ڈرون سے ایک بچے کی جان لی اور اسے مرتے دیکھا لیکن میرے سپروائزر کا ...
”میں نے ڈرون سے ایک بچے کی جان لی اور اسے مرتے دیکھا لیکن میرے سپروائزر کا دعویٰ ہے کہ یہ ۔۔۔“ امریکی ایئرفورس کے اہلکار کے انکشاف نے نیا تنازعہ کھڑا کر دیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ایئرفورس کے ایک اہلکار نے ڈرون طیارے کے ذریعے بچے کو قتل کرنے کے حوالے سے ایسا انکشاف کر ڈالا ہے کہ نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ برطانوی اخبار دی سن کے مطابق امریکی ایئرفورس کے اس اہلکار کا نام برینڈن برائنٹ ہے جو ڈرون طیارہ آپریٹ کرتا تھا۔ وہ ہزاروں میل دور امریکہ میں کسی کمرے پر بیٹھ کر ڈرون اڑاتا اور افغانستان، شام اور عراق میں لوگوں کو نشانہ بناتا تھا۔ ایک بار اس نے ڈرون حملہ کرکے ایک بچے کے چیتھڑے اڑا دیئے تھے۔ اس نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ”جب میں نے ڈرون سے بچے کو نشانہ بنایا اور اسے مرتے ہوئے سکرین پر دیکھا تو میں ہل کر رہ گیا لیکن میرے سپروائزر نے مجھے کہا کہ جسے تم نے مارا ہے وہ کوئی بچہ نہیں بلکہ ’کتا‘ تھا۔“
برینڈن کا کہنا تھا کہ ”میں لاس ویگاس میں واقع کنٹرول سٹیشن میں تھا اور 7500میل دور افغانستان میں ایک عمارت کو ڈرون سے نشانہ بنانے والا تھا جس میں دشمن موجود تھے۔ اسی دوران عمارت کے سامنے سڑک پر میں نے ایک بچے کو دوڑتے ہوئے دیکھا۔ اس وقت ڈرون کے لینز کے نشانے پر وہ بچہ تھا اور میں نے وہی میزائل فائر کر دیا۔ اگلے میں نے بچے کو مرتے ہوئے اپنی سکرین پر دیکھا۔ یہ ایک ایسا منظر تھا جو اب تک میرا پیچھا کرتا ہے اور میں اس کے متعلق سوچ کر خوفزدہ ہو جاتا ہوں۔ اگرچہ میرے سپروائزر نے مجھے اس وقت تسلی دیتے ہوئے کہا تھا کہ جسے میں نے مارا وہ درحقیقت ایک کتا تھا۔“رپورٹ کے مطابق اس بچے کی ہلاکت کے 13سال بعد برینڈن نے رواں سال جنوری میں عراق کے شہر بغداد میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا۔