’جو لوگ میرے اور میرے بچوں کے ریپ کے دعائیں کر رہے ہیں انہیں بتادوں کہ میرے بچے نہیں اور اللہ کا شکر ہے کہ میرے بچے نہیں ہیں کیونکہ ۔۔۔ ‘

’جو لوگ میرے اور میرے بچوں کے ریپ کے دعائیں کر رہے ہیں انہیں بتادوں کہ میرے ...
’جو لوگ میرے اور میرے بچوں کے ریپ کے دعائیں کر رہے ہیں انہیں بتادوں کہ میرے بچے نہیں اور اللہ کا شکر ہے کہ میرے بچے نہیں ہیں کیونکہ ۔۔۔ ‘

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی اسمبلی میں بچوں کا ریپ کرنے والے مجرموں کو سر عام پھانسی دینے کی قرار داد منظور ہوئی تو اس پر بحث شروع ہوگئی ہے۔ اس معاملے پر نہ صرف قانون ساز منقسم نظر آتے ہیں بلکہ عام عوام میں بھی سر عام پھانسی کی سزا پر اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔
خاتون صحافی جویریہ صدیق بھی انہی لوگوں میں شامل ہیں جو سر عام پھانسی کی مخالفت کرنے والوں میں شامل ہیں جس کے باعث انہیں کڑی تنقید کا سامنا ہے۔ جویریہ صدیق نے فواد چوہدری کے ٹویٹ کے جواب میں لکھا تھا کہ سر عام پھانسی انتہا پسندی ہے ، مجرموں کو پھانسی کی بجائے عمر قید کی سزا دی جانی چاہیے۔
خاتون صحافی کی اس بات پر پاکستانی اتنے آگ بگولہ ہوئے کہ انہیں ہی تنقید کا نشانہ بنا ڈالا اور دل کھول کر بد دعائیں دینے لگے۔ پاکستانیوں کے اس رویے پر جویریہ صدیق سخت دلبرداشتہ ہوئیں اور ایک ٹویٹ میں اپنا دل کھول کر رکھ دیا۔
جویریہ صدیق نے کہا کہ ’میرے ٹویٹ کے جواب میں جتنے لوگ میرا ریپ ہونے کے خواہش مند ہیں اور میرے بچوں کو ریپ کے بعد مرنے کی دعائیں دے رہیں ان کو میں یہ کہتی چلوں کہ میرے بچے نہیں اور اللہ کا شکر ہے کہ جس ملک میں ان جیسے لوگ بچوں پر حملے کررہے ہیں وہاں میری اولاد نہیں ہوئی۔‘ انہوں نے ایسی سوچ رکھنے والوں کی سوچ پر بھی چار حرف بھیجے۔