’ایس پی ابرار حسین نیکوکارہ کی خود کشی کی وجہ خفیہ شادی تھی‘ صحافی جاوید چوہدری کا تہلکہ خیز دعویٰ

’ایس پی ابرار حسین نیکوکارہ کی خود کشی کی وجہ خفیہ شادی تھی‘ صحافی جاوید ...
’ایس پی ابرار حسین نیکوکارہ کی خود کشی کی وجہ خفیہ شادی تھی‘ صحافی جاوید چوہدری کا تہلکہ خیز دعویٰ

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) صحافی و اینکر پرسن جاوید چوہدری نے اپنے ایک کالم میں دعویٰ کیا ہے کہ 13 جنوری کو اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے والے ایس پی ابرار حسین نیکوکارہ کی خود کشی کی وجہ ان کی خفیہ شادی تھی کیونکہ ان کی والدہ انتہائی سخت مزاج عورت ہیں جنہوں نے طلاق کیلئے دباﺅ ڈالنا شروع کردیا تھا لیکن وہ اپنی بیوی کو چھوڑنا نہیں چاہتے تھے، بیوی اور ماں کے بیچ میں پسنے والے ابرار نیکوکارہ نفسیاتی مریض بن گئے اور ڈاکٹرز کے پاس جانے لگے لیکن جب ان کا ذہنی تناﺅ حد سے بڑھا تو انہوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

اپنے کالم ’ یہ وِسل ہے سن لیں‘ میں جاوید چوہدری نے لکھا ’ابرار حسین چنیوٹ کے گاوں کرم شاہ میں پیدا ہوئے اور یہ شیخوں کی سب کاسٹ نیکوکارا سے تعلق رکھتے تھے‘ گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتے رہے‘ قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے انٹرنیشنل ریلیشینز میں ایم اے اور سی ایس ایس کیا اور پولیس سروس جوائن کر لی‘ یہ مختلف اضلاع میں اے ایس پی اور ایس پی بھی رہے اور خوشاب میں ڈی پی او اور فیصل آباد میں چیف ٹریفک آفیسر بھی اور یہ آخر میں روات پولیس ٹریننگ سینٹر میں پرنسپل ہو گئے‘ یہ پولیس سروس میں ابرار حسین نیکو کارا کہلاتے تھے‘ یہ سرکاری حیثیت میں مضبوط‘ دلیر اور عقل مند تھے‘ یہ ملنے والوں کو بہت جلد متاثر کر لیتے تھے لیکن یہ ذاتی زندگی میں کمزور اور حساس تھے۔

خاندان کے دباو میں آ جاتے تھے‘ خاندان سے چھپ کر شادی کر لی‘ والدین شادی سے واقف نہیں تھے لہٰذا یہ رشتہ تلاش کرتے رہتے تھے مگر یہ انھیں ”ابھی کیا جلدی ہے“ کا لارا دے کر خاموش کرا دیتے تھے‘ اللہ تعالیٰ نے انھیں بیٹا دے دیا‘ دوسرا بیٹا بھی ہو گیا‘ اس دوران کسی دوست نے والدین کو ان کی شادی کی اطلاع دے دی‘ والدہ سخت مزاج تھیں‘ انھوں نے طلاق کے لیے دباو ڈالنا شروع کر دیا‘ یہ بیگم کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھے‘ طبیعت حساس تھی چناں چہ یہ بیگم اور والدہ دو چکیوں میں پسنا شروع ہو گئے‘ یہ دباو اینگزائٹی میں تبدیل ہو گیا‘ اینگزائٹی ڈپریشن بن گئی اور یوں یہ باقاعدہ نفسیاتی مریض بن گئے۔

یہ نفسیات دانوں کے پاس بھی جانے لگے اور ادویات بھی استعمال کرنے لگے‘ اس دوران نیکوکارا کے اندر خودکشی کا رجحان پیدا ہو گیا‘ نفسیات دان نے یہ تبدیلی بھانپ لی لہٰذا اس نے انھیں اکیلا رہنے سے پرہیز کا مشورہ دے دیا‘ ڈاکٹر نے ہدایت کی ”آپ باتھ روم بھی اکیلے نہیں جائیں گے‘ کوئی نہ کوئی شخص دروازے کے باہر کھڑا ہو گا اور آپ اندر سے کنڈی نہیں لگائیں گے“ یہ ہدایات کے مطابق ادویات بھی کھاتے رہے اور ڈاکٹر کی ایڈوائس پر عمل بھی کرتے رہے‘ یہ سلسلہ 13جنوری 2020تک جاری رہا‘ 13جنوری کی رات ابرار حسین نیکوکارا نے اپنے کمرے میں خود کو گولی مار لی‘ پولیس کو ان کی لاش کے قریب ان کے ہاتھ سے لکھا نوٹ ملا‘ نوٹ میں لکھا تھا ”انسان خودکشی اس لیے کرتا ہے جب وہ بیزار ہو جاتا ہے اور اس کو تخلیق کی سمجھ آ جاتی ہے‘ جب ایک سمجھ دار بندہ اپنی جان لیتا ہے تو اس کی موت پر رویا نہیں کرتے‘ اس کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں“۔

مزید :

تجزیہ -علاقائی -اسلام آباد -