زندہ دلان کے شہر میں  تین ٹی 20،شاہیوں کا صحیح ٹیسٹ!

 زندہ دلان کے شہر میں  تین ٹی 20،شاہیوں کا صحیح ٹیسٹ!

  

افضل افتخار

پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے بعد جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمد نے شائقین کرکٹ کے دل موہ لئے ہیں۔کراچی اور راولپنڈی میں ٹیسٹ سیریز کے انعقاد کے بعد اب قذافی سٹیڈیم لاہور جنوبی افریقہ کے خلاف تین ٹی ٹوئنٹی میچز کی میزبانی کیلئے تیار ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا پہلا میچ 11 فروری، دوسرا میچ 13 اور تیسرا 14 فروری کو کھیلا جائے گا۔بیٹنگ کیلئے سازگار 2 پچز تیار کردی گئی ہیں۔ قومی کرکٹ ٹیم کے لئے یہ سیریز آسان ہدف نہیں ہوگا اس میں کامیابی کے لئے سخت محنت درکار ہوگی مہمان ٹیم کا ٹی ٹونٹی میچز میں پاکستان کے خلاف پلڑا بھاری ہے اب تک کھیلے گئے میچز میں پروٹیز نے پاکستان سے زیادہ ٹی ٹونٹی میچ جیت رکھے ہیں قومی کھلاڑیوں کا سیریز کے لئے جوش و جذبہ تو بہت ہے مگر میدان میں کیسی پرفارمنس رہتی ہے یہ وقت آنے پر ہی معلوم ہوگا قذافی سٹیڈیم میں طویل عرصہ بعد انٹرنیشنل ٹی ٹونٹی میچز کا انعقاد ہورہا ہے جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے جنوبی افریقہ سے ٹی ٹونٹی سیریز کے لئے 20 رکنی سکواڈ کا اعلان کردیا ہے محمد حفیظ، عماد وسیم، عبداللہ شفیق اور وہاب  ریاض کو ڈراپ کردیا گیا ہے جبکہ بابراعظم کپتان، حیدرعلی، خوشدل شاہ، حسین طلعت، دانش عزیز، آصف علی، افتخار احمد، ظفر گوہر، محمد نواز، فہیم اشرف، عامر یامین، عماد بٹ، محمد رضوان، سرفراز احمد، حارث رف، شاہین شاہ آفریدی، حسن علی، محمد حسنین، زاہد محمود، عثمان قادر ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کا حصہ ہوں گے اس  حوالے سے چیف سلیکٹر محمد وسیم نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کو ورلڈکپ کو مدنظر رکھتے ہوئے کھلاڑیوں کو سلیکٹ کیا گیا ہے، تمام لڑکوں نے بہترین پرفارم کیا امید ہے یہی تسلسل برقرار رہے گا، کھلاڑیوں کے ٹیم میں کردار کو دیکھتے ہوئے سلیکشن کی گئی ہے۔چیف سلیکٹر محمد وسیم نے کہا کہ کچھ اہم چیزیں نوٹ کی ہیں جن پر کام کرنے کی ضرورت ہے ہم نے حریف ٹیم کے خلاف ایک مضبوط سکواڈ تشکیل دیا ہے۔چیف سلیکٹر کا کہنا تھا کہ عثمان قادر اور زاہد محمود 20رکنی ٹیم میں شامل ہیں، محمد حفیظ ٹی ٹین لیگ اورعماد وسیم فیملی وجوہات کے باعث ٹیم کو دستیاب نہیں، شاداب خان انجری کے باعث منتخب نہ ہو سکے جب کہ فخرزمان،  عبداللہ شفیق، وہاب ریاض، اور محمد موسی کو ڈراپ کیا گیا ہے دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈکے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے کہا کہ دورہ جنوبی افریقہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا بڑا کارنامہ ہے اور اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ہوگئی ہے ٹیسٹ سیریز کے بعد اب ٹی ٹونٹی سیریز کاانعقاد شائقین کرکٹ کے لئے بڑی خوشخبری ہے مستقبل میں انگلینڈ اور آسٹریلوی ٹیم کی بھی آمد ہوگی وسیم خان نے مزید کہا کہ پاکستان کھیلوں کے لئے پر امن ملک ہے۔جبکہ جنوبی افریقی کرکٹر کیگیسو ربادا  نے کہاہے کہ پہلی بار پاکستان آکر اچھا لگ رہا ہے لیکن کراڈ کے بغیر کھیلنا مختلف تجربہ ہے۔اپنے ایک انٹرویو میں جنوبی افریقی فاسٹ بولر نے کہا کہ خواہش ہے ایک دن پاکستان سپر لیگ میں ضرور حصہ لوں۔آن لائن انٹرویو میں کیگیسو  ربادا کا کہنا تھا کہ وہ پہلی بار پاکستان آئے ہیں، یہاں کی کنڈیشن برصغیر کے دوسرے ملکوں جیسی ہے لیکن اس سیریز کو تاریخی اہمیت حاصل ہے، انہیں خوشی ہے کہ وہ پاکستان آکر کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں مصروفیات کی وجہ سے پی ایس ایل کھیلنے کا موقع نہیں مل سکا لیکن ایک دن وہ پاکستان سپر لیگ ضرور کھیلیں گے۔ ایک سوال پر 25 سالہ جنوبی افریقی فاسٹ بولر نے کہا کہ انڈر19 کرکٹ سے آج تک کا صفر بہت چیلنجنگ تھا جس میں کافی اونچ نیچ دیکھنے کو ملیں۔ربادا نے کہا کہ بابر اعظم ایک عظیم بیٹسمین ضرور ہیں، انہوں نے ابھی کوہلی یا ولیمسن جتنی کرکٹ تو نہیں کھیلی لیکن ان میں ان کی طرح کامیاب بیٹسمین بننے کی صلاحیت موجود ہے، امید ہے بابر جتنا زیادہ کھیلیں گے اتنا بہتر کریں گے۔حال ہی میں 200 وکٹیں مکمل کرنے والے جنوبی افریقی بولر نے کہا کہ ان کی ہمیشہ ہی خواہش تھی کہ وہ نمبر ون بولر بنیں اور آج بھی یہی خواہش ہے لیکن کرکٹ شروع کرتے وقت نہیں سوچا تھا کہ فاسٹ بولنگ کے بڑے بڑے ناموں میں ان کا شمار ہوگا۔ربادا نے کہا کہ جارح مزاجی فاسٹ بولر کیلئے اہم ہوتی ہے، ہرکسی کا اپنا انداز ہوتا ہے، بیٹسمین پر پریشر ڈالنے کیلئے ضروری ہے کہ جارح مزاجی پرفارمنس میں ہو، باتوں میں نہیں۔ربادا نے کہا کہ اگر وقار یونس سے ملنے کا موقع ملا تو وہ ان کے تجربہ سے سیکھنے کی کوشش کریں گے، خواہش ہوگی کہ وقار یونس کی ذہانت سے جتنا کچھ حاصل کیا جاسکتا ہو کرلیں۔ جبکہ جنوبی افریقا کے سفیر میتھیو موزلے ماڈیکزا کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان سے دونوں ممالک کے مابین رابطے بحال ہوں گے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ ذاکر خان کے ہمراہ  میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے جنوبی افریقا کے سفیر میتھیو موزلے ماڈیکزا نے کہا کہ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم ایک تاریخی اہمیت کا اسٹیڈیم ہے جہاں جنوبی افریقہ کے نامور کرکٹرز نے کئی ریکارڈز اپنے ملک کے نام کیے ہیں جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمد میں وزیراعظم عمران خان اور بورڈ کے سربراہ کی کاوشیں شامل ہیں۔میتھیو موزلے ماڈیکزا  کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ کے کھلاڑی پاکستان کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے مداحوں کی تعداد میں اضافہ کریں گے، میں اپنی سفارتی ذمہ داریوں کے ساتھ اپنی اورپاکستان کی کرکٹ ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لئے راولپنڈی کرکٹ گراونڈ آیا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان سمیت کئی نامور کھلاڑی میرے پسندیدہ ہیں، بطور سفیر پاکستانی قوم کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ ذاکر خان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش، زمبابوئے، سری لنکا اور اب جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان کرکٹ کے لیئے نیک شگون ہے، ہم نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ ملک میں انٹریشنل کرکٹ کو بحال کریں گے اور اس میں ہم کامیاب ہوگے ہیں۔ذاکر خان نے کہا کہ کرکٹ کی بحالی سے دیگر اسپورٹس کی بحالی بھی ممکن ہوتی ہے، جنوبی افریقہ کے سفیر کو کھلاڑیوں کو فراہم کی جانے والی فول پروف سیکورٹی اور دیگر امور کے بارے اگاہی فراہم کی ہے، سیریز کے دوران کرکٹ بورڈ کے افیشلز سفارت خانے کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔دوسری جانب پی ایس ایل 2021 میں تماشائیوں کومحدود تعداد میں داخلے کی اجازت مل گئی۔ لیگ کے میچزکے دوران اسٹیڈیمز میں 20 فیصد تماشائیوں کو داخلے کی اجازت ہوگی۔ ایونٹ 20 فروری سے 22 مارچ تک کراچی اور لاہور میں جاری رہے گا۔فیصلے کے مطابق اب نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کْل 7500 جبکہ قذافی اسٹیڈیم لاہورمیں کْل 5500 تماشائی ٹکٹیں حاصل کرکے اسٹیڈیم میں بیٹھ کرلائیو ایکشن سے محظوظ ہوسکیں گے۔ اس دوران دونوں ادارے، این سی اوسی اورپاکستان کرکٹ بورڈ، مشترکہ طور پرصورتحال کا مسلسل جائزہ لیتے رہیں گے، جس کے بعد غورکیا جائے گا کہ آیا تین پلے آف میچز اور فائنل کے لیے تماشائیوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے یا نہیں اب جبکہ این سی او سی نے لیگ کے دوران تماشائیوں کو اسٹیڈیم میں داخلے کی اجازت دے دی ہے تو پی سی بی اپنی ٹکٹنگ پالیسی کا اعلان جلد کردیا جائے گا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی کا کہنا ہے کہ وہ این سی او سی کے مشکور ہیں کہ  مداحوں کوسٹیڈیم میں بیٹھ کر براہ راست میچ دیکھنے کی اجازت دینے پر پی سی بی پراعتبار کیا، یہ پی سی بی کی بطور ادارہ کوویڈ 19 پروٹوکولز کی پاسداری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

٭٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -