قبرستان کمیٹیوں کے سفاتر پر قوانین کے برعکس حکومتی شخصیات کے بورڈ آویزاں 

قبرستان کمیٹیوں کے سفاتر پر قوانین کے برعکس حکومتی شخصیات کے بورڈ آویزاں 

  

 لاہور(ڈویلپمنٹ سیل) کریم بلاک، نشتر بلاک، علامہ اقبال قبرستان کمیٹی کے دفاتر پر وزیر اعظم، گورنر پنجاب، وزیر اعلیٰ، وفاقی وزیر اور صوبائی وزیر ہاؤسنگ کے بڑے بڑے تصویروں والے بورڈ لگا دئیے گئے، اس سے پہلے کریم بلاک اور نشتر بلاک قبرستان کمیٹی میں سے پی ٹی آئی مخالف 12ممبران کو قبرستان کمیٹی سے نکال کر پی ٹی آئی کے 8ورکر کو کمیٹی کا ممبر بنایا گیا تھا یاد رہے مئی 2017ء میں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی اکبر شیخ کی ہدایت پر لاہور کے تمام قبرستانوں کی کمیٹیاں نئے سرے سے تشکیل دی گئی تھیں جس میں بلاتفریق کام کرنے والے تمام جماعتوں کے ممبران شامل کئے گئے تھے کریم بلاک، نشتر بلاک قبرستان کمیٹی نے ساڑھے تین سال میں 23کنال سے زائد زمین واگزار کرانے سمیت چار دیواری بنائی اور فری ایمبولینس سروس شروع کی گزشتہ ماہ ممبران نے قبرستان کمیٹی کو آئینی شکل دینے ممبران اور صدر کے اختیارات طے کرنے اور خریداری کے لیے پرچیز کمیٹی بنانے کی تجویز دی جس پر عمل درآمد کرنے کی بجائے کمشنر لاہور کے احکامات کو بنیاد بنا کر وفاقی اور صوبائی وزیر کی مشاورت سے پی ٹی آئی مخالف 12ممبران جن میں رحیم سٹور کے مالک رانا اختر، سہیل بٹ راڈو والے اور سینئر صحافی میاں اشفاق انجم، چوہدری ندیم ظفر، ڈی ایس پی وقار خان،مہر شبیر ہیرو، معظم مفتی، عابد حسین آرائیں، میاں عرفان، چوہدری وسیم شامل تھے کوکمیٹی سے فارغ کر دیا گیا، دلچسپ امر یہ ہے ایک ماہ میں دو کمیٹیاں بنائی گئیں ایک میں ڈپٹی میٹروپولیٹن افسر کو کنوئیر بنا کر کمیٹی بنائی گئی اور دوسرے نوٹیفکیشن میں پہلی دفعہ سب کمیٹی بنا کر چیئرمین نائب صدر جنرل سیکرٹری فنانس سیکرٹری کے عہدے دارپیدا کر لئے گئے، روزنامہ پاکستان نے کمشنر آفس سے دو نوٹیفکیشن کے حوالے سے تصدیق چاہی تو انہوں نے لا علمی کا اظہار کیا  اور کہا یہ سب کچھ ٹاؤن آفس میں ہوا ہے ہم نے انہیں کوئی حکم نہیں دیا۔ کمیٹی کو آئینی شکل دینے صدر اور ممبران کے اختیارات کا تعین کرنے اور معاملات کو شفاف رکھنے کا مطالبہ کرنے والوں کو بغیر بتائے پی ٹی آئی مخالف قرار دے کر کمیٹی سے نکال دیا گیا۔ 

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -