تنازع کشمیر، وزیراعظم کی تقریر، دفتر خارجہ کی وضاحت

تنازع کشمیر، وزیراعظم کی تقریر، دفتر خارجہ کی وضاحت
تنازع کشمیر، وزیراعظم کی تقریر، دفتر خارجہ کی وضاحت

  

دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ جموں و کشمیر تنازع پر پاکستان کے اصولی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں، وزیراعظم نے کوٹلی میں خطاب کے دوران کشمیر پر پاکستان کے اس دیرینہ موقف کا اعادہ کیا، جموں و کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں میں موجود ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کشمیریوں کے حق ِ خود ارادیت کے لئے پاکستان کے دیرینہ موقف اور حمایت کا اعادہ کیا،ترجمان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے بار بار جموں و کشمیر سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں کے بارے میں بات کی ہے اور ان پر عمل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ کے زیر اہتمام آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے جموں و کشمیر تنازعہ کے حل کے لئے پُرعزم ہے۔

ہم نے آج ایک دوسرے موضوع پر لکھنا تھا کہ ہمارے موقف کی پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق قائد حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ نے بھی تائید کی ہے تاہم یوم یکجہتی کشمیر کے روز کوٹلی میں وزیراعظم کے خطاب نے اسے چھوڑ کر کشمیر پر بات کرنے پر مجبور کر دیا ہے، ہمیں اپنے طویل صحافتی کیریئر کے دوران پہلی مرتبہ یہ معلوم ہوا کہ ایک طرف وزیراعظم تقریر یا خطاب کریں اور دوسری طرف اسی روز ان کی تقریر کے حوالے سے سرکاری طور پر وضاحت بھی جاری ہو، اس سے صاف ظاہر ہے،کچھ ایسا ہوا کہ  فوری طور پر دفتر خارجہ کو بھی اپنا فرض ادا کرنا پڑا، چنانچہ آج جہاں وزیراعظم کی طویل تقریر شائع ہوئی، وہاں ساتھ ہی دفتر خارجہ  کی وضاحت بھی ہے۔ ہمارے خیال میں اب یہ پوچھنا واجب ہے کہ دفتر خارجہ، وزیراعظم کے ماتحت اور حکومت ہی کا ایک ادارہ ہے یا پھر اسے ایسی خود مختاری حاصل ہے کہ وہ از خود وزیراعظم کے خطاب کی وضاحت جاری کر دے،کیونکہ اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ وزیراعظم نے ضرور ایسی بات کی کہ یہ ردعمل فوری لازم ہو گیا۔ اگرچہ وزیراعظم کی تقریر کی وضاحت یا تردید اول تو خود ان کو کرنا چاہئے، دوسری صورت یہ ہے کہ وزیراعظم ہاؤس سے خود وزیراعظم کے ترجمان ایسا کریں۔ یوں بھی وزیراعظم اور ایوان وزیراعظم سے منسلک ترجمانوں کا ایک جمِ غفیر موجود ہے اور وہ سب اب اپنا فرض ادا کریں گے اور ایک سے بڑھ کر ایک توضیح کرے گا، شاید اسی لئے دفتر خارجہ نے یہ سوچا کہ معاملہ خارجہ امور اور عالمی سطح پر متنازعہ ایک مسئلہ کا ہے اِس لئے یہ فرض بھی وہی ادا کر دے، ورنہ ترجمان حضرات تو اس وضاحت پر بھی اپوزیشن ہی کی ایسی تیسی کریں گے جیسے یہ بات وزیراعظم کی بجائے اپوزیشن کے کسی مرکزی رہنما نے کی ہو۔

دفتر خارجہ کی وضاحت میں بار بار اقوام متحدہ کا ذکر  اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے بارے میں کہا گیا ہے تو یہ بالکل حقیقت ہے، بہتر ہوتا کہ دفتر خارجہ ان قراردادوں کے حوالے سے یہ بھی بتا دیتا کہ مفہوم کیا ہے اور ان میں کیا کہا گیا کہ 1948ء میں کیا طے ہوا تھا، یہ بالکل واضح ہے اور ریکارڈ پر موجود ہے کہ ان قراردادوں میں کشمیریوں کا یہ حق تسلیم کیا گیا کہ وہ حق ِ خود ارادیت کے تحت رائے شماری کے ذریعے فیصلہ کریں گے کہ وہ بھارت کے  ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ الحاق کی خواہش رکھتے ہیں۔ان قراردادوں میں کوئی تیسرا آپشن موجود نہیں، اگر کبھی کسی نے ایسی بات کی تو خود کشمیریوں کی نمائندہ تنظیم حریت کانفرنس اور دوسری جماعتوں نے اسے ٹھکرا دیا۔ البتہ یہ درست ہے کہ ایک چھوٹا سا طبقہ ایسا ضرور ہے جو خود مختار کشمیر کے موقف کا حامی ہے،لیکن یہ بھی بھارت سے مکمل آزادی چاہتا اور بھارتی ظلم و استبداد کا سامنا کر رہا ہے،لیکن بدیہی حقیقت یہ ہے کہ کشمیر(مقبوضہ  اور آزاد کشمیر) میں جو نعرہ لگتا ہے یہ ہے ”کشمیر بنے گا، پاکستان“ اور مقبوضہ کشمیر میں مظلوم کشمیری مسلسل قربانیاں دیتے ہوئے بھی ہر موقع پر پاکستانی پرچم لہراتے ہیں، جبکہ یہ تحریر بھی ثابت ہے ”کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے“ یہ کسی اور کا نہیں، مملکت ِ خداداد پاکستان کے بانی حضرت قائداعظم محمد علی جناح ؒ کے الفاظ ہیں، اور بھارت کے معاندانہ اقدامات نے بھی یہ ثابت کیا کہ یہی حقیقت ہے۔  بھارت نے5 اگست کے اقدامات کے تحت اب کشمیر (مقبوضہ) کو ہڑپ کر رکھا ہے اور کشمیری حریت پسند قربانیاں دے رہے ہیں ایسے میں اگر وزیراعظم پاکستان خود (تھرڈ آپشن) تیسرے طریقے کی بات کریں تو اس سے سب سے زیادہ خوشی بھارت ہی کو ہو گی اور دُنیا کے سامنے ہمارا موقف کمزور ہو گا، کوٹلی میں وزیراعظم کی تقریر کے بعد ہمارے پیارے دوست سابق صوبائی وزیر اور صوبائی قائد حزبِ اختلاف رانا اکرام ربانی نے کہا ”تھرڈ آپشن“ کس کے لئے؟ کیا امریکہ کو موقع دینا چاہتے ہیں،ان کا موقف ہے کہ تیسری آپشن کا مطلب یہ ہے کہ کشمیر کو آزاد مملکت بنا دیں اور امریکہ کو موقع دیں کہ وہ کشمیریوں کی آزادی کے تحفظ کی خاطر کشمیر میں آ کر بیٹھ جائے۔

ہمیں یاد ہے کہ یہ امریکی تھنک ٹینک ہی ہیں، جن کی تجویز تھی کہ جموں بھارت میں ضم کرکے، وادی کشمیر اور لداخ کے کچھ حصے کو خود مختار ریاست بنایا جائے اور باقی حصہ آزاد کشمیر سمیت پاکستان میں ضم ہو جائے۔اسی تجویز کو لے کر جنرل(ر) پرویز مشرف آگرہ گئے اور اسی کے مطابق تنازع کشمیر کو حل کرنے کی کوشش کی اور بعد میں دعویٰ بھی کیا،لیکن مودی نے تو سوا سال قبل اس سب پر پانی پھیر دیا اور کشمیر کو اسی طرح ٹکڑوں میں تقسیم کر کے ہڑپ کر لیا ہے۔ ہم اس کے لئے تو کچھ نہ کر سکے، لیکن کشمیریوں کو آزادی کا حق دینے پر تیار ہیں، وزیراعظم کی تقریر کے بعد دفتر خارجہ کی وضاحت کام نہیں آئے گی، اس کا عالمی سطح پر اثر ہو گا۔ کیا ہی بہتر ہو کہ حریت کانفرنس کے گیلانی صاحب اس کا جواب دیں۔

مزید :

رائے -کالم -