پیارے ابو جان    

پیارے ابو جان    
پیارے ابو جان    

  

ڈھونڈو گے اگرملکوں ملکوں 

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

دِل گرفتہ بوجھل دل کے ساتھ اپنے عظیم والد محترم رؤف طاہر صاحب کی عظمت پرکہاں سے لکھنا شروع کروں، میرے الفاظ ختم ہو جائیں گے، لیکن ان کی شفقت اور بے لوث محبت کو بیان نہیں کر پاؤں گا۔ میرے محترم والد شفیق باپ کے ساتھ ساتھ بہترین انسان تھے۔ہر رشتے کو نبھانا خوب جانتے تھے، عزیز و اقارب ہوں یا دوست احباب سب کے ساتھ خندہ پیشانی، محبت اور خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آنا ان کے اوصاف میں شامل تھا،جس کی وجہ سے سب ان کے گرویدہ اور دوست ہوجاتے تھے۔والدمحترم کی ہستی ہی ایسی تھی کہ ملنے والا ان کے اخلاق اور خلوص کا دیوانہ ہو جاتا اور بار بار ملنے کی خواہش کے ساتھ عمر بھر کا تعلق بنا لیتا۔

اپنے عظیم باپ کو کن الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کروں ایسی عظیم ہستی،ہر پل ہر لمحہ مسکرانے والے،دوسروں کی مشکل اپنی سمجھ کر اسے حل کرنے والے،والد محترم بے مثال خدمت خلق کرنے کا جذبہ رکھتے تھے۔وہ میرے ساتھ ہی آفس جاتے تھے،طویل مسافت کے باعث ہر موضوع پر ان کے ساتھ گفتگو رہتی۔ زیادہ تر موضوعات سیاسی اور صحافتی ہوا کرتے تھے۔میں ان کی ہی سنتا اور اپنے علم میں اضافہ کرتا رہتا۔وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا انسائیکلوپیڈیا تھے،تاریخ کے دریچوں سے موافقت میں اپنی مثال آپ تھے۔ وہ اپنے نظریات میں پکے تھے، سچے مسلمان، محب وطن، بہترین صحافی،جمہوریت کے پُرزور حامی،ہر وقت باوضو رہنے والے، نماز اور روزے کے پابند،ہمیں بھی ہمیشہ نماز کی تلقین کرتے اور کہتے کہ درود شریف لازمی پڑھا کرو اللہ پاک خاص کرم فرماتا ہے۔

 کہتے ہیں کہ ماں کے قدموں تلے جنت تو باپ جنت کا دروازہ، والدہ محترمہ کا سات برس قبل انتقال ہوا تو ان کے بعد باپ میں ہی ماں کو دیکھا اور والد محترم نے باپ ہونے کے ساتھ ساتھ ماں کی طرح محبت کی،جس طرح ماں اپنے بچوں کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی اسی طرح وہ بھی نہیں دیکھ سکتے تھے،ہم میں سے اگرکسی کو ہلکا سا بخار بھی ہو جاتا تو بار بار پوچھتے اور جب تک ٹھیک نہ ہوجاتے ان کو چین نہ آتا۔ والد محتر م کی صحافتی زندگی مثالی تھی۔

ابو جان گھر میں دوستانہ ماحول رکھتے تھے، مجھے اور بہن کو نام سے، جبکہ چھوٹے بھائی کو چودھری صاحب کہہ کر بلاتے،تو کبھی تینوں کو چاند بیٹا کہتے،اپنی بہو کے ساتھ بھی بالکل بیٹی جیسی شفقت کرتے۔ہماری ابو جان کے ساتھ بہت اُنسیت تھی، ان کا بہت خیال رکھتے تھے، ابو جان کا اوڑھنا پہننا اپنے بچوں کی پسند کے مطابق ہوتا، بہت خوش خوراک تھے،کھانے کے بعد میٹھا ضرور لیتے۔ کھانے کی میز پر گفتگو کے دوران مختلف موضوعات پر بات ہوتی تو ہماری رائے کو بخوبی سنتے اور منطق کے ساتھ اپنی بات کو شامل کرتے۔ ان کی تاریخی معلومات کے خزانے سے ہم سب ہی استفادہ کرتے ہوئے کہتے کہ آپ تو چلتی پھرتی کتاب ہیں۔ان میں بات کرنے کا سلیقہ کمال کا تھا ہر ایک کی ذہنی سطح کا وہ بہت جلد ہی اندازہ لگا لیتے اور اسی کے مطابق ہی بات کا جواب اس انداز میں دیتے کہ مخاطب کو گراں نہ گزرے۔

مجھے پہلے بھی علم تھا، لیکن ان کے جانے کے بعد کچھ لوگوں کی کالز آئیں، جن میں وہ مجھ سے کہہ رہے تھے کہ آپ کے ابو سے ہم کبھی ملے نہیں، لیکن انہوں نے کسی کی وساطت سے ہماری ہر طرح سے مدد کی ہے۔یہ سن کر مجھے ان کی عظمت کا اندازہ شدت سے ہوا کہ انہوں نے کس طرح خدمت خلق میں بڑھ چڑھ کر کا م کیا اور انجان لوگوں کے بھی کام آئے۔ ہمیں بھی صدقہ کرنے کی تلقین کرتے رہتے۔ ہمیشہ کہتے کہ ہم تو اللہ پاک کے دیئے ہوئے میں سے دے رہے ہیں یہ اللہ کا ہی فضل اور توفیق ہے۔

والد محترم کو میں نے ہمیشہ متحرک دیکھا، شام  کو چہل قدمی ان کا معمول تھا، ہمیں بھی کہتے کہ  سہل پسندی نہیں ہونی چاہئے۔ اپنے ہر کام کو خود ہی انجام دیتے، کسی کو بھی چھوٹے سے چھوٹے کام کے لئے بھی زحمت نہ دیتے۔صحافت میں رہتے ہوئے بھی ہمیشہ سادہ زندگی کو اپنائے رکھا اور ایسی عزت کمائی جو بہت کم لوگوں کے حصے میں آتی ہے۔ والد محترم باکردار اور باوقار انسان تھے۔ میرے والد محترم نے اپنے صحافتی تعلقات کو کبھی اپنے ذاتی مفاد کے لئے استعمال نہیں کیا، حالات جیسے بھی ہوں ہمیشہ رزق حلال کمایا اور کھایا، جب میں نے پروفیشنل زندگی شروع کی تو مجھے کہا کہ بیٹا ہمیشہ دیانت اور سچائی کے راستے پر چلنا، صحافت میں دامن بچا کے چلنا کسی جہاد سے کم نہیں، زرق حلال کمانا، اسی میں عزت اور برکت ہے۔ ان کی یہ باتیں ہمیشہ میرے لئے سنہری اصول کی مانند ہیں۔ ہمارے لئے ان کی فکر کا عالم یہ تھا کہ میں اپنے دفتر سے واپسی پر اکثر ابو جان کو ان کے ٹرسٹ دفتر سے گھر کے لئے لے کر جاتا، طے شدہ وقت سے ایک دو منٹ اوپر ہوجاتے تو ان کی کال آ جاتی کہ بیٹا کہاں رہ گئے پہنچے نہیں اب تک، گھر کا بھی معمول ہوتا کہ رات کا کھانا ایک ساتھ کھاتے، اگر ابو جان کہیں مصروف ہوتے تو کھانے کے لئے ان کی واپسی کا انتظار کیا جاتا۔

آخر میں والد محترم کے ان تمام دوستوں کا تہہ دِل سے شکریہ جنہوں نے اپنے کالموں اور پروگرامز میں ان کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا۔ میں نظریہ پاکستان ٹرسٹ اور مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ کا شکر گذار ہوں کہ انہوں نے والد محترم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا۔ جہاں گورنر پنجاب محمد چودھری سرور صاحب نے لیک سٹی میں ایک سڑک کا نام والد محترم کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان بھی کیا۔

بے شک والد محترم ہمارا فخرہیں،وہ ہمیشہ اپنے چاہنے والو ں کے دِلوں میں زندہ رہیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -