ووٹ کو عزت دو

ووٹ کو عزت دو
ووٹ کو عزت دو

  

کیا معاملہ حل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ مولانا نے اپنے تازہ بیان میں گلے شکوے دور کر دیئے ہیں۔ شاید اُن کے گلے شکوے کو قبول کر لیا گیا ہے، سو یہ تھی ووٹ کو عزت دینے کی تمام تر کہانی، سو عقل سے بہرحال بھینس ہی بڑی نکلی اور اب اطمینان سے بلدیاتی اور ضمنی انتخابات کے میدان میں ہونے والے دنگل سے لطف اندوز ہویئے…… ایک صاحب جو لاکھوں انسانوں کی طرح گزشتہ دوسال سے بے کار ہیں، مجھے گھی، چینی، دال، آٹا، صابن، دودھ، روٹی اور دواؤں کی قیمتوں میں اضافے کی اپنے تئیں ہوشربا داستان سُنا رہے تھے۔ مَیں نے اتنی سی عرض کی:”حضرت مَیں روز ناشتہ خریدنے جاتا ہوں اور اب بچوں کو فی کس ایک انڈہ فراہم کرنے کی بجائے بہو کو مشورہ دیتا ہوں کہ ایک بڑا آملیٹ بنا لیا کرو اور بچوں کے سکول کے ناشتے میں ڈبل روٹی کے دو سلائس کے درمیان رکھ کر سینڈ وچ بنا لیا کرو، دو انڈوں سے چار بچوں کا سینڈوچ تیار ہو جائے گا“۔ مَیں نے انہیں سمجھایا کہ یہ مہنگائی کا توڑ نہیں ہے، بلکہ سادگی کا ایک طریقہ ہے،جس کی ہمیں بطور قوم ضرورت ہے، اسی لئے وزیراعظم عمران خان گزشتہ پونے تین سال سے ہمیں بار بار  ریاست ِ مدینہ کی مثال دیتے ہیں کہ اُس دور میں سادگی تھی اور صرف یہی نہیں، بلکہ وہ اس صورتِ حال میں ہماری ہمت بھی بندھاتے ہیں کہ ”ڈرنا نہیں“۔

انہوں نے قوم کو مرغیاں پالنے کا مشورہ اِس لئے نہیں دیا تھا کہ انہوں نے حزب مخالف کے مقابل اصل مرغ پالنے ہیں،بلکہ اِس لئے کہ اگر انڈے مہنگے ہوں تو بائیس کروڑ عوام ان کے  دیسی انڈے کھا سکیں۔ بھینس پالیں اور بازار میں فروخت ہونے والے کیمیکل  ملے دودھ کی جگہ اصلی دودھ پی سکیں۔انہیں اِس بات کا علم ہے کہ ملک کے کونے کونے میں کیمیکل دودھ بک رہا ہے۔ مردہ گوشت اور نہ جانے کن کن جانوروں کا گوشت عوام کھانے پر مجبور ہیں۔ بے چاری انتظامیہ بھی کیا کرے، کہاں کہاں چھاپے مارے،ملک کا موسم زیادہ تر سخت ہوتا ہے،کبھی سخت سردی اور کبھی  سخت گرمی۔ اب سردی میں گرم کمرہ چھوڑ کر کون جائے اور سخت گرمی میں ایئر کنڈیشن کس کے لئے لگائے گئے ہیں،اِس لئے تو نہیں کہ شہری انتظامیہ شہر کی سڑکوں پر مائی تالیاں کی بھٹی میں بھنتے دانوں کی طرح کروٹ پر کروٹ بدلتے رہیں، سو یہ ضروری ہے کہ اُن کی صحت کا خیال رکھا جائے، بلکہ وہ خود اپنی صحت کا خیال رکھیں تاکہ ووٹ کو عزت ملتی رہے۔ایک صاحب مجھے پٹرول، بجلی اور گیس کے گزشتہ پونے تین برس میں بڑھنے والے بلوں کی بابت بتا رہے تھے۔ مَیں نے اُن سے سوال کیا، کیا مرزا غالب، میر تقی میر، اور بڑے بڑے کیمیا دان، حکیم، فلسفی، ماہرین حساب الجبرا، تاریخ دان…… کیا یہ سب  بجلی کے بلبوں کی روشنی میں علم حاصل کرتے رہے، کیا وہ علم کے حصول کی خاطر ہوائی جہازوں، ریل گاڑیوں اور کاروں پر سفر کرتے تھے، اُن کے گھروں اور مکتبوں میں کب گیس کے چولہے جلتے تھے؟

مَیں نے انہیں بھی وزیراعظم کی سادگی اور ”ڈرنا نہیں“ کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اپنے بچوں کو سورچ کی روشنی اور راتوں کو دیے کی لو میں پڑھنے کی عادت ڈالیں، البتہ سکول کی فیسوں کے بارے میں میرے پاس کوئی مشورہ نہیں تھا، سوائے اس کے کہ انہیں مولانا فضل الرحمن کے مدرسوں میں داخل کروا دیا جائے۔حکومت مولویوں کے لئے وظیفے کا انتظام کرنے والی ہے، ممکن ہے اس سے مزید نئے مدرسے کھلنے کے امکانات پیدا ہو جائیں اور یہ جو دوسے تین کروڑ تک بچے سکولوں سے باہر گلی محلوں میں اودھم مچاتے پھرتے ہیں،سائیکلوں، موٹر سائیکلوں، ورکشاپوں، تھڑے والے ہوٹلوں پر مزدوری کرتے نظر آتے ہیں تو ان کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ مدرسوں میں تعلیم بھی مل جائے گی اور مولانا فضل الرحمن کی زیر قیادت ووٹ کو عزت دلوانے کے مرحلے میں قوی کردار ادا کرنے کے  بھی قابل ہو سکیں گے۔گزشتہ چند روز سے نہ جانے کیوں پی ڈی ایم، اخبارات کے صفحے پر کم نظر آ رہی ہے۔ سندھ میں تو خیر بختاور کی شادی اور ڈینیئل پرل کے قاتلوں کی رہائی نے میڈیا کو گرفت میں لے رکھا تھا، لیکن پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھی راوی چین ہی لکھتا رہا۔ سیالکوٹ میں سابق وزیر دفاع کو دفاعی جنگ کا سامنا تھا، حکومت بضد ہے کہ مسلم لیگ(ن) والے قبضہ گروپ ہیں،جبکہ  مسلم لیگ(ن) کا کہنا ہے کہ ان کی محنت اور حلال سے حاصل کی گئی سینکڑوں کنال پر مشتمل اراضی کے حوالے سے حکومت انتقامی کارروائی کر رہی ہے۔ کھوکھر پیلس کے بعد سیالکوٹ کی ہاؤسنگ سوسائٹی کے حوالے سے حکومتی کارروائیوں کی مذمت جاری رہے گی،جس طرح پی ڈی ایم ووٹ کو عزت دلوانے کی مہم جاری رکھے گی۔

مزید :

رائے -کالم -