ایک زندگی، نیک زندگی 

 ایک زندگی، نیک زندگی 
 ایک زندگی، نیک زندگی 

  

 کورونا نے جن نئی عادتوں کا اسیر بنا دیا ہے اُن میں صبح ہی صبح ایک نجی یونیورسٹی کی دہلیز پہ ماتھا ٹیکنے کی رسم بھی شامل ہے۔ ماتھا ٹیکنے سے شاید آپ غلط فہمی کا شکار ہو جائیں۔ مراد یہ تھی کہ جب ’آن لائن‘ کی بجائے سچ مچ کلاسیں ہو رہی ہوں تو یونیورسٹی گیٹ میں داخل ہونے سے پہلے آپ لحظہ بھر کو گاڑی روکتے ہیں۔ ایک چاک و چوبند گارڈ آپ کی طرف لپکتا ہے اور ایک ممتحن کی تیکھی نظر سے دیکھتا ہے کہ آنے والا ناک منہ کو ماسک سے ڈھانپے ہوئے ہے یا نہیں۔ ساتھ ہی الیکٹرانک تھرما میٹر آپ کے ماتھے پر اور اگلے گارڈ کو اشارہ کہ بیرئر اٹھا دو۔ اِس عمل میں چند سیکنڈ سے زیادہ وقت نہیں لگتا، لیکن وہ جو کبھی ٹھنڈے اور کبھی گرم تالاب میں نہانے والے ایک شخص نے اپنے خالی حوض کے متعلق کہا تھا:”کسی دن نہانے کو جی نہیں بھی چاہتا‘‘۔ بدھ کے دن میرے ساتھ یہی ہوا۔

 اول تو گیٹ پہ مامور واحد گارڈ کچھ تھکا ماندہ دکھائی دے رہا تھا۔ مَیں نے البتہ حسبِ معمول تپاک سے سلام کیا۔ جواب میں احترام سے زیادہ اجنبیت کا تاثر ملا۔ دل نے کہا ”نواں آیا ایں، سوہنیا؟“۔ ساتھ ہی ونڈ اسکرین کی طرف اشارہ کیا جس پہ یونیورسٹی کا شناختی ٹوکن چسپاں تھا۔ گارڈ نے حیرت سے پوچھا ”کیا کام ہے؟“ ”یار، مَیں پڑھاتا ہوں“۔ “کون سے ڈپارٹمنٹ میں؟“ یہ سوچ کر کہ سکول آف لبرل آرٹس اینڈ سوشل سائنسز اِس کے لئے مشکل ہوگا، مَیں نے کہہ دیا ”میڈیا“۔ گارڈ نے لفظ دہرایا ”میڈیا“، مگر یوں جیسے اُسے یقین نہ آیا ہو۔ بیرئر کھولنے کا اشارہ دینے ہی والا تھا کہ مَیں نے پوچھ لیا: ”کیا آج ٹمپریچر چیک نہیں ہوگا؟۔ ”وہ بھی کر لیتے ہیں، سر“۔ گارڈ نے کچھ وقت لگا کر دُور ایک میز سے تھرمامیٹر اٹھایا اور نبض کو لگا کر کہنے لگا ”ٹھیک ہے“۔ اِس نیم دلانہ کارروائی پر مجھے بھی چُہل سوجھی۔ اب کے مکالمہ زیادہ مزے کا تھا۔

 ”درجہ ء حرارت کتنا نکلا ہے؟“ ”ہیں جی، کیا پوچھ رہے ہیں؟“ ”درجہء حرارت؟۔۔۔ ٹمپریچر، یہ جو ابھی آپ نے چیک کیا“۔ گارڈ نے آلہ دوبارہ میری نبض پہ رکھا اور تین چار سیکنڈ گزرنے پر انگلش میں کہا ”تھرٹی تھری“۔ ”اچھا، یہ تو فارن ہائیٹ میں لگتا ہے، سنٹی گریڈ میں بتائیں“۔ مَیں نے یہ نکتہ نیم سنجیدگی سے چھیڑا تھا۔ جواب ملا ”یہ بھی تھرٹی تھری ہے“۔ اب پوچھنا تو یہ چاہیے تھا کہ دونوں اعداد یکساں کیسے ہو گئے۔ پر اُس سوال کا کیا فائدہ جس سے آپ کی اپنی فنکاری کمپرومائز ہو جائے۔ مَیں نے فوج دار ی وکیلوں کے مافِک اپنی جرح کو ایک اَور ٹرن دیا ”اچھا یہ بتائیے کہ کتنا ٹمپریچر ہو تو وہ ٹھیک ہوتا ہے اور اُس سے زیادہ ہو تو پھر آپ اندر نہیں جانے دیتے؟“ گارڈ بے بسی کی تصویر بن گیا۔ تب تک بیرئر اُٹھ چکا تھا۔ عافیت اندر جانے میں سمجھی، مگر منہ سے نکلا ”فیک چیکنگ“۔ 

 صدرِ شعبہ کے کمرے میں حالیہ سمسٹر کے رزلٹ کو حتمی شکل دی جا رہی تھی، لیکن اپنا ذہن تو کسی اَور طرف الجھا ہوا تھا۔ یہی کہ پہلی بار کسی کے منہ سے ’فیک‘ کی اصطلاح کب سنی اور کِس کے ضمن میں۔ دوسرے اردو میں ’فیک‘ کا متبادل کیا ہو سکتا ہے۔ نجی درسگاہ سے فارغ ہو کر میری اگلی منزل وطنِ عزیز کی قدیم ترین سرکاری یونیورسٹی تھی۔ راستے میں اچانک خیال آیا کہ ابھی تو ساڑھے بارہ ہوئے ہیں اور مین لائبریری میں بُک کلب کا اجلاس، جہاں میرا نثری مجموعہ ’یار سرائے‘ ڈاکٹر ہارون عثمانی کی گفتگو کا موضوع ہے، دو بجے شروع ہوگا جس میں ڈیڑھ گھنٹہ باقی ہے۔ اب شوکت خانم ہسپتال چوک کو نہر سے ملانے والی دو رویہ سڑک پر سیدھے ہاتھ جو دیکھا تو سماجی فاصلے کی پاسداری کرتی ہوئی میکڈونلڈ کی رنگا رنگ چھتریاں غذائی کارروائی کی دعوت دے رہی تھیں۔ چکن برگر اور کافی آپ کے سامنے ہو تو ذہن خوب کھُلتا ہے۔ حافظے میں لہر سی اُٹھی کہ یہ لفظ سالہا سال ہوئے میرے سامنے پہلی بار والد مرحوم کی زبان سے ادا ہوا تھا اور وہ بھی دفتر میں اپنے دستِ راست کے بارے میں۔

 ”عجیب عادتیں ہیں اُن کی۔ کل ہی پتا چلا کہ اِس دفعہ چھٹی کے دن واہ سے پنڈی جا کر الگ الگ سنیما گھروں میں تین فلمیں دیکھیں، یعنی لگاتار ایک کے بعد دوسری اور پھر تیسری“۔ میری ہنسی نکل گئی ”واقعی عجیب بات ہے لیکن اِس کی کوئی وجہ تو ہوگی“۔ ”ایک روز خود ہی کہہ رہے تھے کہ ابا ایک گشتی سرکس کے مالک تھے، جس میں ناچ گانا بھی ہوا کرتا۔ بس وہیں سے نوعمری میں سنیما اور تھیٹر کی چاٹ لگ گئی۔“ خود مجھے ناپسندیدہ لوگوں میں بھی تسلی و تشفی کا کوئی نہ کوئی پہلو ڈھونڈ نکالنے کی خواہش رہتی ہے۔ چنانچہ پوچھا ”شاہ صاحب دفتری کام میں تو اچھے ہی ہوں گے“۔ ”یہ بھی سُن لو۔ دوپہر کا کھانا گھر سے کھا کر واپس آتے ہیں تو آتے ہی پندرہ منٹ لگا کر وضو، وضو کر کے ظہر کی لمبی نماز اور کچھ نوافل و وظائف۔ پھر ڈیڈ فائلیں بغل میں دبا کر کبھی شیخ کا دفتر، کبھی بٹ صاحب کا کمرہ۔ چھٹی ہونے پر اگر دیکھا کہ چیف ایڈمنسٹریٹر ابھی تک کام کر رہے ہوں تو یہ بھی پلندے سامنے رکھ کر بیٹھ جائیں گے اور اُن کے گھر جانے تک کچھ نہ کچھ کرتے رہیں گے۔ بالکل فیک آدمی ہے‘‘۔

 کافی ختم ہونے سے پہلے مَیں ’فیک‘ کے کچھ اردو تراجم بھی سوچ چکا تھا۔ مثال کے طور پہ مصنوعی، بناوٹی، جعلی وغیرہ۔ پھر خیال آیا کہ یہ سب ہیں تو کار آمد الفاظ، لیکن اِن کے پیچھے ایک شعوری کوشش دکھائی دیتی ہے۔ انگریزی اصطلاح کا اردو متبادل بے ساختہ اور رواں ہونا چاہیے۔ اسی سوچ میں آہستہ آہستہ منزل مقصود پر پہنچ گئے۔ ڈھنگ سے کار پارک کی، مگر عمارت کے اندر داخل ہونے کے لئے پینڈو پروڈکشن ہونے کے ناتے سے اپنا لائبریری کارڈ ’کھُل جا سم سم‘ والی راہداری کی درز میں ڈالنے کی بجائے اسٹاف کو تھما دیا۔ اوپر لکھا تھا: ’فیکلٹی، کیٹگری ’اے‘۔ استقبالی عملے کے رکن نے میری طرف یوں دیکھا جیسے کوئی صاحبِ اختیار کسی فیک آدمی کو دیکھتا ہے۔ کارڈ پہ میری تصویر کے ساتھ یہ الفاظ درج ہیں: فیکلٹی، کیٹگری ’اے‘۔ سوال ہوا ”آپ پروفیسر ہیں یا ٹیچر؟“ سبحان اللہ، شاید اُس کی مراد وزٹنگ ٹیچر سے تھی۔ مَیں نے تائید میں کہا: ”دو نمبر پروفیسر“۔ وہ چُپ کا چُپ رہ گیا کہ لگدا تے نئیں پر خبرے۔ مجھے لگا کہ مقامی زبانوں کی اِس نئی اصطلاح نے میرا ترجمے کا مسئلہ حل کر دیا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -