کیا یہی ہیں جمہوریت کے اثرات؟

کیا یہی ہیں جمہوریت کے اثرات؟
کیا یہی ہیں جمہوریت کے اثرات؟

  

وزیرداخلہ شیخ رشید احمد کی دھمکیوں سے ان کا تو کچھ نہیں جائے گا، حکومت ختم ہوئی تو وہ کسی اور جماعت کی حمایت شروع کر دیں گے، البتہ کپتان کا دورِ حکمرانی ایک فاشسٹ دور کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا۔ ابھی دو روز پہلے ہی سپریم کورٹ کے دو معزز جج صاحبان نے جو ریمارکس دیئے ہیں، وہ حالات کی سنگینی کو آشکار کر گئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ملک کو ایک منصوبہ بندی سے تباہ کیا جا رہا ہے۔ جو حکومت کی حمایت میں بولے وہ محب وطن اور جو مخالفت کرے وہ غدار قرار دیا جاتا ہے۔ میڈیا آزاد نہیں اور میڈیا آزاد نہ رہے تو ملک ٹوٹ جاتے ہیں۔ ایسے میں وزیرداخلہ کا یہ بیان کہ اپوزیشن نے قانون کو ہاتھ میں لیا تو وہ سلوک کروں گا، جو تاریخ میں یاد رکھا جائے گا، کیا وزیراعظم عمران خان کو خبر ہے کہ ان کی کابینہ میں کیسے کیسے لوگ موجود ہیں۔ جمہوریت کا راگ الاپنے سے تو بات نہیں بنتی جب تک اسے عملاً ایک طرزِ عمل کے طور پر اختیار نہ کیا جائے۔ کیا پاکستان کی تاریخ میں کسی وزیرداخلہ نے ایسا بیان، ایسی دھمکی دی ہے جو شیخ رشید احمد ایک جلسے میں انتہائی غصے بھرے انداز میں دے گئے ہیں۔ کیا سیاسی اپوزیشن کو ایسی دھمکی دی جا سکتی ہے، جو صرف ملک دشمن مافیاز کو دی جانی چاہیے، اپوزیشن نے کہاں یہ کہا ہے کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لے گی، وہ تو پُرامن طور پر جلسے کر رہی ہے اور اب اس نے 26مارچ کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔ ایک چھوٹی سی غلطی ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے خلاف جاری تحریک کے دوران اپنی کرسی کے ہتھے پرمکا مار کے اس وقت کی تھی جب یہ کہا تھا کہ کرسی مضبوط ہے، وہ اپوزیشن کو دیکھ لیں گے۔ اس غلطی کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑا۔ شیخ رشید احمد کی اس نظام میں کیا حیثیت ہے کہ وہ ایسا آمرانہ بیان دیں۔ کیا واقعی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی یہ بات درست ہے کہ ملک کو تباہ کیا جا رہا ہے؟

سنجیدہ حلقوں نے تو اسی وقت شیخ رشید احمد کو وزارت داخلہ دینے پر تحفظات کا اظہارکیا تھا۔جب کپتان یہ فیصلہ کر رہے تھے۔ ایک شخص، جسے ہر وقت خبروں میں رہنے کا خبط ہو، وہ اس اہم وزارت کے تقاضوں کو کیسے سمجھ سکتا ہے۔ اس وزارت میں بڑھک مارنے والا درحقیقت پوری حکومت کے چہرے کو بدنما بنا دیتا ہے۔ آپ وزیر اطلاعات ہوں تو جو مرضی کہتے رہیں، اسے صرف آپ کی رائے سمجھا جائے گا، لیکن وزیرداخلہ جب ایسا بیان ہے کہ اپوزیشن کو نشان عبرت بنا دوں گا تو صورتِ حال انتہائی خرابی سے دوچار ہو جاتی ہے۔ اسے حکومت کی پالیسی سمجھاجاتا ہے کہ وہ اپوزیشن کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں اور اسے ریاستی طاقت سے دبانا چاہتی ہے۔ ایسا تو فوجی آمروں کے دور میں بھی کسی وزیرداخلہ نے نہیں کہا، جیسا شیخ رشید احمد جمہوریت میں کہہ رہے ہیں کیا یہ کپتان کو خوش کرنے کی حکمت عملی ہے؟ یا انہیں شیخ رشید اپنی شاعرانہ سیاسی چالوں سے بے وقوف بنا رہے ہیں۔ ریلوے کا بیڑہ غرق کرنے کے بعد جمہوریت کو داغدار کرنے کے اس عمل سے وہ کسے فائدہ پہنچا رہے ہیں اور کس کی راہ ہموار کررہے ہیں؟

وقت گزر جاتا ہے لیکن اس کے اچھے یا بُرے اثرات یاد رہتے ہیں۔ سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی عیسیٰ فائز نے صحافیوں کے ذریعے میڈیا کی آزادی کے حوالے سے جو ”ریفرنڈم“ کرایا، اس کا نتیجہ حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔ وہاں موجود صحافیوں نے ہاتھ کھڑا کرکے یہ گواہی دی کہ آج میڈیا آزاد نہیں ہے۔ ایک جمہوری دور میں یہ حکومت پر سب سے بڑا الزام ہوتا ہے کہ اس نے میڈیاکی آزادی کو یقینی نہیں بنایا۔ جسٹس قاضی عیسیٰ فائز کی یہ بات بڑی اہم ہے کہ اپنے من پسند لوگوں سے تعریف سن کر خوش ہونے والوں کو اپنا نفسیاتی علاج کرانا چاہیے۔ سچ سامنے آنے کا پیمانہ چھوٹا بڑا ہو سکتا ہے، مگر سچ سامنے آکر رہتا ہے، یہی وزیراعظم اپنی انتخابی مہم کے دوران میڈیا کو آزادی دینے کے بلند بانگ دعوے کرتے تھے۔ آج مختلف قدغنیں لگا کر سچ چھپانے کی کوششوں کے الزام کی زد میں ہیں۔ سونے پہ سہاگہ حکومت کا وزیرداخلہ  ایسے بیانات دے رہا ہے جو مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بھی نہیں دیتے رہے۔ ویسے تو شیخ رشید احمد خود کو ایک منجھا ہوا سیاستدان کہتے ہیں، سرد و گرم چشیدہ ہونے کے دعویدار ہیں، مگر دوسری طرف وہ اتنی سی بات بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ سیاسی تحریکوں کو دھمکیوں سے جلا ملتی ہے، ختم نہیں کیا جا سکتا۔ جلتی پر تیل ڈالنے کا محاورہ شاید شیخ رشید احمد نے نہ سنا ہو، تبھی تو وہ اپنے بیانات سے اپوزیشن کی تحریک کو ہوا دے رہے ہیں۔

ملک میں سیاسی تناؤ کو ٹھنڈا اور نرم کرنے کی فی الوقت اشد ضرورت ہے، مگر دیکھنے میں آیا  ہے کہ یہ تناؤ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے سیاسی ٹھہراؤ پیدا کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی جا رہی۔ قومی اسمبلی کے اندر بھی اس کے وزراء اور مشیر اپوزیشن کے بچھائے ہوئے جال میں آکر ماحول کو گرمانے کا باعث بن جاتے ہیں۔ لڑائی مار کٹائی کے مناظر دیکھ کر قوم کس قدر اپنے اداروں سے مایوس ہوتی ہے۔ شاید طبقہ اشرافیہ کو اس کا اندازہ نہیں۔ یہ عجیب دور ہے کہ جس میں حکومت اور نہ ہی اپوزیشن کے اندر احساس زیاں موجود ہے۔ غالباً یہی وہ صورت حال ہے جسے سامنے رکھ کر سپریم کورٹ کے جج صاحبان نے یہ کہا ہے کہ ملک کو منظم انداز سے تباہ کیا جا رہا ہے۔ پارلیمنٹ عملاً ختم ہو چکی ہے کہ اس میں اب انتشار کے سوا کچھ نہیں رہا، میڈیا پابندیوں کی زد میں ہے، ادارے عدم فعالیت کی آخری حدوں کو چُھو رہے ہیں اور ملک کا وزیرداخلہ اپوزیشن کو نشانِ عبرت بنانے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ کیا یہی ہے جمہوریت، کیا یہی ہیں جمہوریت کے اثرات؟

مزید :

رائے -کالم -