جوبائیڈن تنازع کشمیر میں حل کرانے میں ثالثی کا کردار ادا کریں:صدر آزاد کشمیر

جوبائیڈن تنازع کشمیر میں حل کرانے میں ثالثی کا کردار ادا کریں:صدر آزاد کشمیر

  

 اسلام آباد (آئی این پی) آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے امریکہ میں صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کملا ہیرس کے اقتدار میں آنے کے بعد کشمیریوں میں مسئلہ کشمیر کے حل کی امید پیدا ہوئی ہے کیونکہ نئے امریکی صدر اور نائب صدر نے اپنی انتخابی مہم کے دوران مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کیخلاف کھل کر اظہار خیال کیا تھا۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کیساتھ یکجہتی کے اظہار کیلئے واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے اور امریکہ،پاکستان ویلفیئر ایسوسی ایشن، پاکستانی ہائی کمیشن لندن، تحریک کشمیر ڈنمارک، کشمیر کونسل سویڈن، پاکستان ہائی کمیشن اوٹاوہ،کینیڈا اور اوسلو،ناروے میں پاکستان کے سفارتخانے کے زیر اہتمام علیحدہ علیحدہ ویبینار سے خطاب کر تے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا مسئلہ کشمیر کے پرامن سیاسی حل کیلئے پاکستان اور جموں وکشمیر کے عوام کسی بھی تیسرے فریق کی ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کریں گے بشرطیکہ ثالثی کے عمل میں جموں وکشمیر کے عوام کو بنیادی فریق کے طور پر شامل کیا جائے۔ اس مقصد کیلئے امریکہ کے صدر عالمی اثر و رسوخ رکھنے والی کسی بھی معتبر شخصیت کو ثالث نامزد کر سکتے ہیں۔ صدر آزادکشمیر نے امریکی صدر سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ اقوام متحدہ میں اپنے مستقل نمائندے کو ہدایت کریں کہ وہ سلامتی کونسل کی جموں وکشمیر کے حوالے سے قراردادوں پر عملدرآ مد کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ مقبوضہ جموں وکشمیر اسلام مخالف سرگرمیوں (اسلامو فوبیا) کا سب سے بڑا مرکز بن گیا ہے۔ لندن میں پاکستان کے سفارتخانے کے زیر اہتمام ویبی نار جس میں برطانوی پارلیمنٹ کے پچاس سے زیادہ ارکان نے واشگاف الفاظ میں آزادی اور حق خودارادیت کیلئے جدوجہد کرنیوالے مقبوضہ کشمیر کے عوام سے یکجہتی کا کھل کر اظہارکیا۔ صدر آزادکشمیر نے برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان کا شکریہ ادا کیااور برطانوی حکومت سے کہا وہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو متحرک کرے۔ اوسلو ناروے میں ویبی نار سے خطاب میں سردار مسعود خان کا کہناتھا بھارت پاکستان کے درمیان کشیدگی سے جنگ کے خطرات گہرے ہو گئے ہیں۔تحریک کشمیر ڈنمارک اور کشمیر کونسل سویڈن کے ویبی نار سے خطاب میں انکا کہنا تھا بھارت دنیا کو بتا رہا ہے وہ مقبوضہ کشمیر میں دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑرہا ہے اور آزادی و حق خودارادیت کا مطالبہ کرنیوالے پرامن کشمیریوں کو دہشت گرد، اُن کی سیاسی و سفارتی حمایت کرنیوالے پاکستان کو دہشتگردوں کی مدد کرنیوالا ملک بنا کر پیش کر رہا ہے،بھارت ڈس انفارمیشن سیل قائم کر رکھے ہیں جن میں ایک نیٹ ورک ڈس انفو لیب یورپ نے بے نقاب کیا ہے۔

صدر آزادکشمیر 

مزید :

صفحہ آخر -