وفاقی حکومت کی انرجی پالیسی پر ہمیں اعتراضات ہیں:وزیر اعلیٰ سندھ

وفاقی حکومت کی انرجی پالیسی پر ہمیں اعتراضات ہیں:وزیر اعلیٰ سندھ

  

 حیدرآباد(بیورو رپورٹ)وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے جو انرجی پالیسی بنائی ہے اس پر سندھ کو اعتراضات ہیں ہماری تجاویز کو شامل نہیں کیا گیا، مشترکہ مفادات کونسل میں مردم شماری سمیت سندھ کے کئی مسائل زیر التوا ہیں، 9 فروری کو ہٹڑی بائی پاس حیدرآباد پر  پیپلزپارٹی کی میزبانی میں پی ڈی ایم کا تاریخی جلسہ عام ہو گا، جلسہ تاریخی ہو گا میں نے ذاتی طور پر انتظامات کا جائزہ لیا ہے تا کہ عوام کو مشکلات نہ ہوں۔وہ پی ڈی ایم کے جلسہ گاہ کا جائزہ لینے اور انتظامی حکام سے شہباز ہال حیدرآباد میں بریفنگ  کے بعد اخبار نویسوں سے گفتگو کر رہے تھے۔وزیراعلی سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ڈویژنل و ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ٹریفک کے انتظامات ایسے کریں کہ  عام لوگوں کو تکلیف نہ ہو، متبادل راستوں پر ٹریفک کی روانی کو یقینی بنایا جائے  انہوں نے کہا کہ وفاق نے جو انرجی پالیسی بنائی تھی اس پر سندھ کو اعتراضات ہیں کیونکہ ہم نے  کچھ تجاویز بھی دی تھیں جنہیں شامل نہیں کیا گیا،  وفاقی حکومت  غیرآئینی کام کرنا چاھتی تھی  کہ بجلی کے بلوں پر ڈیٹیکشن اور اوور بلنگ کریں،  پہلے صوبے کو  75 ارب روپے کے بل جاری کئے جب اس پر نظرثانی کی گئی تو یہ  صرف 27 ارب روپے نکلے، انہوں نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل میں ہمارے بہت سے مسائل زیر التوا ہیں جس میں سندھ کی مردم شماری بھی شامل ہے، مردم شماری میں سندھ کی گنتی ٹھیک نہیں کی گئی ہے جس کے بارے میں ہمارے پاس ثبوت ہیں، انہوں نے کہا کہ اس کا سہرا  پی پی پی کے سر  ہے کہ اس  نے صوبوں کو 2010 میں متفقہ این ایف سی ایوارڈ دیا تھا جبکہ موجودہ حکومت میں  نظرثانی شدہ این ایف سی ایوارڈ آنا مشکل ہے کیونکہ اس حکومت کو  آئین  اور  قانون کاکچھ پتہ نہیں، انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ ایک متفقہ دستاویز ہوتا ہے جبکہ پی ٹی ائی میں کوئی  متفقہ سوچ نہیں، انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت آج کل صرف غیرآئینی کاموں پر توجہ دے رہی ہے  آج سے دو دن پہلے وہ غیرآئینی طور پر ایک آئینی ترمیم لانا چاہ رہی تھی جس میں سینیٹ میں اوپن بیلیٹنگ، دوہری شہریت بھی شامل تھی ان کو  معلوم ہے کہ اتحادیوں کو ملا کر  ان کے پاس بمشکل سادہ اکثریت ہے  اور وہ بھی ان سے ناراض  ہیں جنہیں منانے کے لیے آج کل وزیراعظم خود بھی بھاگ دوڑ  کررھے  ہیں ایسے میں ائینی ترمیم پیش کرنا مذاق تھا   انہوں نے کہا کہ آئینی ترمیم لانے کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے جس میں تمام سیاسی پارٹیوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہوتا ہے، انہوں نے قومی اسمبلی میں رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر کے ساتھ حکومتی بینچوں سے  بدتمیزی کی سخت مذمت کی، انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری یہ صاف طور پر کہہ چکے ہیں کہ ان شااللہ اس حکومت سے جلد نجات حاصل کر لیں گے۔

مزید :

صفحہ اول -