کورونا وائرس پر قابو پانے کے بعد تعلیمی ادارے کھل رہے ہیں:ڈاکٹر شیراز

کورونا وائرس پر قابو پانے کے بعد تعلیمی ادارے کھل رہے ہیں:ڈاکٹر شیراز

  

  ایبٹ آباد(بیورو رپورٹ)پبلک ہیلتھ ایسوسی ایشن خیبر پختون خوا کے ڈاکٹر شیراز خان نے کہا ہے کہ بنیادی صحت پر توجہ دینے سے کبھی بھی عالمی وبا کی صورت میں نظام جام کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی،دنیا کے جن ممالک نے اس پر عمل کیا وہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران ذیادہ مسائل میں مبتلا نہیں ہوئے، پاکستان میں کورونا وبا پر قابو پانے کے بعد تعلیمی ادارے کھل رہے ہیں وہاں طلبہ اور اساتذہ کو بنیادی صحت کے حوالہ سے تربیت دینے کی ضرورت ہے،تاکہ بچوں کے زریعے وائرس کی منتقلی کی روک تھام یقینی بنائی جاسکے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایبٹ آباد پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا،اس موقع پر سابق ایم پی آمنہ سردار،ڈاکٹر صائمہ،ڈاکٹر ارم اور دیگر بھی موجود تھے،ڈاکٹر شیراز خان کا کہنا تھا بچے دوسروں کو وائرس منتقل کر سکتے ہیں،چونکہ وبا ابھی ختم نہیں ہوئی،ویکسی نیشن کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے اس کے لئے پرائمری ہیلتھ کیئر ضروری ہے،اگر اس پر عمل کریں تو سکولز بند کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی،اس کے لئے  ضروری ہے کہ محکمہ صحت اساتذہ کی تربیت کرے، تاکہ وہ بچوں کو بتا سکیں اور بچے گھروں تک آگاہی دیں،انہوں نے کورونا وبا کے پھیلا کو روکنے کے لئے تجویز دی کہ سکولز میں کلاسز کی درجہ بندی کی جائے اور رش کم کرنے کے لئے الگ الگ اوقات کار رکھیں جائیں اور اسی طرح سکولز کے ہاسٹلز میں احتیاطی تدابیر اختیار کر نے کیلئے ضرورت ہے،انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ویکسی نیشن کے عمل میں میڈیا عوام میں آگاہی پیدا کرے تاکہ ذیادہ سے ذیادہ ویکسینیشن سے وبا  ختم کرنے میں مدد ملے،اس کے لئے ضروری ہے کہ ملک کے 90فیصد افراد کو لگائی جائے،اس موقع پر سابق ایم پی اے آمنہ سردار کا کہناتھا خود کو وبا کے ساتھ چلنے کے لئے تیار کرنا پڑے گا اب ضروری ہے کہ اس کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جائے بچوں کو بتائیں اس سے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں،انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے بعد سکولز کھلنے پر بچوں کی دماغی صحت پر اثر پڑا ہے عادت میں بدلا سے ان کو ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے اور عام آدمی کو زندگی کے اطوار تبدیل کرنے کے لئے آگاہی کی ضرورت ہے اور اس عمل میں میڈیا کاکردار اہم ہے۔انہوں نے کورونا وبا کے دوران ڈاکٹرز پیرا میڈیکس اور میڈیا کو فرنٹ لائن کردار ادا کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -