فتنوں کے مقابلے میں اس وقت جذبہ صدیقی کی زیادہ ضرورت‘ خالد محمود ازھر

 فتنوں کے مقابلے میں اس وقت جذبہ صدیقی کی زیادہ ضرورت‘ خالد محمود ازھر

  

خانیوال (نمائندہ پاکستان)سیدنا صدیق اکبر امت کے محسن، امت مسلمہ کی گنتی سیدنا صدیق اکبر سے شروع ہوتی ہے، فتنوں کے مقابلے کے جذبہ صدیقی کی ضرورت ہے، خلفاء راشدین کے ایام سرکاری سطح پر منائے جائیں، سرکاری سطح پر ملک بھر میں تعطیل، اور خلفاء راشدین کا تذکرہ اور ان کے مثالی دور کو نصاب تعلیم کا حصہ بنایا جائے، ریاست مدینہ کے قیام (بقیہ نمبر15صفحہ 6پر)

کے خلفاء راشدین کی اصلاحات کو نافذ کیا جائے، حکمران سادہ طرز زندگی اختیار کریں۔ان خیالات کا اظہار ڈائریکٹر اسلامک ریسرچ سنٹر ڈاکٹر مفتی خالد محمود ازھر نے اسلامک ریسرچ سنٹر خانیوال کے زیراہتمام جامع مسجد نور شاہین ٹاون میں خلیفہ بلافصل سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیدنا صدیق اکبر ؓ امت مسلمہ کے محسن اور اول المسلمین ہیں، مسلمانوں کی گنتی سیدنا صدیق اکبر سے شروع ہوتی ہے۔آج ایک ارب سے زائد مسلمانوں کی بنیاد سیدنا صدیق اکبر ؓہیں رسول ؐ کے ساتھ ساٹھ سالہ طویل رفاقت، سفر وحضر میں آپ ؐ کی خدمت، اپنے سارے مال کو حضورؐ کے قدموں پر نچھاور کرنا، اعلان نبوت سے قبل حضور اکرمؐ  کی نبوت کی تائید و حمایت کا جذبہ اور واقعہ معراج کی تصدیق وہ اعزازات جن میں صدیق اکبر یکہ وتنہا ہیں، سفر ہجرت میں حضرت محمد ؐ سب سے بڑا اعزاز ہے، سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی لازوال محبت اور بے مثال قربانیوں کی بدولت رسول ؐ نے صدیق اکبر کو اپنا اور امت مسلمہ کا محسن قرار دیا، مرض الوفات سیدنا صدیق اکبرؓ  کو اپنا مصلی عنایت فرما کر امت کی قیادت کی طرف اشارہ فرمایا، منصب خلافت پر متمکن ہوتے ہی سیدنا صدیق اکبر نے رسول رحمت کے نقش قدم پر چلنے کا اعلان اس انداز میں فرمایا کہ جو رسولؐ کے دور میں جوصدقات دیئے جاتے تھے اگر ان میں سے کوئی ایک جانور کی رسی بھی کم کرے گا تو اس کی گنجائش نہیں دی جائے گی، منکرین ختم نبوت منکرین زکوۃ اور مانعین زکوۃ کا مقابلہ کرنے کے لئے یہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا کہ ہمارے جیتے جی  کوئی دین میں تبدیلی کرے یہ ناممکن ہے، اسی جذبے کی بنیاد پر منکرین ختم نبوت اور مانعین زکوۃ کا قلع قمع ہوا اور اسلام کا ڈنکا چہار دانگ عالم میں بجا، سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مذہبی سکالرزمولانا سلمان نذیر، مولانا اسلم حقانی نے کہا خلیفہ اول سیدنا صدیق اکبر ؓ نے اپنے دور خلافت میں سادگی اور رعایا پروری کی عمدہ مثالیں قائم کیں بیت المال سے اپنا وظیفہ مدینہ کے عام مزدور کی اجرت کے برابر مقرر کیا، بلاتفریق رعایا کی خدمت کی اعلی مثالیں قائم کیں، اپنے پہلے خطبہ میں عدل و انصاف مساوات انسانی کا ایسا عمدہ اصول بیان فرمایا کہ کسی کو کسی کی حق تلفی کی جرات نہیں ہوئی، سیمینار مولانا عبدالسلام ساقی، ملک مظفر بشیر، حافظ محمد عبداللہ حماد ودیگر علماء نے بھی خطاب کیا۔

خالد محمود ازہر

مزید :

ملتان صفحہ آخر -