آن لائن امتحانات کا مطالبہ،مظفر گڑھ:سٹوڈنٹس کا احتجاج،پولیس سے تصادم،متعدد زخمی،سرکاری موٹرسائیکل نذر آتش

آن لائن امتحانات کا مطالبہ،مظفر گڑھ:سٹوڈنٹس کا احتجاج،پولیس سے تصادم،متعدد ...

  

 مظفرگڑھ (بیورو رپورٹ‘ تحصیل رپورٹر) آن لائن امتحانات کا مطالبہ کرنے والے طلباء نے روڈ بلاک کردیا،مذاکرات کے لیے آنے والے 4 پولیس اہلکاروں پر تشدد کر کے زخمی کردیا،مشتعل طلباء  نے پولیس کے موٹرسائیکل کو بھی آگ لگادی، احتجاج کے باعث مسافر رل گئے،کئی ایمبولینسز ٹریفک میں پھنس گئیں.بعدازاں مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد 4 گھنٹوں بعد روڈ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گی (بقیہ نمبر54صفحہ 6پر)

ہے۔ تفصیلات کیمطابق گورنمنٹ پوسٹ گرایجویٹ کالج مظفرگڑھ کے طلباء نے ڈیرہ غازی خان بائی پاس پر احتجاج کرکے روڈ کو ٹریفک کے لیے بلاک کردیا،پولیس مذاکرات کے لیے پہنچی تو مشتعل طلباء  نے پولیس اہلکاروں پر ڈنڈوں سے حملہ کردیا اور پولیس کی ایک موٹرسائیکل کو بھی آگ لگادی.طلباء کے حملے میں ایک اے ایس آئی سمیت 4 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے،اس موقع پر ایک طالبعلم بھی زخمی ہوا،تصادم کے بعد اسسٹنٹ کمشنر مظفرگڑھ رانا محمد شعیب،ایس پی انوسٹی گیشن جاوید احمد،ڈی ایس پی صدر فاروق احمد،تحصیلدار صاحبزادہ ظفر مہاروی،5 تھانوں کے ایس ایچ اوز اور پولیس اور ایلیٹ کی بھاری نفری بھی حفاظتی سامان اور آنسوگیس کے شیلز کے ہمراہ پہنچ گئی،ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے نمائندوں نے مظاہرین سے متعدد بار مذاکرات کیے اور انھیں سمجھانے کی کوشش کی،مگر طلباء  کا مطالبہ تھا کہ انکے پیپرز آن لائن لیے جائیں تاکہ سال ضائع نہ ہو اور طلباء  پر تشدد کرنے والے اہلکاروں کو معطل کیا جائے،مذاکرات کی ناکامی کے بعد گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے پرنسپل پروفیسر مسعود اختر اور دیگر پروفیسرز نے بھی طلباء  سے مذاکرات کیے اور انھیں یقین دہانی کرائی کہ انکے مطالبات کے حوالے سے یونیورسٹی کو سفارشات بھیجی جائیں گی،پروفیسرز،ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی یقین دہانیوں کے بعد طلباء  نے 4 گھنٹوں بعد روڈ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا،4 گھنٹوں تک روڈ بلاک ہونے کے باعث ڈیرہ غازی خان روڑ پر ٹریفک کی لمبی لائنیں لگی رہیں،مسافر رل گئے اور کئی ایمبولینسز بھی ٹریفک میں پھنسی رہیں۔

احتجاج

مزید :

ملتان صفحہ آخر -