بھارت میں کرائم برانچ کا بنگلے پر چھاپہ، اندر جا کر دیکھا تو فحش فلم کی شوٹنگ چل رہی تھی اور ۔۔ انتہائی حیران کن خبر آ گئی 

بھارت میں کرائم برانچ کا بنگلے پر چھاپہ، اندر جا کر دیکھا تو فحش فلم کی شوٹنگ ...
بھارت میں کرائم برانچ کا بنگلے پر چھاپہ، اندر جا کر دیکھا تو فحش فلم کی شوٹنگ چل رہی تھی اور ۔۔ انتہائی حیران کن خبر آ گئی 

  

ممبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن )کرائم برانچ نے ’ مڈ آئی لینڈ ‘ میں واقع بنگلے پر چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے فحش فلمیں بنانے والے ریکٹ کو بے نقاب کر دیاہے اور ایک خاتون کو بازیاب بھی کروا لیاہے ۔

تفصیلات کے مطابق کرائم برانچ کے پراپرٹی سیل کی جانب سے بنگلے پر چھاپہ مارکارروائی کی گئی جس دوران گھر سے پروڈکشن ہاﺅس کے پانچ افراد کو گرفتار کیا گیاہے جن میں فوٹر گرافر اور گرافک ڈائزئنر دو خواتین بھی شامل ہیں جو کہ فحش فلم کی عکسبندی کرنے میں مصروف تھیں ۔ بھارتی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے کہاہے کہ مدھ آئی لینڈ میں واقعہ بنگلوں میں جسم فروشی اور فحش فلموں کی عکسبندی سے متعلق شکایات موصول ہو رہی تھیں جسے سامنے رکھتے ہوئے یہ کارروائی عمل میں لائی گئی ۔

پولیس کو اس بات نے حیران کر دیا کہ فحش فلمیں بنانے والے ریکٹ میں دو خواتین بھی شامل تھیں جو کہ نوجوان لڑکیوں کو فلم انڈسٹری میں چانس دلوانے کا لالچ دے کر ان سے مکروہ عمل کروا رہی تھیں ۔چھاپہ مارکارروائی کے دوران 25 سالہ لڑکی کو بھی بازیاب کروایا گیاہے جسے بحالی کے مرکز بھجوا دیا گیاہے ۔

پولیس نے تمام پانچوں افراد کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے کارروائی کا آغاز کر دیاہے جبکہ پروڈکشن ہاﺅس کے تمام بینک اکاﺅنٹس کو بھی منجمند کر دیا گیاہے جن میں 36 لاکھ روپے کی رقم موجود تھی جو کہ فحش فلموں کی آن لائن نشریات سے حاصل کی گئی تھی۔ چھاپہ مار کارروائی کے دوران پولیس نے قیمتی ترین ڈی وی آر ویڈیو کیمرہ ، چھ موبائل فونز، لیپ ٹاپ ، سپاٹ لائٹ ، کیمرہ سٹینڈ، میمری کارڈ قبضے میں لے لیے ہیں جن میں متعدد ویڈیو کلپس موجود تھے ۔

سینئر پولیس انسپکٹر کیداری پاور نے بتایا کہ ہمیں معلومات حاصل ہوئیں کہ یہ گینگ نئے چہروں کو فلموں میں رول دلوانے کے بہانے سے اشتہارات شائع کر رہا ہے ، یہ لوگ لڑکیوں کو بنگلوں میں لے جاتے اور ان سے غیر اخلاقی سین عکسبند کرواتے اور پھر انہیں کمائی کا لالچ دے کر کنٹریکٹ سائن کرنے کیلئے دباﺅ ڈالتے کہ وہ ہمارے ساتھ فحش فلموں میں کام کریں ۔

فحش ویڈیوز کے عوض فی کس پانچ سے 15 ہزار روپے دیئے جاتے تھے جس کے بعد یہ ویڈیوز مختلف ایپس اور سوشل میڈیا سائٹس پر اپ لوڈ کی جاتی تھیں جہاں سے یہ گینگ لاکھوں روپے کماتا تھا ، ریکارڈ سے معلوم ہوتاہے کہ یہ گینگ گزشتہ ڈیڑھ سال سے مصروف عمل ہے ۔

مزید :

بین الاقوامی -