دجال کی شکل اور جسم کیسا ہوگا؟ احادیث کے مطابق وہ کس نسل سے ہوگا اور زمین پر کتنے دن تک شر پھیلائے گا؟

دجال کی شکل اور جسم کیسا ہوگا؟ احادیث کے مطابق وہ کس نسل سے ہوگا اور زمین پر ...
دجال کی شکل اور جسم کیسا ہوگا؟ احادیث کے مطابق وہ کس نسل سے ہوگا اور زمین پر کتنے دن تک شر پھیلائے گا؟
سورس:   Wikimedia Commons

  

حضرت ابوامامہؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور ایک لمبی تقریر فرمائی، اس میں دجال کا حال بھی بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب سے اللہ تعالیٰ نے اولادِ آدم کو پیدا کیا ہے، اس وقت سے اب تک دجال کے فتنے سے بڑھ کر کوئی فتنہ پیدا نہیں فرمایا۔ تمام انبیا اپنی امتوں کو دجال سے خوف دلاتے رہے ہیں، چونکہ تمام انبیا علیہم السلام کے آخیر میں، میں ہوں، اور تم بھی آخری امت ہو اس لیے دجال تمھیں لوگوں میں پیدا ہوگا۔ اگر وہ میری زندگی میں ظاہر ہو جاتا تو میں تم سب کی جانب سے اس کا مقابلہ کرتا، لیکن چونکہ وہ میرے بعد ظاہر ہو گا اس لیے ہر شخص اپنے نفس کی جانب سے اپنا بچاؤ کر لے گا۔ اللہ میری جانب سے اس کا محافظ ہوگا۔ سنو! دجال شام و عراق کے مابین مقام خُلّہ سے ہوگا اور اپنے دائیں بائیں ملکوں میں فساد پھیلائے گا۔ اے اللہ کے بندو! ایمان پر ثابت قدم رہنا۔ میں تم کو اس کی وہ حالت سناتا ہوں، جو مجھ سے پہلے کسی نے بھی بیان نہیں کی۔ پہلے تو وہ نبوت کا دعویٰ کرے گا، تو پھر کہے گا، میں خدا ہوں، تم مرنے سے پہلے خدا کو نہیں دیکھ سکتے۔ پھر دجال کیسے خدا ہوا؟ اس کے علاوہ وہ کانا ہوگا تمہارا رب کانا نہیں۔ اس کی پیشانی پر ک،ف،ر، (یعنی کفر یا کافر) لکھا ہوگا، جسے ہر مومن عالم ہو یا جاہل سب پڑھ لیں گے۔

 حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’پس جب دجال ویرانے پر سے گزرے گا تو اسے حکم دے گا کہ اپنے خزانے نکال، تو اس کے خزانے اس کی ایسی اتباع کریں گے، جیسے شہد کی مکھیاں اپنے سردار کی اتباع کرتی ہیں۔‘‘

دجال یہودیوں کی نسل سے ہوگا جس کا قد ٹھگنا ہو گا. دونوں پاؤں ٹیڑھے ہوں گے ۔ جسم پر بالوں کی بھر مار ہوگی۔ رنگ سرخ یا گندمی ہو گا۔ سر کے بال حبشیوں کی طرح ہوں گے۔ ناک چونچ کی طرح ہو گی۔ بائیں آنکھ سے کانا ہو گا۔ دائیں آنکھ میں انگور کے بقدر ناخنہ ہو گا۔

دجال کی سواری بھی اتنی بڑی ہو گی کہ اسکے دونوں کانوں کا درمیانی فاصلہ ہی چالیس گز کاہو گا. وہ ایک قدم میں تاحد نگاہ مسافت کو طے کرلے گا۔ دجال پکا جھوٹا اور اعلیٰ درجہ کا شعبدے باز ہو گا۔ اس کے پاس غلوں کے ڈھیر اور پانی کی نہریں ہوں گی۔ زمین میں مدفون تمام خزانے باہر نکل کر شہد کی مکھیوں کی مانند اس کے ساتھ ہولیں گے۔ جو قبیلہ دجال کی جھوٹی خدائی پر ایمان لائے گا، دجال اس پر بارش برسائے گا جس کی وجہ سے کھانے پینے کی چیزیں ابل پڑیں گی اور درختوں پر پھل آجائیں گے۔

دجال کی رفتار آندھیوں سے زیادہ تیز اور بادلوں کی طرح رواں ہو گی۔ وہ کرشموں اور شعبدہ بازیوں کو لے کر دنیا کے ہر ہر چپہ کو روندے گا۔ زمین پر دجال کے شر و فساد کا زمانہ چالیس روز تک رہے گا، جن میں سے ایک دن ایک سال کے برابر، ایک دن ایک مہینہ کے برابر، ایک دن ایک ہفتہ کے برابر، باقی دن عام دنوں کے برابر ہوں گے۔

دجال مکہ معظمہ میں گھسنا چاہے گا مگر فرشتوں کی پہرے داری کی وجہ سے ادھر گھس نہ پائے گا۔ اس لئے نامراد وذلیل ہو کر واپس مدینہ منورہ کا رخ کرے گا۔ اس وقت مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازے پر فرشتوں کا پہرا ہو گا۔ لہذا یہاں پر بھی منہ کی کھانی پڑے گی۔

انہی دنوں مدینہ منورہ میں تین مرتبہ زلزلہ آئے گا۔ جس سے گھبرا کر بہت سارے بے دین شہر سے نکل کر بھاگ نکلیں گے۔ باہر نکلتے ہی دجال انہیں لقمہ تر کی طرح نگل لے گا۔

آخر ایک بزرگ دجال سے بحث و مناظرہ کے لئے نکلیں گے اور خاص اس کے لشکر میں پہنچ کر اس کی بابت دریافت کریں گے۔ لوگوں کو اس کی باتیں گستاخی معلوم ہوں گی۔ لہذا اس کے قتل کا فیصلہ کریں گے مگر چند افراد آڑے آکر یہ کہہ کر روک دیں گے کہ ہمارے خدا دجال  کی اجازت کے بغیر اس کو قتل نہیں کیا جاسکتا۔

چنانچہ اس بزرگ کو دجال کے دربار میں حاضر کیا جائے گا جہاں پہنچ کر یہ بزرگ چلا اٹھے گا : "میں نے پہچان لیا کہ تو ہی دجال ملعون ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تیرے ہی خروج کی خبر دی تھی۔”

دجال اس خبر کو سنتے ہی آپے سے باہر ہو جائے گا اور ۔۔۔

ہماری مزید تاریخی اور دلچسپ ویڈیوز دیکھنے کیلئے "ڈیلی پاکستان ہسٹری" یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

مزید :

روشن کرنیں -