دجال کی جنت اور جہنم کا کیا مطلب ہوگا؟احادیث کی کتب میں کتنی مرتبہ دجال کا ذکر ہے اور وہ شام و عراق کے مابین کس علاقے سے ہوگا؟

دجال کی جنت اور جہنم کا کیا مطلب ہوگا؟احادیث کی کتب میں کتنی مرتبہ دجال کا ...
دجال کی جنت اور جہنم کا کیا مطلب ہوگا؟احادیث کی کتب میں کتنی مرتبہ دجال کا ذکر ہے اور وہ شام و عراق کے مابین کس علاقے سے ہوگا؟
سورس:   StockSnap

  

دجال کے معنی ہیں حقیقت کو چھپانے والا، سب سے بڑا دھوکے باز اور چالباز۔ دجال کا مادہ دجل ہے جس کے معنی ہیں خلط ملط کر دینا، تلبیس یعنی شیطانی چالوں سے دوسروں کو دھوکے میں ڈالنا، ملمع سازی کرنا، حقیقت کو چھپانا، جھوٹ بولنا اور غلط بیانی کرنا۔ گویا دجال میں یہ تمام منفی اوصاف پائے جاتے ہیں۔ اسلامی اصطلاح میں دجال سے مراد جھوٹا مسیح ہے جو قیامت کی اہم نشانیوں میں سے ایک ہے۔ وہ آخری زمانے میں ظاہر ہوگا اور نبوت اور خدائی کا دعویٰ کرے گا۔

دجال پیدا ہوچکا ہے، جب اللہ کو منظور ہوگا اس وقت اس کا ظہور ہوگا، دجال کوایک جزیرے میں قید کرکے رکھا گیا ہے، جیسا کہ صحیح مسلم میں فاطمہ بنت قیس کی روایت میں مذکور ہے اور حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا سبب بھی یہی ہوا کہ انہوں نے ایک جزیرہ میں دجال سے بات چیت کی اور پھر مدینہ آکر اسلام قبول کیا۔ حضرت تمیم داری کی دجال سے ملاقات کا احوال ہم اپنی ایک الگ ویڈیو میں بیان کرچکے ہیں، آپ ڈیلی پاکستان ہسٹری کے یوٹیوب چینل پر "صحابی رسول کی دجال سے ملاقات کا قصہ، کیا بات ہوئی" کے عنوان سے یہ ویڈیو ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

احادیث میں دجال کی علامت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ ایک آنکھ سے کانا ہوگا، اور دوسری آنکھ بالکل سپاٹ ہوگی،بیچ میں ” ک ف ر“ اور بعض روایات کے مطابق” کافر“ لکھا ہوا ہوگا، اس کے ساتھ جنت اور جہنم کے مشابہ جنت اور جہنم ہوگی، جس نے اس کی جنت کو اختیار کیا ، در حقیقت اس نے جہنم کو اختیار کیا اور جس نے اس کی جہنم کو اختیار کیا اس نے درحقیقت جنت کو اختیار کیا۔۔۔ قیامت کے قریب پہلے حضرت امام مہدی کا ظہورہوگا اس کے بعد دجال نکلے گا، اس کے ہوتے ہوئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے اور اسے قتل کریں گے۔

خروج دجّال کے متعلق عقیدہ رکھنا کتنا اہم اور فتنۂ دجّال کی کتنی اہمیت ہے، اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ حدیث کی تمام مستند کتابوں میں اس کا ذکر تواتر سے موجود ہے۔ امام بخاری نے دجّال پر ایک خصوصی باب مختص کیا ہے اور صحیح بخاری میں 51 مرتبہ دجّال کا ذکر آیا ہے۔ صحیح مسلم میں بھی دجّال پر ایک باب قائم ہے اور صحیح مسلم میں لفظ دجّال 65 مرتبہ مذکور ہے۔ سنن ابی دائود اور جامع ترمذی میں بھی دجّال پر ابواب موجود ہیں اور ان دونوں مجموعہ ہائے احادیث میں لفظ دجّال بالترتیب 28اور 33مرتبہ آیا ہے۔ سنن ابن ماجہ میں لفظ دجّال 18 مرتبہ، مسند احمد میں 206 مرتبہ، مؤطا امام مالک میں 5 مرتبہ آیا ہے۔ امام ابو یعلیٰ، امام بزار، امام طبری، امام ابن ماجہ، امام ہیثمی رحمہم اللہ کے اپنے اپنے مرتب کردہ مجموعہ ہائے احادیث میں دجّال کا لفظ اتنی بار مذکور ہے کہ اس کی حیثیت ایک ذخیرے کی سی ہے اور ان کا شمار کرنا تقریباً ناممکن امر ہے۔ امام حاکم، امام قرطبی، نعیم بن حماد، ابن کثیر، علامہ برزنجی اور شیخ یوسف مقدسی کے مرتب کردہ مجموعہ ہائے احادیث میں بھی دجّال سے متعلق کثرت سے روایات موجود ہیں۔

اللہ کے جتنے بھی نبی اس دنیا میں تشریف لائے ہیں سب نے ہی اپنی اپنی امتوں کو دجال کے فتنے سے خبردار کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی امت کو اس فتنے کے ہر خدوخال سے آگاہ کیا ہے۔ اس کی تصدیق حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے ...

ہماری مزید تاریخی اور دلچسپ ویڈیوز دیکھنے کیلئے "ڈیلی پاکستان ہسٹری" یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

مزید :

روشن کرنیں -