محمد رضوان، منجھے ہوئے وکٹ کیپر بیٹسمین  

محمد رضوان، منجھے ہوئے وکٹ کیپر بیٹسمین  
محمد رضوان، منجھے ہوئے وکٹ کیپر بیٹسمین  

  

محمد رضوان نے بلا شبہ ہر فارمیٹ میں بطور وکٹ کیپر بیٹسمین اپنا لوہا منوا لیا ہے۔یہ ٹیسٹ میچ میں چھے سال بعد کسی پاکستانی وکٹ کیپر بیٹسمین کی سنچری تھی۔ سیریز میں ایک بڑی اننگز کی ان سے توقع کی جارہی تھی اور وہ توقع راولپنڈی ٹیسٹ میں پوری ہوئی۔ 

پاکستان کی پہلی اننگز میں بابر اعظم اور فواد عالم کی جانب سے بہترین بلے بازی کی وجہ سے ان سے دوسری اننگ میں بھی بہترین کھیل کی توقعات وابستہ تھیں، خاص کر فواد عالم سے کہ وہ اس سیریز میں ایک اور بہترین اننگ کھیلیں گے تاہم بدقسمتی سے محض 76 رنز سکور بورڈ پر سجے تھے کہ پاکستان کے ٹاپ پانچ بیٹسمین پویلین کی راہ دیکھ چکے تھے۔ ایسے مشکل وقت میں محمد رضوان کا کریز پر آنا اور میچ سیونگ اننگ کھیلنا کسی منجھے ہوئے بلے باز کی نشانی ہے۔ 

نوجوان وکٹ کیپر بیٹسمین نے گراؤنڈ کے چاروں جانب عمدہ سٹروکس کھیلے اور اپنی تکنیک کا کمال دکھایا۔ یہ پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ میچ میں نوجوان وکٹ کیپر کی پہلی سنچری تھی،اب تک 13 ٹیسٹ میچوں میں چالیس سے زائد کی اوسط سے وہ سات سو سے زیادہ رنز بنا چکے ہیں،امید ہے کہ وہ ایسی عمدہ پرفارمنسز کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ٹیم میں اپنی جگہ مزید پکی کرلیں گے۔ 

پاکستان کی پہلی اننگز میں فہیم اشرف نے بابر اعظم کے بعد سکور بورڈ چلائے رکھا تاہم وہ دوسری اننگ میں بڑا سکور کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے مگر ان کی کمی لیفٹ آرم سپنر نعمان علی نے بخوبی پوری کی اور محمد رضوان کے ساتھ 97رنز کی پارٹنرشپ قائم کی۔ ٹیسٹ میچ میں بڑی اننگز کھیلنے کے لیے بڑی شراکت داریاں نہایت اہمیت کی حامل ہوتی ہیں تب ہی ایک اچھا ٹوٹل سکور بورڈ کی زینت بن سکتا ہے۔  نعمان علی نے پورے اعتماد کے ساتھ وکٹ کیپر بیٹسمین کا ساتھ دیا اور سکور دو سو ترانوے تک پہنچا دیا اور پاکستان اپنی برتری تین سو  69رنز تک لے جانے میں کامیاب ہوا۔

آخری سیشن میں جنوبی افریقی بلےبازوں نےپراعتماد آغاز کیا۔پاکستانی باؤلرز دن کے اختتام تک صرف ایک ہی وکٹ حاصل کرسکےمگر پاکستانی ٹیم اور خصوصاً پاکستانی باؤلرز کو اس سےہرگز دل برداشتہ نہیں ہوناچاہیئے،راولپنڈی ٹیسٹ کاآخری روزیقیناًفیصلہ کن ہوگا، جو ٹیم پہلا سیشن اچھا گزار گئی فتح اس کا مقدر ٹھہرے گی، اگر پاکستانی باؤلرز پہلے سیشن میں تین سے چار وکٹیں لینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو میچ میں کم بیک کی توقع کی جاسکتی ہے۔ خاص کر سپنرز یاسر شاہ اور نعمان علی سے شائقین بہت سی توقعات لگائے بیٹھے ہیں۔

پانچویں روز جنوبی افریقہ کے لیے سیریز بچانے کا آخری موقع ہوگا،اگر وہ وکٹیں بچانے میں کامیاب رہا تو وہ یہ سکور باآسانی کرکے جیت اپنے نام کرسکتاہے۔ اب بال پاکستانی باؤلرز کے کورٹ میں ہے وہ اگر اٹیکنگ فیلڈ اور گیم پلان کے ساتھ باؤلنگ کرتے ہیں تو جلد وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکیں گے اور نتیجہ پاکستان کے حق میں رہے گا، دوسری صورت میں جنوبی افریقی بلے باز پانچویں روز بھی پاکستانی باؤلرز پر حاوی ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔  

  اب پی ایس ایل سےجڑی کچھ خبروں کی بات کریں تو پہلی خبر تو شائقین کرکٹ کےلیےنہایت خوشی کی خبرہےجس میں وفاقی ادارےنیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر نے پی ایس ایل مقابلوں کے دوران بیس فی صد تماشائیوں کو کرکٹ سٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی ہے۔اس فیصلے کی رو سے قذافی سٹیڈیم لاہور میں پانچ ہزار پانچ سو جب کہ نیشنل سٹیڈیم کراچی میں سات ہزار پانچ سو شائقین کرکٹ سٹیڈیم میں لائیو میچ دیکھ سکیں گے۔ یہ خبر شائقین کرکٹ اور ملکی کرکٹ کے حوالے سے بلاشبہ بہت بڑی خبر ہے۔

دوسری خبر ہے تو خوشی کی مگر شدید عوامی ردعمل نے اسے خوشی کے بجائے مایوسی کی خبر بنا ڈالا ہے۔ پی ایس ایل کے چھٹے سیزن کے آفیشل گانے "گروو میرا" کو ریلیز ہونے کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر شدید عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس میں یقیناً پی سی بی کی مارکیٹنگ ٹیم  بری طرح ناکامی کا شکار ہوئی ہے۔ گزشتہ دو سیزن میں بھی پی ایس ایل کے آفیشل گانے کو لے کر یہ تماشے ہوئے ہیں، گویا پی سی بی کی مارکیٹنگ ٹیم اس حوالے سے کسی بھی قسم کی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے تواتر سے اپنے گزشتہ تجربات سے کچھ بھی نا سیکھنے کا پکا عزم کیے ہوئے ہے۔ بجائے اس کے کہ آفیشل گانے کو کوئی سینئر اور سنجیدہ آرٹسٹ سے گائے۔ متنازع اور غیر سنجیدہ نو آموز آرٹسٹوں کے گانے گانے سے نا صرف پی ایس ایل کا مارکیٹنگ بجٹ ضائع کیا جارہا ہے بلکہ ایسےگانے بطور ادارہ پی سی بی کی جگ ہنسائی کا باعث بھی بن رہے ہیں جس پر مارکیٹنگ ٹیم کو سوچنا چاہئیے اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو سنجیدہ کوششیں کر کے اس طرفہ تماشے کو روکنا چاہئیے۔

     نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

کھیل -بلاگ -