اپوزیشن جماعتیں سنجیدگی کے ساتھ صدر کے مواخذے کا لائحہ عمل تیار کریں، سردار اختر مینگل نے حکومت مخالف جماعتوں کو مشکل میں ڈال دیا 

اپوزیشن جماعتیں سنجیدگی کے ساتھ صدر کے مواخذے کا لائحہ عمل تیار کریں، سردار ...
اپوزیشن جماعتیں سنجیدگی کے ساتھ صدر کے مواخذے کا لائحہ عمل تیار کریں، سردار اختر مینگل نے حکومت مخالف جماعتوں کو مشکل میں ڈال دیا 

  

کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)بلوچستان نیشنل پارٹی کےسربراہ سرداراختر جان مینگل  نےکہاہےکہ آئین میں ترمیم صدارتی آرڈیننس کےذریعےممکن نہیں ہے، حکومت آرڈیننس اور آرڈیننس  فیکٹری کے سہارے چل رہی ہے،سینیٹ اور قومی اسمبلی کےاجلاسوں کےدوران آرڈیننس جاری کرنےپرصدرمملکت کے خلاف آئین کی خلاف ورزی کا مقدمہ ہونا چاہئے،اپوزیشن جماعتیں سنجیدگی کے ساتھ صدر کے مواخذے کا لائحہ عمل تیار کریں۔

میڈیاسےگفتگو کرتےہوئےسرداراخترمینگل کاکہناتھاکہ آئین میں ترمیم صدارتی آرڈیننس کےذریعےنہیں کی جا سکتی،حکومت سینیٹ انتخابات خفیہ کی بجائے اوپن بیلٹ کےذریعےکرواناچاہتی ہے،یہ آئینی ترمیم سےہی ممکن ہے،اس مسئلےپرحکومت نےسپریم کورٹ سےرائےطلب کی تھی جسےسپریم کورٹ نے مستردکردیاتھا،اوپن بیلٹ سےانتخابات صرف اورصرف آئینی ترمیم سےہی ممکن ہے۔

انہوں نےکہاکہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کےاجلاسوں کےدوران صدارتی آرڈیننس جاری کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے،صدر اگر ایسے آرڈیننس جاری کریں تو ان کےخلاف آئین کی خلاف ورزی کےحوالےسےمقدمہ ہوناچاہئے۔سرداراخترمینگل نےکہاکہ اگرطاقتورحلقوں کےخلاف آرٹیکل6کےحوالےسےکارروائی نہیں کی جا سکتی تو کم از کم صدر مملکت کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہئے،اپوزیشن کو سنجیدگی کے ساتھ صدر کے مواخذے کا لائحہ عمل تیار کرنا ہو گا ۔

مزید :

علاقائی -بلوچستان -کوئٹہ -